تازہ ترین
کشمیر کو ’اَن لاک‘ کرنے کا عمل شروع :تین ماہ بعد سرینگر میں کاروباری سرگرمیاں بحال
دکانیں کھل گئیں،لوگوں کی چہل پہل قلیل،پبلک ٹرانسپورٹ بھی رہا غائب،ماسک نہ پہنے پر500روپے جرمانہ
سرینگر: تین ماہ کے طویل ترین کورونا لاک ڈاؤن کے بعد حکومتی ہدایت کے تحت سنیچر کے روز سرینگر میں دوبارہ کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں بحا ل ہوئیں۔تاہم بازاروں میں لوگوں کی چہل پہل کم رہی جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہا۔اس دوران ماسک نہ پہنے پر شہریوں پر جرمانہ عائد کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق تین ماہ کے بعد جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوگئیں۔
یاد رہے کہ سرینگر میں 18مارچ کو کورونا کا پہلا مثبت کیس سامنے آنے کیساتھ ہی جزوی طور لاک ڈاؤن کا عمل شروع ہوگیا،تاہم 21مارچ کو سرینگر میں مزید کورونا مثبت کیسز سامنے کے بعد مکمل طور پر لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔24مارچ کو وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے پہلے مرحلے کے15روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا،جس کے بعد سے لیکر اب تک سرینگر میں کاروباری وتجارتی اور دیگر سرگرمیاں مکمل طو ر منجمد رہیں۔
جمعہ کو ضلع مجسٹریٹ سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے شرائط کے ساتھ ایک شیڈول جاری کیا جس کے مطابق سرینگر میں 13جون سے کاروباربحال ہوگا۔اس حکم نامے کے تحت سرینگر کے تاریخی لالچوک سمیت سبھی چوٹھے بڑے بازاروں میں دکانیں کھل گئیں۔ جاری کردہ شیڈول کے مطابق کھلنے والی دکانیں دن کے ٹھیک11بجے کھل گئیں۔
بازاروں میں شیڈول کے مطابق لازمی خدمات والی دکانوں کے علاوہ ہینڈی کرافٹس، ہینڈ لوم، ہارڈ ویئر، عمارتی مٹریل، فرنیچر، فرنشنگ، آٹو موبائل، سروس اسٹیشن اور سلونز کھل گئے۔ دکانداروں نے جاری گائیڈ لائنز کے مطابق تمام تر احتیاطی تدابیر کا بندوبست بھی رکھا تھا اور خود بھی ان پر عمل پیرا تھے۔
کئی بازاروں میں متعلقہ محکمہ اور پولیس اہلکار دکانداروں کی طرف سے احتیاطی تدابیر کے انتظام کا بھی جائزہ لے رہے تھے۔تاہم لوگوں کی چہل پہل بازاروں میں انتہائی کم رہی جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہا۔
البتہ نجی گاڑیوں کی آمد ورفت میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا۔تین کے بعد بازاروں میں اگرچہ کھوئی ہوئی رونق دوبارہ بحال ہوگئی،تاہم کورونا وائرس کا سیاہ سائیہ ہر طرف نظر آرہا ہے۔
اس دوران ماسک نہ پہنے پر شہریوں پر جر مانہ عائد کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔معلوم ہوا ہے کہ ماسک نہ پہنے پر ایک شہری پر500روپے کا جرما نہ کیا گیا۔یہ جرمانہ محکمہ مال کے سپیشل تحصیلدار نے اُن سے وصول کیا۔اس حوالے سے ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائر ل بھی ہوئی۔ضلع انتظامیہ سرینگر کی طرف سے لالچوک اور نواحی علاقوں میں محدود کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دینے کے اعلان سے قبل ہی جمعہ کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سرینگر میونسپل کارپوریشن کی طرف سے لالچوک کے مصروف و معروف بازاروں سمیت دیگر مقامات میں جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ بھی کیا تھا جبکہ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
یاد رہے کہ شہر میں شیڈول کے مطابق لازمی سروس سے وابستہ سبھی دکان پورے دن کھلے رہیں گے جبکہ باقی ماندہ دکانوں کو صبح11بجے سے شام5بجکر30منٹ تک مخصوص ایام یعنی کو کھلا رہنے کی اجازت ہوگی۔سبھی دکانوں کو شرائط کی سختی کے ساتھ پابندی کرنی ہوگی۔حکام کے مطابق اس سلسلے میں سکمز صورہ، جی ایم سی سرینگر، سکمز بمنہ اور ہیلتھ سروس محکمہ سے وابستہ ماہرین کی سفارشات بھی حاصل کی گئی تھیں جس کے بعداس ضمن میں قواعد و ضوابط کے تحت باضابطہ شیڈول جاری کیا گیا۔
شیڈول کے مطابق کتابوں کی دکانیں،ادویات کی دکانیں،گروسری،میوہ اور سبزیوں کی دکانیں،دودھ،گوشت و پولٹری دکانیں،چیزیں ٹھیک کرنے کی دکانیں،ای کامرس،کوریئرس، ہوٹل،ہوم ڈلیوری کیلئے ریستورانٹ،بیکری اور دوسری ضروری چیزوں کی دکانیں پورے ہفتے سوموار سے سنیچر تک کھلی رہیں گی۔
اس کے برعکس ریڈی میڈ گارمنٹس،کپڑے کی دکانیں،کاسمیٹک کی دکانیں،جوتوں کی دکانیں،الیکٹرانکس چیزوں کی دکانیں،زیورات کی دکانیں اور سبھی قسم کی درزی کی دکانیں پیر،بدھ اور جمعہ کو صبح11بجے سے شام5بجکر30منٹ تک کھلیں گی۔ہینڈی کرافٹس اور ہینڈلوم، ہارڈویئر، تعمیری سامان کی دکانیں،فرنیچر،فرش و فروش،آٹو موبائل، اور نائی و بیوٹی پارلر کی دکانیں ہر منگل،جمعرات اور سنیچر کو صبح11بجے سے شام5بجکر30منٹتک کھلی رہیں گی۔حکام نے سبھی دکان مالکان کو اْن قواعد کی پابندی کرنے کیلئے کہا ہے جو کورونا کے پیش نظر نافذ ہیں۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
