تازہ ترین
بنت حوا کو آج بھی سکون کہاں؟

مصنف: مفتی نظرالاسلام قاسمی الظہیری
مذہب اسلام عدل وانصاف کو لیکر سب سے اولین علمبردار ہے اسلام ۔عدل وانصاف کو اور عادلانہ قانون کو جس طرح صفائی ستھرائی سے بیان کیا ہے یہ صرف زبان وکتب تک محدود نہیں بلکہ دور انحطاط میں عملی نمونہ اسلامی معاشرے میں دیکھا جا سکتا ہے ۔
دور نبوی کے عادلانہ معاشرہ کی مثال دنیا پیش کرنے سے تو ہمیشہ قاصر رہے گی حضور پرنور عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صنف نازک کے ساتھ عدل ومساوات تو دور انہیں ثری سے ثریا تک پہونچا دیا اور وہ تمام کے تمام حقوق میسر کئے جس کے وہ مستحق تھی نہیں تو اسلام سے قبل وہ صفحہ ہستی کی سب سے ذلیل وخوار مخلوق سمجھی جاتی رہی ظلم وستم نفرت وحقارت اس کا مقدر بن چکیتھی اشیاؤں کی طرح مارکیٹ میں بیچی اور خریدی جاتی تھی –
انتہا تو یہ کے ماہواری کے عالم میں عورتوں کو جنگل میں کسی درخت سے باندھ دیا جاتا اور بغیر کھانے پینے کے اسی حال پر چھوڑ دیا جاتا کتنے کی تو جان چلی جاتی اور عربوں کے ہاں بیٹیوں کے تعلق سے جو سب سے بھیانک اور کلیجہ چیڑ نے والا معاملہ جو ہوتا تھا وہ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کا تھا اس پرفتن اور پر آشوب دور میں اسلام کا سورج نمودار ہوا شرک وبدعات ظلم وستم اور انتشار وخلفشار سے دوچار انسانیت کو قرار آیا ۔
عورت جو ظلم وستم اور حق تلفی وذلت کی چکی میں پس رہی تھی اس سے اس کو رہائی ہی نہیں بلکہ معاشرے کی قابل قدر اور لائق احترام ہستی بن گئی اور اسلام کے سکہ کا دوسرا رخ یوں ظاہر ہوا کہ جس بیٹی کو زحمت شمار کیا جاتا وہ رحمت بن گئی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صنف نازک کے کسی ایک روپ کے بارے میں ہی نہیں بتا یا بکلہ تینوں روپ کو بیان کیا اور فرمایا کہ لوگوں جس گھر میں بیٹی کی پیدائش ہو وہ والدین کے لئے رحمت ہے اور جب وہی بیٹی جوان ہوکر کسی کی بیوی بن گئی تو فرمایا نیک بیوی شوہر کے لئے جنت ہے اور جب وہی ماں بن گئی تو فرمایا میرے رسول نے ۔جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں ماہواری کے عالم میں ہوتی اور حضور میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے ۔پیغمبر کا زمانہ ہے مکہ کے اندر اک نوجوان بڑا خوبصورت بے پناہ حسن وجمال کا مالک دحیہ کلبی اتنے خوبصورت تھے کہ جب وہ راستہ پہ نکلتا تو عورتیں دروازے سے جھانکی مار کر دیکھا کرتی تھی –
اتفاق یہ ہوا کہ ایک مرتبہ اس جوان پر میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑگئی نظر جیسے ہی پڑی شام کا سورج ڈھلا کائنات بستر پر گئی میرا محبوب بیت اللہ میں گیا اور حرم کے غلاف کو پکڑ کر رب کے دربار میں جھولی پھیلا ئ اور کہا کہ میرے مولا جب تو اسے اتنا حسین وجمیل بنایا ہے اور ظاہر کو اتنا خوبصورت بنایا ہے تو اس کے باطن کو بھی خوبصورت بنادے نہ اور اسلام کی توفیق دے دے صبح ہوتے ہی حضرت دحیہ کلبی مسجد نبویؐ میں دستک دی حضور خوشی سے جھوم اٹھے آپ نے کہا دحیہ کلمہ پڑھ دحیہ کلبی نے کہا کہ یا رسول اللہ کلمہ تو پڑھ لونگا لیکن میں نے بہت گناہ کیا ہے ارشاد ہوا کیا گناہ ہے ۔
