تازہ ترین
کورونا وائرس کے خلاف ادویات بنانے کے دعوے
چین کے شہر وہان سے پیدا ہونی والی عالمی وبا (کووڈ۔19) کے خلاف بہت سے ممالک دوا بنانے کے آئے روز دعوے کررہے ہیں۔لاکھوں لوگ اس وائرس کی زد میں آچکے ہیں اور 2لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ کے این ایس مانیٹر نگ کے مطابق ہندوستان میں گزشتہ24 گھنٹے میں کورونا وائرس کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ خوفزدہ کرنے والے ہیں۔ ایک دن میں جہاں 3900 نئے کیس درج کیے گئے وہیں 195 لوگوں کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔ اس درمیان ایک راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔
ہندوستان کووڈ۔19 یعنی کورونا انفیکشن کی دوا بنانے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ حیدرآباد واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی (آئی آئی سی ٹی) نے کووڈ۔19 کے علاج میں استعمال ہو رہے ریمیڈسیور کے لیے اسٹارٹنگ میٹریل کو سنتھسائزڈ کیا ہے جو دوا بنانے کی سمت میں پہلا قدم ہے۔’ہندوستان ٹائمز‘ میں شائع خبر کے مطابق آئی آئی سی ٹی نے سِپلا جیسی دوا ساز کمپنی کے لیے کام شروع کیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ہندوستان میں بھی اسے بنایا جا سکے۔ کچھ دنوں پہلے ہی امریکہ کی ایف ڈی اے نے کووڈ۔19 کے مریضوں کے علاج کے لیے ریمیڈیسیور کے ایمرجنسی استعمال کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری تب دی گئی ہے جب کہ کچھ محققین نے پایا کہ یہ دوا انفیکشن والے لوگوں کو تیزی سے صحت مند ہونے میں مدد کرتی ہے۔دراصل کووڈ۔19 کے علاج میں اب تک ریمیڈیسیور (ریمیڈیسیور یا ریمیڈیسیویر) کو کارگر بتایا جا رہا ہے جس کی منظوری امریکہ نے دے دی ہے۔
ریمیڈیسیویر بنانے کا کام گیلیڈ سائنسز کرتی ہے۔ ریمیڈیسیور کو کلینیکل ڈاٹا کی بنیاد پر امریکہ میں کووڈ۔19 کے علاج کے لیے ایمرجنسی اجازت مل چکی ہے۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے ملک اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے وبا کے علاج کے لیے حیاتیاتی اینٹی باڈیز تیار کرلیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے رواں برس فروری میں ہی کورونا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اسرائیلی حکومت نے فروری میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ماہرین کورونا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے کے بلکل قریب ہیں اور چند ہی ہفتوں میں ویکسین کو تیار کرکے اس کی انسانوں پر آزمائش شروع کردی جائے گی۔
تاہم گزشتہ ماہ اپریل کے وسط میں خبریں سامنے آئیں کہ اسرائیل کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے میں مشکلات درپیش ہیں،تاہم حکومت نے عزم کا اعادہ کیا تھا کہ اگلے چند ہفتوں مین ویکسین کی تیاری کا عمل مکمل ہونے کے بعد اس کی آزمائش شروع کردی جائے گی۔تاہم تاحال اسرائیل کی جانب سے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے کی خبر سامنے نہیں آئی لیکن اب اسرائیلی حکومت نے کورونا کا ایک اور علاج تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جی ہاں!ویکسین کی تیاری میں مشکلات کا سامنا کرنیو الے ملک اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ماہرین نے کورونا کی وبا کے علاج کے لیے حیاتیاتی اینٹی باڈیز تیار کرلیں ہیں۔اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہودی ماہرین کورونا کے علاج کی حیاتیاتی اینٹی باڈیز تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
اخبار کے مطابق وزیر دفاع نفتالی بینت کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف بائیو لاجیکل ریسرچ (آئی آئی بی آر) کے ماہرین نے طویل جدوجہد کے بعد کورونا کے علاج کیلیے منفرد اینٹی باڈیز تیار کرلی ہیں۔وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر دفاع نے حیاتیاتی اینٹی باڈیز کو تیار کرنے والے ادارے کا دورہ کیا، جہاں وزیر دفاع کو نئی پیش رفت سے آگاہ کیا۔جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حیاتیاتی تحقیقی ادارے کی جانب سے تیار کی گئی اینٹی باڈیز مریض کے جسم اندر ہی وائرس کو ختم کردیتی ہے۔بیان کے مطابق حیاتیاتی تحقیق کے ادارے کی جانب سے اینٹی باڈیز کو تیار کرنے کے بعد اب اگلے مرحلے میں ادارہ اس کی رجسٹریشن کروائے گا، جس کے بعد اسرائیلی ادارہ مذکورہ فارمولے کے تحت بڑے پیمانے پر اینٹی باڈیز کی تیاری کے لیے دیگر ممالک کے حیاتیاتی تحقیقاتی اداروں سے اینٹی باڈیز بنوائے گا۔