تازہ ترین
جموں وکشمیر کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق جلد سے جلد بحال کئے جائیں: علی محمد ساگر
نیشنل کانفرنس ہیڈکوارٹر پر اجلاس
5اگست کے اقدامات نے جموں وکشمیر کے عوام کو بے یارومددگار رکھ کے چھوڑ دیا: ناصر اسلم وانی
خبراردو:-
سرینگر:نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر کی انفرادیت اور شناخت کو برقرار رکھنے کیلئے یہاں کے عوام کے سلب شدہ آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی کیلئے برسرجہد ہے اور یہ جماعت اپنے سنہری اصولوں اور منشور پر قائم و دائم رہے گی۔
ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس لیڈران پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں ضلع سرینگر کے پارٹی کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کے این ایس کے مطابق اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی محمد ساگر نے کہا کہ 5اگست2019کو جموں وکشمیر کیساتھ جو کچھ کیا گیا وہ ایک درد بھری داستان ہے اور اس دن کے اقدامات تاریخ میں سیاہ باب کے بطور لکھے جائیں گے۔
اس روز جموں وکشمیر کے اپنے آئین اور اپنے پرچم کو غیر جمہوری اور یکطرفہ طور پر ختم کیا گیا اور آئین کی دھجیان اُڑا کر ریاست کو دو لخت کردیا گیا۔مرکزی حکومت نے اپنے مکروہ مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے پوری ریاست کو پہلے ہی فوجی چھاونی میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا یا۔ 5اگست کے بعد ہر ایک سڑک، ہر ایک گلی، ہر ایک نکڑ اور ہر گھر پر فورسز کی موجودگی عمل میں لاکر یہاں کے عوام کو مسلسل چھ ماہ تک گھروں میں محصور کر کے رکھ دیا گیا۔
یہاں تک کہ لوگوں کی مذہبی آزادی کو بھی سلب کردیا گیا۔ساگر نے کہا کہ مرکز کے عزائم انتے مکروہ تھے کہ انہوں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ جیسے قدآور لیڈر کو رکن پالیمان ہونے کے باوجود بھی پی ایس اے کے تحت نظربند کردیا، جو ملک کی جمہوریت پر ایک دبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اُن تمام لیڈران، پارٹیوں، معزز شخصیات اور سول سوسائٹی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جموں وکشمیر کے عوام کی آواز اور یہاں کے سیاسی لیڈران کی رہائی کیلئے ملک میں بلند کی۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق جلد سے جلد بحال کئے جائیں اور اس عمل میں جتنی جلد کی جائیگی اُتنا ہی اچھا ہوگا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ 5اگست کے اقدامات نے جموں وکشمیر کے عوام کو بے یارومددگار رکھ کے چھوڑ دیاہے۔ لوگ اقتصادی بدحالی کے شکار ہیں، ہر قسم کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے، بے روزگاری عروج پر ہے، نوجوان مایوسی کے شکار ہیں، لوگ نان شبینہ کے محتاج بن گئے اور فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہر حال میں عوام کی آواز بلند کرتی رہے گی۔ ہماری جماعت کسی بھی صورت میں عوام مفادات کیخلاف کام نہیں کریگی۔ اُن کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کو اسی لئے نشانہ بناجارہا ہے کیونکہ یہی جماعت یہاں کے عوام کی حقیقی نمائندہ ہے اور یہ جماعت کسی بھی صورت میں عوام اُمنگوں اور خواہشات کے مخالف نہیں جائیگی۔ لوگوں کے اشتراک سے ہماری جماعت چٹان کی مانند کھڑی ہے اور ہماری جماعت ہمیشہ لوگوں کو طاقت کا شرچشمہ مانتی آئی ہے۔
ناصر اسلم وانی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کیخلاف روز اول سے ہی سازشیں رچائیں گئیں لیکن شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ سے لیکر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ تک ہر بار ہماری جماعت نے مل کر سازشوں کو ناکام بنایا ہے اور انشاء اللہ ہم مستقبل میں بھی تمام چیلنجوں کا مل کر مقابلہ کریں گے۔ اجلاس میں سینئر پارٹی لیڈران محمد سعید آخون، پیر آفاق احمد، شمی اوبرائے، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، سلمان علی ساگر، جگدیش سنگھ آزاد، صبیہ قادری، غلام نبی بٹ، احسان پردیسی، مدثر شہمیری اور ڈکٹر سعید کے علاوہ دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔
دنیا
غزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
غزہ، تازہ اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کے پولیس عہدیدار جمال ابو کامل اور خان یونس میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔
غزہ کی وزارت داخلہ کے مطابق 43 سالہ کرنل جمال ابو کامل جمعرات کو اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی ڈرون نے غزہ سٹی کے جنوب مغرب میں الرشید اسٹریٹ پر ان کی گاڑی کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
یہ ہلاکت اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔ اس وقفے کے دوران بھی اسرائیلی زمینی حملے جاری رہے، جبکہ اسرائیل اکتوبر میں طے پانے والی نام نہاد ’جنگ بندی‘ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ابو کامل کو ’’خطرے کو ختم کرنے‘‘ کے لیے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے کمانڈر تھے، تاہم اس دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
غزہ کی پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ابو کامل ’’اپنی پولیس کی ذمہ داریاں انجام دینے کے پابند تھے اور ان کا کسی دوسری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ابو کامل کو اسرائیلی حملے میں ’’شہید‘‘ کیا گیا۔
