تازہ ترین
ٹرمپ کی بہن نے بھائی کو ’جھوٹا‘ اور ’ظالم‘ کہہ دیا، خفیہ ریکارڈنگ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنے ہی خاندان کے اندر سے شدید مخالفت کا سامنا ہونے لگا ہے۔ ان کی بھتیجی اور بہن کے درمیان ہونے والی خفیہ ریکارڈنگ کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
خبراردو:-
امریکی صدر ٹرمپ کی سب سے بڑی بہن میریان ٹرمپ بیری نے اپنے بھائی پر تنقید ان کی امیگریشن پالیسی کے تناظر میں کی ہے۔ اس پالیسی کے حوالے سے میریان ٹرمپ نے اپنے بھائی کے لیے ‘ظالم‘ اور ‘جھوٹے‘ جیسے الفاظ استعمال کیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اصولوں پر عمل نہیں کرتا لہذا ان پر اعتبار کرنا ممکن نہیں۔ یہ باتیں ایک خفیہ ریکارڈنگ کے افشا ہونے پر سامنے آئی ہیں۔
خفیہ ریکارڈنگ کی تفصیلات ہفتہ 22 اگست کو معتبر اخبار واشنگٹن پوسٹ نے شائع کی ہیں۔ یہ خفیہ ریکارڈنگ ڈونالڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ نے خفیہ انداز میں اس وقت کی، جب وہ اپنی پھوپھی میریان سے ٹیلیفون پر گفتگو کر رہی تھی۔ اسی میری ٹرمپ کی یاداشتوں پر مشتمل ایک کتاب گزشتہ ماہ جولائی میں منظر عام پر آئی ہے۔ اس کتاب کو ٹرمپ فیملی پر ایک بم کے گرنے سے تعبیر کیا گیا تھا۔
امریکی صدر کی بہن میریان ٹرمپ بیری کا خیال ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی سے کم سن بچے اپنے والدین سے جدا کر دیئے گئے اور ان کو حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا کوئی اصول نہیں ہے اور وہ یہ پالیسی اپنے ووٹرز کو خوش کرنے کے لیے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی کے ٹوئٹ کو بھی جھوٹ قرار دیا۔ اپنی بھتیجی میری سے ٹیلیفونک گفتگو میں انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو بے اصول والا بھی کہا۔
میریان ٹرمپ ایک وکیل ہونے کے علاوہ تقریباً بارہ برس تک سینیئر جج رہ چکی ہیں اور اس منصب سے سن 2020 میں ریٹائر ہوئی تھیں۔ انہیں سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے اعلیٰ اپیل عدالت میں تعینات کیا تھا۔ ان کی عمر تراسی برس ہے۔
میریان ٹرمپ اور میری ٹرمپ کی گفتگو سے کتاب (میری ٹرمپ کی یادداشتیں) میں کیے گئے ایک دعوے پر بھی روشنی پڑی کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے یونیورسٹی میں داخلے کا امتحان کسی اور شخص کو پیسے دے کر اپنی جگہ بٹھا کر پاس کیا تھا۔ بات چیت میں میریان ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ پینسلوینیا یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے اہل ہی اُسی امتحان میں کامیابی سے ہوئے، جس میں ان کی جگہ کوئی اور بیٹھا تھا۔ انہوں نی یہ بھی کہا کہ انہیں امتحان میں بیٹھنے والے شخص کا نام اب بھی یاد ہے۔ اس خفیہ ریکارڈنگ پر صدر یا وائٹ ہاؤس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
امریکی صدر کی بھتیجی میری لی ٹرمپ کی سن 2020 کے مہینے جولائی میں یادداشتوں پر مشتمل خودنوشت ‘Too Much and Never Enough’ کی فروخت اشاعت کے پہلے ہی دن تقریباً ایک ملین تک پہنچ گئی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے اس کتاب کو جھوٹ کا پلندا کہا تھا۔ اس کتاب کی اشاعت روکنے کے لیے صدر ٹرمپ کے حال ہی میں رحلت پانے والے چھوٹے بھائی رابرٹ ٹرمپ نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا تھا لیکن عدالت نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ امریکی صدر کی پچپن سالہ بھتیجی میری لی ٹرمپ ماہر نفسیات، کاروباری خاتون اور مصنفہ بھی ہیں۔(قومی آواز)
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا24 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر24 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا24 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا21 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