بیان میں اینٹی باڈیز کی تیاری کے حوالے سے شفاف اور مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئی اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مذکورہ اینٹی باڈیز کی آزمائش کی گئی تھی یا نہیں اور نہ ہی بیان میں اسرائیل کی جانب سے تیاری کی جانے والی ویکسین کے حوالے سے کوئی وضاحت کی گئی ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے کورونا کے علاج کے لیے حیاتیاتی اینٹی باڈیز بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اسرائیل نے ایسی اینٹی باڈی تیار کرنے کے حوالے سے کسی طرح کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج اینٹی باڈیز سے کیا جا رہا ہے، تاہم وہ اینٹی باڈیز ایسے لوگوں سے حاصل کی جاتی ہیں جو کورونا سے صحت یاب ہو چکے ہوں۔اینٹی باڈیز دراصل وہ خلیات ہیں جو غلیل نما دکھائی دیتے ہیں اور یہ انسانی خون میں موجود ہوتے ہیں، جن افراد کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے، انہیں ایسی دوائی دی جاتی ہیں کہ ان کے خون میں اینٹی باڈیز کی مقدار بڑھ جاتی ہے یا وہ مضبوط بن جاتے ہیں اور اگر کسی بھی شخص کی ان اینٹی باڈیز کو نکال کر دوسرے بیمار شخص میں منتقل کیا جائے تو وہ فوری طور پر صحت مند ہو سکتا ہے۔
کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون کے بلڈ پلازما اور اینٹی باڈیز کو چین سے لے کر امریکا تک اور پاکستان سے لے کر بھارت تک آزمایا جا رہا ہیاور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی نکلے ہیں، تاہم وہ اینٹی باڈیز حیاتیاتی نہیں بلکہ انسانوں کی جانب سے عطیہ کیے جاتے ہیں۔لیکن اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ماہرین نے حیاتیاتی اینٹی باڈی تیار کرلی ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ماہرین نے کس طرح یہ اینٹی باڈیز لیبارٹری میں تیار کیں؟۔
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے اپنی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا، نڈا نے افسوس کا اظہار کیا
نئی دہلی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
پینٹاگن کی امریکی حملوں کے جائزے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق
واشنگٹن، امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یمن میں گزشتہ سال ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف تین امریکی فضائی حملوں میں 153 عام شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔
یہ نتائج بدھ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی شہری ہلاکتوں کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ جائزہ اپریل 2025 میں کیے گئے تین فضائی حملوں پر مرکوز تھا۔
حملوں میں یمنی دارالحکومت صنعا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ کی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت امریکی افواج حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔
پینٹاگن کے جائزے کے مطابق تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والا حملہ سب سے مہلک تھا، جس میں 80 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد، جگہ پر زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے کئی ٹینکر ٹرک تباہ ہوگئے۔ حوثی حامی المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے حملے کے بعد کی فوٹیج نشر کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس وقت کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے ایندھن کے ایک ذرائع کو تباہ کرنے اور ان کی آمدنی کے ناجائز ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جائزے میں ان حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے یا بھتہ کی سفارش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
پینٹاگن کے مطابق ایسا معاوضہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت لازمی نہیں ہے اور غلط کام کا اعتراف نہیں کرتا۔
امریکی فوج پہلے بھی ایسے معاملات میں معاوضے کی پیشکش کر چکی ہے۔ 2021 میں افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، پینٹاگون نے متاثرین کے خاندانوں کو اس طرح کے معاوضے کا وعدہ کیا.
پینٹاگن کا یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنانے والے امریکی میزائل حملے میں مبینہ طور پر 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی فوج نے پہلی بار 2023 میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جڑتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر21 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
