تازہ ترین
قوم کے نام پی ایم مودی کا خطاب : ’چین-پٹرول‘ پر خاموشی، مفت راشن کے علاوہ کچھ نہیں
پی ایم مودی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران بہت سنجیدگی سے قوانین و ضوابط پر عمل کیا گیا۔ اب حکومتوں کو مقامی انتظامیہ کو اور ملک کے باشندوں کو پھر سے اسی طرح کے احتیاط کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
خبراردو:-
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ملک کے نام خطاب کیا جس کو لے کر لوگوں میں کافی جوش دیکھنے کو مل رہا تھا۔ لیکن جب انھوں نے اپنی تقریر مکمل کی تو لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ انھوں نے سوائے مفت راشن تقسیم کرنے کی اسکیم میں توسیع کے علاوہ کچھ بھی خاص نہیں کہا۔ نہ ہی انھوں نے لداخ میں چین کی حرکتوں کے بارے میں کچھ کہا اور نہ ہی پٹرول و ڈیزل کی لگاتار بڑھتی قیمتوں کا کوئی تذکرہ کیا۔ انھوں نے صرف کورونا وبا کے پھیلتے اثرات کے تعلق سے عوام کے سامنے کچھ باتیں رکھیں۔
انھوں نے کہا کہ اَن لاک-1 کے بعد لوگوں نے لاپروائی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا جو کہ کورونا انفیکشن پھیلنے کے لیے بہت خطرناک ہے اور لوگوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ پی ایم مودی نے اپنے خطاب میں کیا کچھ کہا، وہ من و عن ‘قومی آواز’ کے قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔
ساتھیو نمسکار!
کورونا عالمی وبا کے خلاف لڑتے لڑتے اب ہم اَن لاک-2 میں داخل ہو رہے ہیں۔ اور ہم اس موسم میں بھی داخل ہو رہے ہیں جہاں سردی، زکام، کھانسی، بخار، یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ ایسے میں میری آپ سبھی ملک کے باشندوں سے گزارش ہے کہ اپنا دھیان رکھیں۔
ساتھیو، یہ بات درست ہے کہ اگر کورونا سے ہونے والی شرح اموات کو دیکھیں تو دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں ہندوستان سنبھلی ہوئی حالت میں ہے۔ وقت پر کیے گئے لاک ڈاؤن اور دیگر فیصلوں نے ہندوستان میں لاکھوں لوگوں کی زندگی بچائی ہے لیکن ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جب سے ملک میں اَن لاک-1 ہوا ہے، انفرادی اور سماجی رویہ میں لاپروائی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ پہلے ہم ماسک کو لے کر، دو گز کی دوری کو لے کر، 20 سیکنڈ تک دن میں کئی بار ہاتھ دھونے کو لے کر بہت محتاط تھے۔ لیکن آج جب ہمیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے تو لاپروائی کرنا بہت ہی فکر انگیز ہے۔
ساتھیو، لاک ڈاؤن کے دوران بہت سنجیدگی سے قوانین و ضوابط پر عمل کیا گیا۔ اب حکومتوں کو مقامی انتظامیہ کو، ملک کے باشندوں کو پھر سے اسی طرح کے احتیاط کو دکھانے کی ضرورت ہے۔ خصوصی طور سے کنٹنمنٹ زون پر تو ہمیں بہت دھیان دینا ہوگا۔ جو بھی لوگ ضابطوں پر عمل نہیں کر رہے، ہمیں انھیں ٹوکنا ہوگا، روکنا ہوگا اور سمجھانا بھی ہوگا۔ ابھی آپ نے خبروں میں دیکھا ہوگا کہ ایک ملک کے وزیر اعظم پر 13 ہزار روپے کا جرمانہ اس لیے لگ گیا کیونکہ وہ پبلک پلیس پر ماسک کے بغیر چلے گئے تھے۔ ہندوستان میں بھی مقامی انتظامیہ کو اسی چستی سے کام کرنا چاہیے۔ یہ 123 کروڑ ہندوستانیوں کی حفاظت کرنے کی مہم ہے۔ ہندوستان میں گاؤں کا پردھان ہو یا ملک کا پردھان منتری، کوئی بھی قانون سے اوپر نہیں۔
ساتھیو، لاک ڈاؤن کے دوران ملک کی سب سے بڑی ترجیح رہی کہ ایسی حالت پیدا نہ ہو کہ کسی غریب کے گھر میں چولہا نہ جلے۔ مرکزی حکومت ہو، ریاستی حکومتیں ہوں، سول سوسائٹی کے لوگ ہوں، سبھی نے پوری کوشش کی ہے کہ اتنے بڑے ملک میں کوئی غریب بھائی بہن بھوکا نہ سوئے۔ ملک ہو یا شخص، وقت پر فیصلہ لینے سے، سنجیدگی سے فیصلہ لینے سے کسی بھی مشکل کا مقابلہ کرنے کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے لاک ڈاؤن ہوتے ہی حکومت پردھان منتری غریب کلیان یوجنا لے کر آئی۔ اس منصوبہ کے تحت غریبوں کے لیے 1.75 لاکھ کروڑ روپے کا پیکیج دیا گیا۔
ساتھیو! گزشتہ تین مہینوں میں 20 کروڑ غریب فیملی کے جن دھن کھاتوں میں سیدھے 31 ہزار کروڑ روپے جمع کروائے گئے۔ اس دوران 9 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں 18 ہزار کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گاؤں میں مزدوروں کو روزگار دینے کے لیے پردھان منتری غریب کلیان روزگار ابھیان تیز رفتار کے ساتھ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس پر حکومت 50 ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔
