تازہ ترین
کشمیر میں سختی کیساتھ کورونا لاک ڈاءون جاری
وادی کشمیر میں گذشتہ 28روز سے جاری کورونالاک ڈاءون میں ملک گیر لاک ڈاءون کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر مزید سخت کردیا گیا ہے ۔ سخت ترین بندشوں اور پابندیوں کیساتھ پوری وادی میں جہاں ہر طرح کی سرگر میاں مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں ،وہیں ہر سو دہشت ،خاموشی ،سنا ٹا ،اضطراب اور ہو کا عالم بھی ہے ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جان لیواء کورونا وائرس کے پھیلاوَ کو روکنے کےلئے وادی کشمیر میں بدھ کومسلسل 28 ویں روز بھی مکمل لاک ڈاوَن جاری رہنے سے تمام تر معمولات زندگی ٹھپ رہے ۔ دارالحکومت سرینگر کے سبھی علاقوں کے بازار بے رونق اور سڑکیں سنسان ہیں ،لوگ گھروں میں ہی سہمے ہوئے بیٹھے ہیں ۔ وادی کے دیگر ضلع و تحصیل صدر مقامات سے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات ہیں ، جہاں دفعہ144 سختی سے نافذ ہے اور لوگ گھروں میں ہی محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔
کورونا وائرس متاثرین میں مسلسل اضافہ کے نتیجے میں خانیارسے خادنیار تک سراسمگی،تناءو اور کشیدگی کا ماحول جاری ہے،جس میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے ۔ لوگوں میں خوف اور اضطرابی کیفیت پائی جارہی ہے،اور لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے کترا رہے ہیں ۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں جہاں لاک ڈاءون کو کامیاب بنا کر سماجی دوری کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرر ہے ہیں ، وہیں کئی جگہوں سے فورسز اور پولیس پر لوگوں کو بے جا تنگ وطلب اور ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کئے جا رہے ہیں ۔
سڑکوں ،بازاروں ،تجارتی مراکز،مالیاتی اداروں ،نجی و سرکاری دفاتروں ،تعلیمی اداروں حتیٰ کہ مساجدوں اور خانقاہوں کے علاوہ دیگر عبادتگاہوں میں بھی خاموشی کا عالم ہے ۔ لاک ڈاوَن کو ممکن بنانے کے لئے سڑکوں اور گلی کوچوں میں لگائی گئی پابندیاں سخت ترین کرفیو کا منظر پیش کررہی ہیں ۔ تاہم لوگ بھی وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے خود بھی گھروں تک ہی محدود ہیں اور دوسروں کو بھی گھروں میں ہی بیٹھنے کی تاکید کررہے ہیں ۔ شہر میں ہر سو خوف وخاموشی کا ماحول چھایا ہوا ہے، کرفیو جیسی پابندیاں برابر نافذ ہیں ، سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے جگہ جگہ ناکے بٹھارکھے ہیں ،جہاں پر آنے جانے والوں خواہ وہ موٹر سائیکل پر سوار ہو یا گاڑی میں ہو، کو روک کر پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔ پولیس اور فورسز نے اندرونی سڑکوں کو بھیسیل کیا تھا،جبکہ خار دار تاروں اور بکتر بند گاڑیوں سے سڑکوں پرکسی بھی طرح کی آمد ورفت کو مسدود کرکے رکھ دیا ہے ۔
اس صورتحال کے نتیجے میں ہر گلی اور سڑک ویران اور بازار صحرائی مناظر پیش کر رہے ہیں ۔ سرینگر شہر میں ہر سو عجیب و غریب ماحول اور کیفیت میں خاموشی دیکھنے کو ملی ۔ پیچیدہ صورتحال کی وجہ سے ہو کا عالم ہے ۔ ادھرانتظامیہ وادی میں ریڈ زون قرار دیے جارہے ،علاقوں کو مکمل سیل کررہی ہے اور لوگوں کو گھروں میں ہی بیٹھے رہنے کے لئے اپیلوں اور لاٹھیوں کے استعمال کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ جن علاقوں کو اب تک ریڈ زون قرار دیا گیا ہے ان میں داخل ہونے والے راستوں کو لوہے کی موٹی سلاخوں سے سیل کیا گیا ہے اور کسی کو اندر جانے یا باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق کئی علاقوں میں لوگوں نے خود ہی اپنے محلوں میں داخل ہونے والوں راستوں کو بند کیا ہے تاکہ اجنبی لوگوں کی ان میں داخل ہونے کو روکا جاسکے ۔
جن علاقوں میں پولیس تعینات ہیں ہے یا پولیس کی چوکیاں قائم نہیں ہیں ، ان میں نوجوان رضاکارانہ طور پر جنتا لاک ڈاوَن نافذ کرنے کے لئے متحرک ہوئے ہیں ۔ تاہم سوشل میڈیا پردونوں طرح کا طریقہ کار بحث کا موضوع بن رہا ہے ۔ انتظامیہ اور عام لوگوں کی جانب سے جس طرح ریڈ زون قرار دئے گئے علاقوں کو سڑکیں کود کر لوہے کی موٹی سلاخوں سے سیل کیا جارہا ہے ،اُسے احمقانہ فعل قرار دیا جارہا ہے ۔ کئی صارفین نے ٹویٹر اور فیس بک پر اس معاملے کو بحث کا موضوع بنا یا اور انتظامیہ سے پوچھا آگ یا صحت ایمر جنسی کے وقت کیسے ان علاقوں تک پہنچا جائیگا ;238; ۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر23 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا23 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