حماس نے بھی اس ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قابض افواج کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے وحشیانہ جرائم کا تسلسل‘‘ قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ یہ غزہ کی پٹی میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کی اسرائیل کی ’’ناکام اور قابلِ افسوس کوششوں‘‘ کا حصہ ہے۔
جمعرات کو اس سے قبل جنوبی غزہ کے خان یونس میں دو افراد کو لے جانے والی ایک موٹر سائیکل کو بھی اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اسرائیل نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف حماس کا ایک کمانڈر تھا، تاہم اس دعوے کے لیے بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں 3 اگست کے بعد پہلا فضائی حملہ کیا۔ بیت لاہیا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں بلدیاتی ادارے کا ایک ملازم ہلاک اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل نے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غزہ میں فضائی حملے روک رکھے تھے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے منصوبے میں ’’اہم پیش رفت‘‘ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے ان کے 15 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس پر غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے عمل درآمد کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو غیر مسلح ہونا تھا۔
حماس نے کہا تھا کہ وہ مکمل جنگ کی واپسی سے بچنے کے لیے معاہدے کو قبول کرتی ہے، تاہم اس کا اصرار تھا کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے پہلے اپنی فوجیں واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہوگا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک واپس نہیں جائے گی جب تک حماس کو ’’حقیقی طور پر غیر مسلح‘‘ نہیں کردیا جاتا۔ اس اعلان کے تین روز بعد اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو ’’جنگ بندی‘‘ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کے تقریباً روزانہ ہونے والے حملوں میں 1,250 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
جمعرات کو فلسطینی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
وزارت نے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کے حملوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیراعظم نے تقسیم کے المیے کو یاد کیا، بچ جانے والوں کی ہمت اور لچک کی ستائش کی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے دن تقسیم کے متاثرین اور بچ جانے والوں کو یاد کیا اور ملک کی تقسیم سے پیدا ہوئے عظیم انسانی دکھوں کو یاد کرتے ہوئے ان لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے اس صدمے پر قابو پایا اور اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کیا۔
تقسیم کے مظالم کے یادگاری دن کے موقع پر مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم نے “کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا”، خاندانوں کو بے گھر کر دیا، اپنوں کو جدا کر دیا اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو بے پناہ تکلیف پہنچائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ “آج ہم #PartitionHorrorsRemembranceDay منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ “یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا… خاندان بے گھر ہوئے، اپنے پیارے کھو دیاگیا اور بے پناہ تکلیفیں برداشت کی گئیں۔”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے تباہی کے باوجود تقسیم کے بعد بچ جانے والوں کی اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کرنے کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس پر قابو پاتے ہوئے، لوگوں نے صفر سے اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کیا، مصیبت کو کامیابی میں بدلا اور ہمارے ملک کی ترقی میں بے پناہ تعاون دیا۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم کا سامنا کرنے والوں کے سفر انسانی استحکام کے ثبوت کے طور پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی جذبے کی طاقت کی یاد دلاتے ہیں۔”
وزیراعظم نے اس موقع پر ملک کی باہمی ہم آہنگی، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے اور اجتماعی طور پر ایک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کے ہمارے عزم کو مزید گہرا کرے۔”
تقسیم کے مظالم کا یادگاری دن 14 اگست کو 1947 میں ہندوستان کی تقسیم سے جڑے دکھ، نقل مکانی اور جانی نقصان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں جدید تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی نقل مکانی ہوئی، کیونکہ شدید فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان لاکھوں لوگوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نئی کھینچی گئی سرحدوں کو پار کیا۔
مودی حکومت نے 2021 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد تقسیم کے دوران لوگوں کی برداشت کردہ تکلیفوں کو یاد کرنا اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت اور تقسیم اور نفرت کو دوبارہ پنپنے سے روکنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
یو این آئی۔این یو۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
