تازہ ترین
کنی گام امام صاحب شوپیان مسلح تصادم آرائی 24گھنٹے بعد ختم
البدر کے2جنگجوجاں بحق،2فورسز اہلکار زخمی
کئی رہاشی مکان کو شدید نقصان،سخت سردی کے باجود علاقے میں رات بھر آپریشن جاری رہا،انٹرنیٹ سروس معطل
سرینگر:جنوبی کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیان میں گزشتہ24گھنٹے سے جاری فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان مسلح تصادم آرائی ختم ہوئی ہے۔اس دوران ڈائر ایکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے بتایا کہ اس جھڑپ میں البدر جنگجوؤں تنظیم سے وابستہ 2 جنگجوجاں بحق ہوئے ہیں جبکہ فورسز کے 2فورسز اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن کو فوری علاج معالجہ کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ زیر علاج ہیں۔
اس تصادم آرائی میں کئی رہائشی مکانوں شید نقصان پہنچا ہے۔اس دوران علاقے میں سخت سردی کے باجوود رارت پھر تلاشی آپریشن جاری رہا ہے،جبکہ علاقے میں انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کیا گیا ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق پہاڑی ضلع شوپیان کے کنی گام امام صاحب شوپیان میں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان جمعہ کے روز چار بجے کے قریب شروع ہونے والی جھڑپ سنیچر کے روز بعد دو پہر ختم ہوئی ہے جس میں پولیس کے مطابق البدر جنگجوؤں تنظیم کے دو جنگجوؤں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ طرفین کی گولہ باری میں فورسز کے دو اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں جن کو بادامی باغ فوجی ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔
اس دورا ن کشمیر زون پولیس نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں تازہ جانکاری فراہم کرتے ہوئے کہاشوپیان انکونٹر میں ایک اورعدم شناخت جنگجو ہلاک ہوا ہے اس طرح سے،مہلوک جنگجوؤں کی تعداد 2تک پہنچے گئی ہے جبکہ، آپریشن جاری“۔
اس سے قبل جمعہ کے صبح جنوبی کشمیر کے شوپیان کے امام صاحب کنی گام علاقے میں فوج کے44RR،34RRاور سی آر پی ایف کے علاوہ ایس او جی نے گاؤں میں 1سے2جنگجوؤں کی موجود گی کے بعد بستی کو محاصرے میں لے کر علاقے کی طرف جانے والے تمام راستوں کو سیل کیا اورفورسز کی مشترکہ جماعتوں نے یہاں تلاشی کارروائیاں شروع کی ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا شام ساڑے چار بجے کے قریب جب فورسز کی تلاشی پارٹی اس جگہ پر پہنچی جہاں انہیں جنگجوؤں کے چھپے بیٹھنے سے متعلق اطلاع موصول ہوئی تھی،تویہاں موجود جنگجوؤں نے فورسز کی تلاشی پارٹی پر فائرنگ کر کے فرار ہونے کی کوشش کی،جس دوران فورسز پارٹی نے بھی یہاں جوابی فائرنگ کی ہے جس دوران علاقہ گولیوں کی گن گرج سے لرز اٹھا ہے اور مقامی لوگوں گھروں میں سہم کر رہ گئے۔
نمائندے نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی فائرنگ کے بعد گاؤں میں خاموشی چھا گئی اور فورسز نے ابتدائی فائرنگ کے ساتھ فورسز کی اضافی نفری کو یہاں طلب کر کے پورے علاقے کو سخت محاصرے میں لے کر ممکنہ طور یہاں چھپے جنگجوؤ ں کی تلاش شروع کی ہے،بتایا جاتا ہے فورسز کو شبہ ہے محاصرے میں ایک سے دو جنگجوؤں موجود ہے۔
اس دوران رات دیگر گئے فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان جمعہ کی رات دس بجے کے قریب پھر ایک بار آمنا سامنا ہوا ہے جس دوران یہاں طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا ہے جہاں جنگجوؤں نے ممکنہ طور رات کی تاریکی میں فرار ہونے کی کوشش کی ہے اس دوران علاقے میں سخت محاصرہ ہونے کی وجہ سے جنگجوؤں کو فورسز نے یہاں سے فرار ہونے کا کوئی موقع نہیں دیا ہے،جس دوران اس فائرنگ میں ایک جنگجوجاں بحق ہوا جبکہ ان کے ساتھی نے دوسرے مکان میں پناہ لی ہے۔