لیکن ساتھیو، ایک اور بڑی بات ہے جس نے دنیا کو بھی حیران کر دیا ہے۔ حیرت میں ڈبو دیا ہے۔ وہ یہ کہ کورونا سے لڑتے ہوئے ہندوستان میں 80 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو 3 مہینے کا راشن یعنی فیملی کے ہر رکن کو 5 کلو گیہوں یا چاول مفت دیا گیا۔ اس کے علاوہ فی فیملی کو ہر مہینے ایک کلو دال بھی مفت مہیا کرئی گئی۔ یعنی ایک طرح سے دیکھیں تو امریکہ کی کل آبادی سے ڈھائی گنا زیادہ لوگوں کو، برطانیہ کی آبادی سے بارہ گنا زیادہ لوگوں کو، اور یوروپی یونین کی آبادی سے تقریباً دو گنا سے زیادہ لوگوں کو ہماری حکومت نے مفت اناج دیا ہے۔
ساتھیو، آج میں اسی سے جڑا ایک اہم اعلان کرنے جا رہا ہوں۔ ساتھیو، ہمارے یہاں بارش کے موسم کے دوران اور اس کے بعد خصوصی طور پر زرعی سیکٹر میں، میڈیکل سیکٹر میں بھی زیادہ کام ہوگا۔ دیگر سیکٹرس میں تھوڑی سستی رہتی ہے۔ جولائی سے دھیرے دھیرے تہواروں کا بھی ماحول بننے لگتا ہے۔ اب آپ دیکھیے کہ 5 جولائی کو گرو پورنیما ہے، پھر ساون شروع ہوگا، پھر 15 اگست، گنیش چترتھی، اونم، نوراتری، درگا پوجا، دیوالی… تہواروں کا یہ وقت ضرورتیں بھی بڑھاتا ہے، خرچ بھی بڑھاتا ہے۔ ان سبھی باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا کی توسیع اب دیوالی اور چھٹھ پوجا تک یعنی نومبر مہینے کے آخر تک کر دیا جائے گا۔ یعنی 80 کروڑ لوگوں کو مفت اناج دینے والا منصوبہ اب جولائی، اگست، ستمبر، اکتوبر، نومبر میں بھی نافذ رہے گا۔
حکومت کے ذریعہ ان پانچ مہینوں کے لیے 80 کروڑ سے زیادہ غریب بھائی بہنوں کو ہر مہینے فیملی کے ہر رکن کو 5 کلو گیہوں یا 5 کلو چاول مفت مہیا کرایا جائے گا۔ اور ساتھ ہی ہر فیملی کو ہر مہینے ایک کلو چنا بھی مفت دیا جائے گا۔ ساتھیو، پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا کی اس توسیع میں 90 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوں گے۔ اور اگر اس میں گزشتہ تین مہینے کا خرچ بھی جوڑ لیں تو یہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپیہ ہو جاتا ہے۔ اب پورے ہندوستان کے لیے ہم نے ایک خواب دیکھا ہے۔ کئی ریاستوں نے بہت اچھا کام بھی کیا ہے، باقی ریاستوں سے بھی ہم گزارش کر رہے ہیں کہ وہ کام کو آگے بڑھائیں۔
پورے ہندوستان کے لیے ایک راشن کارڈ کا انتظام بھی ہو رہا ہے۔ یعنی ایک ملک، ایک راشن کارڈ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ان غریب ساتھیوں کو ملے گا جو روزگار یا دوسری ضرورتوں کے لیے اپنا گاؤں چھوڑ کر کہیں اور جاتے ہیں۔ کسی اور ریاست میں جاتے ہیں۔ ساتھیو، آج غریب کو، ضرورت مند کو، حکومت اگر مفت اناج دے پا رہی ہے تو اس کا سہرا اہم طور پر دو طبقات کو جاتا ہے۔ پہلا ہمارے ملک کے محنتی کسان، اور دوسرا ہمارے ملک کے ایماندار ٹیکس دہندہ۔ آپ کی محنت اور آپ کی خودسپردگی ہی ہے جس کی وجہ سے ملک یہ مدد کر پا رہا ہے۔ آپ نے ملک کے اناج کا ذخیرہ بھرا ہے جس سے آج غریب اور مزدور کا چولہا جل رہا ہے۔ آپ نے ایماندار سے ٹیکس بھرا ہے، اپنی ذمہ داری ادا کی ہے اس لیے آج ملک کا غریب اتنے بڑے بحران سے مقابلہ کر پا رہا ہے۔
میں آج ہر غریب کے ساتھ ہی ملک کے ہر کسان، ہر ٹیکس دہندہ کا دل کی عمیق گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، انھیں سلام پیش کرتا ہوں۔ ساتھیو، آنے والے وقت میں ہم اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں گے۔ ہم غریب، استحصال زدہ، محروم، ہر کسی کو مضبوط بنانے کے لیے لگاتار کام کریں گے۔ ہم سبھی احتیاط کا خیال رکھتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ ہم خودکفیل ہندوستان کے لیے دن رات ایک کریں گے۔ ہم سب لوکل کے لیے ووکل ہوں گے۔ اسی عزم کے ساتھ ہم 130 کروڑ ہندوستانی باشندوں کو مل جل کر کے، عزائم کے ساتھ کام بھی کرنا ہے اور آگے بھی بڑھنا ہے۔
پھر سے ایک بار میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں، آپ کے لیے بھی دعا گو ہوں کہ آپ سبھی صحت مند رہیے، دو گز کی دوری پر عمل کرتے رہیے، گمچھا، فیس کور، ماسک ہمیشہ استعمال کیجیے۔ کوئی لاپروائی مت برتیے۔ اسی گزارش، اسی خواہش کے ساتھ میں آپ سبھی کو بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ شکریہ۔
(قومی آواز)
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