دحیہ کلبی نے کہا یارسول اللہ میں اپنے گاؤں کا سردار اور اس وقت لڑکیوں کو دفن کرنے کا عام رواج تھا میں علاقے کا سردار کے ناتے ستر بیٹیوں کو دفن کیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دحیہ اسلام لانے کے بعد اسلام کے قبل کئے ہوئے سارے کے سارے گناہ دھل جاتے ہیں حضرت دحیہ کلبی نے کہا یا رسول اللہ اس سے بھی بڑا ایک پاپ کیا ہے وہ یہ کہ ایک مرتبہ تجارت کے لئے ملک شام نکلا میری بیوی حمل سے تھی جاتے وقت میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ سنو اگر پیدا ہونے والا بچہ لڑکا ہو تو اسکی پرورش کرنا اور اگر لڑکی تو دفن کردینا جب میں مہینوں کے بعد تجارت سے لوٹا تو دروازے پر دیکھا انتہائی خوبصورت بچی کھڑی تھی میں نے کہا تو کون اس بچی نے کہا میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں تو میں نے کہا میں اس گھر کا مالک ہوں پھر میں اپنی بیوی سے کہا یہ بچی کون ہے ، جواب دیا یہ وہی بچی ہے جو آپ میرے پیٹ میں چھوڑ کرگئے تھے
دحیہ کلبی درباررسالت میں واقعہ بیان کررہے ہیں حضور کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہے دحیہ نے کہا یارسول اللہ میں نے سوچا کہ لوگ مجھے تانہ دینگے کہ دیکھو دوسروں کی بیٹی کو دفن کرتا ہے اور اپنی کو رکھتا ہے میں نے کدال ہاتھ میں لیا اور اسے لیکر جنگل کی طرف چل دیا جنگل پہونچ کر گڈھا کھودنا شروع کردیا گڈھا کھودتے وقت بار بار وہ پھول سے بچی آکر کبھی ہمارے پسینے کو پوچھتی تو کبھی ڈاڑھی پر پڑے مٹی صاف کرتی اوربار بار کہتی رہی ابو کیوں اتنے پریشان ہو آؤ پیر کے سایہ میں بیٹھ جاؤ نہ اچانک میں اس بچی کے سر کے بال کو پکڑ کر گڈھا میں ڈال دیا وہ روتی رہی چلاتی رہی کہتی رہی مجھے چھوڑ دو مجھے معاف کر دو جب مٹی گردن تک پڑی تو میری طرف سے توجہ ہٹا کر رب سے مخاطب ہوکر کہنے لگی یا اللہ جلدی سے اس رسول کو بھیج دے جس زمانے میں بیٹیاں محفوظ رہے گی اتنا سننا تھا کہ رسول اللہ کی چیخ نکل گئی مسجد نبویؐ میں بیٹھے سارے صحابہ دھارے مارکر رونے لگے ۔
قارئین ابھی جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے دراصل اسلام کے قبل کا ہے اور عورتوں کے ساتھ جو کچھ بھی کیا جارہا تھا وہ سب دور جاہلیت میں کیا لیکن آج اس وقت ہم اپنے معاشرے اور سماج کو دیکھیں کیا اسی دور سے ملتاجلتا معاشرہ نہیں بن گیا کل میدان محشر میں بیٹیوں کے حقوق کے بارے اگر ان لوگوں سے سوال کیا جائے گا تو ہوسکتا ہے کے کہ دے مجھے کچھ پتہ نہیں نہ تو میرے پاس قرآن اور نہ ہی رسول ۔کیا آج اس وقت بھی ہمارا معاشرہ قرآن و حدیث سے خالی ہے جب ایسا نہیں تو کیوں عورتوں کے ساتھ ظلم وستم کیا جارہا ہے اور کل عربوں نے ظلم و ستم کے انتہاء کو روند دیا تھا تو آج اس وقت کہیں زیادہ ہی ہم ہیں اور عوام تو دور خواص بھی شامل ہیں آج اس وقت بیٹیوں کے اوپر کتنے طریق سے ظلم کیا جارہا ہے سب کا ذکر کرنا کسی ایک مضمون کے ذریعہ نامناسب معلوم ہوتا ہے ۔پھر بھی ایک طریق وہ بھی ہے جس میں سب تو نہیں کم وبیش عالم فاضل مولانا مفتی حاجی و قاضی صاحبان بھی شامل ہیں اور وہ یہ کہ ہم نے بیٹیوں کو وراثت سے محروم کردیا زرا غور کیجئے کتنے ایسے لوگ ہیں جو اپنی جائیداد میں بیٹیوں کو بھی شامل کرتے ہیں ضرورت ہیکہ معاشرے سے اس وباء کو ختم کیا جائے اور عورتوں کو رسول اللہ نے جس مقام پر کھرا کیا ہے ہم بھی اس مقام پر رکھتے ہوئے وہ تمام کے تمام حقوق میسر کریں جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے ثابت ہے اور مساجد کے امام خطباء حضرات اپنی تقریروں میں ان موضوعات کو بھی شامل کریں
( بشکریہ مفتی نظرالاسلام قاسمی الظہیری صاحب ۔مدرسہ نورالعلوم ۔دربھنگہ)
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