فائرنگ کے اس واقعے میں فورسز کے 2اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جنہیں علاج ومعالجے کے لئے فوری طور 92 بیس ہسپتال سری نگر منتقل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ گذشتہ شام دیر گئے تاریکی کے پیش نظر آپریشن کو ملتوی کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ آج صبح آپریشن بحال کر دیا گیا اور جوں ہی سیکورٹی فورسز اہلکار مشتبہ مکان کے قریب پہنچے تو وہاں پ جنگجو نے ان پر فائرنگ شروع ہوئی۔
ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے مکان پر دھماکہ خیز مواد استعمال کیا جس سے مکان کو نقصان پہنچا تاہم جنگجو دوسرے مکان میں منتقل ہوئے جس دوران یہاں فورسز اور جنگجوں کے درمیان پھر ایک بار سنیچر کے روز گولیوں کا تبادلہ ہوا ہے جس میں دوسرا جنگجو بھی مار گیا ہے اس طرح سے اس جھڑپ میں دو جنگجوجاں بحق ہوئے جن کی لاشوں کو پولیس نے طبی،قانونی اور آخری سومات انجام دینے کے لئے اپنے تحویل میں لیا ہیدو دن تک جاری رہنی والی اس جھڑپ میں کئی رہاشی مکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انتظامیہ نے علاقے میں جمعہ کو فائرنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا تھا جو دوسرے دن بھی جا رہی ہے۔س دوران ڈائر ایکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے بتایا کہ اس جھڑپ میں البدر جنگجوؤں تنظیم سے وابستہ 2 جنگجوجاں بحق ہوئے ہیں جبکہ فورسز کے ۲فورسز اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن کو فوری علاج معالجہ کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ زیر علاج ہیں(کے این ایس)
جموں و کشمیر
کشمیر کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری، میدانی علاقوں میں بارش
سری نگر، کشمیر کے کئی بالائی علاقوں میں منگل کو تازہ برف باری ہوئی، جبکہ سری نگر سمیت میدانی علاقوں میں بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے جموں و کشمیر میں جمعرات تک بڑے پیمانے پر بارش اور دیگر موسمی سرگرمیوں کی پیش گوئی کی ہے۔
حکام کے مطابق، مغربی ہواؤں کے زیر اثر سیاحتی مقامات گلمرگ اور سونا مرگ کے علاوہ زوجیلا محور پر بھی تازہ برف باری ریکارڈ کی گئی۔ ادھر جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سمیت میدانی علاقوں میں بارش ہوئی، جو آخری اطلاعات موصول ہونے تک جاری تھی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بونداباندی کا امکان ہے۔ محکمہ نے آئندہ چند روز کے لیے بھی اسی طرح کے موسمی حالات کی پیش گوئی کی ہے۔
14 اکتوبر کی پیش گوئی کے مطابق، بعض علاقوں میں گرج چمک اور آسمانی بجلی کے ساتھ 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ کچھ مقامات پر تیز بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے ساتھ اسی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
موجودہ موسمی حالات کے باعث بالائی علاقوں میں سردی اور نمی برقرار رہنے کا امکان ہے، جب کہ میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہ سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر 13 سے 15 اکتوبر کے درمیان سیب، دھان اور دیگر فصلوں کی کٹائی کے بعد انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کے انتظامات کریں۔
خراب موسم کے امکان کے پیش نظر مسافروں، ٹرانسپورٹروں اور عام لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سفر کی منصوبہ بندی احتیاط سے کریں اور کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے ٹریفک سے متعلق جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
یواین آئی۔ ط ا
ہندوستان
اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی، سینسیکس 1,100 پوائنٹس سے زیادہ بڑھا
