تازہ ترین
ہم کسان ہیں، اپنا وجود بچانے کے لیے لڑ رہے ہیں
جاوید اختر بھارتی
ہم کسان ہیں صبح سویرے اٹھنا ہمارا کام ہے سردی ہو یا گرمی یابرسات، دھوپ ہو یا چھاؤں صبح صبح ہم کھیتوں میں جاتے ہیں ہل چلاتے ہیں کھیتوں میں جتائی بوائی روپائی کرتے ہیں،، ہم زمین کے اندر بیج ڈالتے ہیں اور یہ سب کرنے میں ہمیں دھوپ میں جلنا پڑتا ہے، لو کے تھپیڑوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بارش کے موسم میں بھیگنا بھی پڑتا ہے
گرمی کے موسم میں سر سے پاؤں تک پسینہ بھی بہانا پڑتا ہے اور ٹھنڈک میں کانپنا اور ٹھٹھرنا بھی پڑتا ہے اور یہ سب ہم اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ (ایشور) کی ذات پر مکمل بھروسہ ہوتا ہے کہ ہماری یہ محنت رنگ لائی گئی اور ہماری یہ کوشش رائیگاں نہیں جائے گی اور جب ہمیں ہماری محنت کا صلہ ملے گا تو ہماری بھی بھوک مٹے گی اور تمام انسانوں کے پیٹ کی بھوک مٹے گی اور ہمیں ہماری محنت کا صلہ حاصل بھی ہوتا ہے ہم مٹی میں بیج ڈالتے ہیں اب اس میں سے پودا اگانا ہمارے بس کی بات نہیں ہے اگر ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم مٹی میں بیج ڈالنے کے بعد فصل تیار ہونے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ فوراً تیار کرتے اور فصل کاٹتے
یعنی روز بیجتے روز فصل تیار کرتے لیکن نہیں ہرگز نہیں ایسا ہم کبھی سوچتے بھی نہیں ہیں بلکہ ہم اس یقین کے ساتھ اپنا ہاتھ پیر چلاتے ہیں کہ فرمانِ الٰہی ہے کہ رزق دینے والا میں ہوں،، اور یہ حقیقت ہے کہ دنیا کے حکمرانوں کا آرڈر انسانوں پر چلتا ہے لیکن کوئی تو ایسی ذات ہے کوئی تو ایسی ہستی ہے جس کا کنٹرول ہواؤں پر بھی ہے، دریاؤں پر بھی ہے، پیڑ پودوں پر بھی ہے، شجر و حجر پر بھی ہے، بحر وبر پر بھی ہے یہ وہی عظیم ہستی ہے جس کے سمیع و بصیر ہونے کا عالم یہ ہے کہ وہ کالی رات میں بھی کالے پہاڑ کے کالے پتھر پر چلنے والی کالی چیونٹیوں کو دیکھتا بھی ہے اور ان کے چلنے کی آواز کو سنتا بھی ہے اسی کو رب ذوالجلال کہتے ہیں جس طرح ہمارے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم لاکھ خوشیاں منالیں یہ الگ بات ہے لیکن ہم اس بچے سے کہیں کہ تو فوراً بڑا ہوجا میرے قد کے برابر ہوجا تو یہ ناممکن ہے اسی طرح جب ہمارے کھیت میں پودا اگتا ہے تو ہمیں بڑی خوشی ہوتی ہے لیکن ہم اس پودے کو پکڑ کر کہیں کہ فوراً بڑا ہوجا تو یہ بھی ناممکن ہے اسی لئے ہم صبر سے کام لیتے ہوئے اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور اللہ ہماری محنت کا یہ صلہ دیتا ہے کہ ایک ایک بالی میں سو سو دانہ لگاتا ہے اور ہر پودہ ہر دانہ اعلان کرتا ہے کہ قدرت کے خزانے میں کوئی کمی نہیں اور اللہ کہتا ہے بھی ہے کہ میرے دئیے ہوئے رزق میں سے کھاؤ پیو اور میرا شکر ادا کرو اور زمین پر فساد برپا نہ کرو اور اسی لیے ہم نے خون پسینہ بہاکر اپنی فصل اکٹھا کی تو اس پر امیری غریبی کا لیبل نہیں لگایا، اس پر ذات برادری کا لیبل نہیں لگایا، اس پر علاقائیت اور رنگ و نسل کا لیبل نہیں لگایا اور اس پر مذہب کا بھی لیبل نہیں لگایا کیوں کہ جب ہوا پانی، زمین و آسمان سب کیلئے ہے اور آسمان سے ہونے والی بارش سب کے لیے ہے تو زمین کی چھاتی چیر کر نکلنے والا دانہ بھی سب کے لیے ہے اور اس دانے کی قدر کرنا بھی سب کی ذمہ داری ہے
اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی سب کی ہے ہم نے کھیتی کے ذریعے گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا، ملک میں امن و سلامتی قائم کرنے کا پیغام دیا، بھائی چارگی کو بڑھاوا دیا، ہم نے قومی یکجہتی کو چار چاند لگایا، ہماری محنت و مشقت کے نتیجے میں تیار ہونے والی فصل سے سب نے فائدہ اٹھایا،، چاہے کوئی جھونپڑی رہے یا شیش محل میں، چاہے کوئی سائکل سے چلے یا لال بتی کی کار سے، چاہے کوئی فٹپاتھ پر سوئے یا مخمل کی سیز پر سب نے ہماری فصل کا دانہ کھایا اور اسی لئے آنجہانی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے جے جوان جے کسان کا نعرہ دیکر ہمارا حوصلہ بڑھایا لیکن آج کچھ لوگ نئ سوچ رکھتے ہیں، ہمیں کو آنکھ دکھاتے ہیں ہمارے ہی وجود کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں کل ہم اپنے کھیتوں میں سردیوں کا سامنا کرتے تھے اور آج راجدھانی میں سردیوں کا سامنا کر رہے ہیں ہماری فریاد سننے کو تیار نہیں اور ہمارے مطالبات کو اب تک تسلیم نہیں کیا گیا ہم صاف لفظوں میں کہتے ہیں کہ زرعی قوانین ہم کسانوں کے لئے موت کا پروانہ ہے حکومت کی اس پالیسیوں سے آلو پیدا کرنے والا کسان بھکمری کا شکار ہوگا اور آلو کی چپس بنانے والا مالدار ہوگا ایسی پالیسیاں ہمیں منظور نہیں –
بنی اسرائیل کے لئے اللہ کی طرف سے من و سلویٰ آتا تھا اللہ کی طرف سے کھانا آتا تھا تو انہوں نے ذخیرہ اندوزی کرنا شروع کردیا اور قانون قدرت کو چیلنج کرنا شروع کردیا حال یہ ہوا کہ ذخیرہ اندوزی کے بعد بھی کھانے سے محروم رہ گئے،، آج پھر وہی خواب دیکھا جارہا ہے جبکہ اس کے نتائج کیا ہوں گے اس کا جواب پیاز سے ملتا ہے اور کچھ دنوں قبل آلو سے بھی جواب مل چکا ہے ہم کسانوں کے گھروں میں جب تک پیاز رہتی ہے تو سو روپے میں دس کلو تک ملتی ہے اور سرمایہ داروں کے اسٹوروں میں چلی جاتی ہے تو سوا سو روپے میں ایک کلو ملتی ہے ابھی حال ہی میں آلو بھی چلاگیا تھا بڑے لوگوں کے ایرکنڈیش کمروں میں اور وہاں سے کہنے لگا کہ اب میری بھی کوئی معمولی حیثیت نہیں ہے نتیجہ یہ ہوا کہ ساٹھ ستر روپے کلو تک آلو فروخت ہوا لیکن وہ رقم ہم کسانوں کو نہیں ملی بلکہ حکومت کے سرمایہ داروں کو ملی
ہم کسان گئے آلو کو پکڑا اسے سمجھایا کہ تجھ سے ملک کا غریب طبقہ بے انتہا پیار کرتا ہے تو اگر غریبوں سے منہ موڑے گا تو ایک دن پچھتائے گا ہمارا ہاتھ پکڑ چل غریبوں کی بستی میں چل ہمارے اپنے پرانے گھر ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ غریب طبقہ بھی تجھ سے منہ نہ موڑ لے پھر تیرا انجام بھی بڑا بھیانک ہوگا جو لوگ آج ہمارے مسائل کو نظر انداز کر رہے ہیں کل وہی لوگ تجھے بورے میں بھر بھر کر پھینکیں گے بہر حال آلو کو ہم کسانوں کی بات سمجھ میں آئی وہ ہمارے ساتھ ہمارے گھر آیا اور آج سو روپے میں آٹھ کلو دس کلو آلو مل رہا ہے زرعی قوانین کیا ہیں اور ہم کسان پریشان کیوں ہیں اور حکومت سے کیوں لڑرہے ہیں اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے –
تحریر:جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یوپی
رابطہ 8299579972 ،javedbharti508@gmail.com
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