مبئی، گھریلو اسٹاک مارکیٹوں میں منگل کو زبردست تیزی دیکھی گئی، بی ایس ای سینسیکس 1,100 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ سینسیکس 71,951.73 پوائنٹس پر کھلا، جو پچھلے کاروباری دن سے 27 پوائنٹس زیادہ ہے۔ یہ 71,703.56 پر ریڈ زون میں گرا لیکن پھر تیزی سے سبز ہو گیا۔ سینسیکس 1,109.10 پوائنٹس (1.54 فی صد) بڑھ کر 73,033.78 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس سے قبل یہ 73,045.67 پوائنٹس کی اونچائی پر پہنچ گیا تھا۔ اس طرح آج اس میں 1,342 پوائنٹس کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی 50 انڈیکس صبح فلیٹ کھلنے کے بعد بالآخر 358.60 پوائنٹس یا 1.60 فی صد بڑھ کر 22,721.95 پر آگیا۔ گزشتہ کاروباری دن دونوں بڑے انڈیکس سرخ رنگ میں بند ہوئے تھے۔ روپے کے مسلسل دوسرے دن مسلسل اضافے سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے جذبات کو تقویت ملی ہے۔ مضبوط سہ ماہی نتائج کی وجہ سے آئی ٹی کمپنیوں کو زیادہ فائدہ ہوا۔ وسیع بازار میں بھی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری تھا۔
نفٹی مڈ کیپ 50 انڈیکس میں 0.87 فیصد اضافہ ہوا اور سمال کیپ 100 انڈیکس میں 0.11 فی صد اضافہ ہوا۔
بہتر سہ ماہی نتائج کی وجہ سے آئی ٹی کمپنیوں میں بھی بڑے پیمانے پر خریداری ہوئی۔ نفٹی آئی ٹی انڈیکس 5.22 فی صد بڑھ گیا۔ رئیلٹی سیکٹر 2.46 فی صد بڑھ کر بند ہوا۔ آٹو، بینکنگ، فائنانس، ایف ایم سی جی، میٹل، اور کنزیومر ڈیریبل سیکٹر کے انڈیکس میں بھی ایک فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ سینسیکس کمپنیوں میں، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز کا اسٹاک آٹھ فیصد سے زیادہ بڑھ گیا۔
کمپنی نے پیر کو اطلاع دی کہ اس کا خالص منافع سال بہ سال 21.2 فی صد بڑھ کر Rs5,132 کروڑ ہو گیا اور موجودہ مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی میں آمدنی 11.5 فیصد بڑھ کر Rs35,620 کروڑ ہو گئی۔ دیگر آئی ٹی کمپنیوں میں، ٹی سی ایس کے حصص میں 6.5 فی صد، ٹیک مہندرا کے تقریباً 5 فی صد اور انفوسس کے حصص میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ہندوستان یونی لیور، ٹرینٹ، بجاج فنسر اور بجاج فائنانس کے حصص میں 2 سے 3 فی صد اضافہ ہوا۔ ٹائٹن، مہندرا اینڈ مہندرا، بی ای ایل، بھارتی ایئرٹیل، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، الٹرا ٹیک سیمنٹ، ایچ ڈی ایف سی بینک، ٹاٹا اسٹیل، آئی ٹی سی، ایل اینڈ ٹی، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایشین پینٹس، اور ایکسس بینک کے حصص میں 1 سے 2 فی صد اضافہ ہوا۔ ریلائنس انڈسٹریز، سن فارما، اڈانی پورٹس اور پاور گرڈ کے حصص بھی سبز رنگ میں رہے۔ کوٹک مہندرا بینک، ایٹرنل اور ماروتی سوزوکی کے حصص میں کمی ہوئی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
راجیو چوک پر این ایس یو آئی کا مظاہرہ، جاکھڑ سمیت متعدد کارکنان حراست میں
نئی دہلی، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کرتے ہوئے منگل کے روز کنالٹ پلیس میں واقع راجیو چوک میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 7 پر اچانک احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرے کی قیادت این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کی۔ مظاہرین نے انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ ‘ووٹ چوری’ کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے جواب دہی اور شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے کے مدنظر کنالٹ پلیس میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ دہلی پولیس نے مسٹر جاکھڑ سمیت سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
مسٹر جاکھڑ نے کہا کہ طالب علم رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے کر انتخابی شفافیت سے جڑے سوالات کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرے کو روکنے کے بجائے حکومت کو سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ ‘ووٹ چوری’ کے خلاف ان کی تحریک جمہوری اور پرامن طریقے سے جاری رہے گی۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان6 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
دنیا6 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا7 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
