تازہ ترین
سفیر مسکراہٹ کا: افسانہ نگاری
الطاف جمیل ندوی
افسانہ نگاری بنیادی طور ادب کے زمرے میں آتی ہے’ یعنی یہ ایک فنی کام ہے جو مخصوص ہیئتی اور تکنیکی لوازمات کا حامل ہے۔بیشتر افسانے سماجی موضوعات اور مسائل کی تخلیقی عکاسی کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ افسانے کسی بھی سماج کی سیاسی’ سماجی’معاشی اور ثقافتی نشیب وفراز کی ادبی تاریخ بن جاتے ہیں اور اگر کوئی افسانہ نگار اپنے خطے یا اپنے سماجی ماحول کو افسانوی فن کے قالب میں ڈالتا ہے تو وہ اس خطے یا سماج کی ایک جیتی جاگتی کہانی بیان کرتا ہے اور ایک باشعور و ذمہ دار فرد کا ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔ راقم افسانہ لکھنے کے دوران ان باتوں کا خاص رکھتا ہے اس لئے میرے بیشتر افسانے کشمیر کی داستان سناتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کشمیر سے باہر کے لوگ انہیں پسند بھی کرتے ہیں افسانہ نگاری ادب کا ایک ایسا جز بن چکا ہے جس سے اب فرار کی راہ تلاش کرنا معیوب لایعنی کام ہے افسانہ نگاری کا یہ سفر انسانی کی فکر و افکار کے ساتھ پروان چڑھتا ہے.
جس بھی سماج سوسائٹی معاشرے سے افسانہ نگار وابستہ ہو اسی طرح کے افسانہ اس کے نوک قلم سے منصئہ شہود پر آتے رہتے ہیں فن افسانہ نگاری ایک الگ بات ہے مجھے اس سے بحث نہیں کرنی ہاں ہم ضرور اس بات کی اور توجہ دے سکتے ہیں کہ افسانہ نگاری کیونکر وجود میں آئی یا آتی ہے یہ ایک تخیل ہے جو انسان کی سوچوں کے ساتھ محو پرواز ہوکر انسانی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اور انسانی معاشرے کے لئے افسانہ نگار افکار و نظریات کی آبیاری کرتا ہے میں نے مختلف افسانے پڑھئے آج تک جن میں افسانہ نگاروں کی مختلف تخلیقات نے مجھے بے حد متاثر کیا جن میں عہد حاضر کے کشمیری افسانہ نگار نور شاہ جناب نذیر مشتاق پرویز مانوس طارق شبنم راجہ یوسف وغیرھم قابل ذکر ہیں جو پوری علمی و ادبی قوت سے اپنے فن میں رنگ بھرتے رہتے ہیں اور وادی کشمیر کے ادبی افق کے یہ پیارے تخلیق کار ایک درخشاں مستقبل کے لئے کوشاں و متفکر ہیں جو ان کی تخلیقات سے مترشح ہے ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے اصحاب علم و ادب کے موتی ہیں جو اپنی افسانہ نویسی سے امید سحر کی نوید سناتے ہیں.
سفیر مسکراہٹ
سوشل میڈیا پر ایک بار کسی پوسٹ پر ایک جناب نے خوبصورت انداز میں کومنٹ کرکے نیچے مسکراہٹ لفظ لکھا ہوا تھا ان کے اس انداز سے میں متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا ان سے دوستی کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے بڑے دل کے ساتھ قبول کرلیا ان کی اکثر تخلیقات سوشل میڈیا پر اسی لفظ پر اختتام ہوجاتی ہیں ہر لمحہ لبوں پر مسکراہٹ لئے یہ صاحب کوئی اور نہیں ہماری وادی کشمیر کے ایک خوبصورت علاقہ جسے ہندواڑہ کے نام سے ہم سب واقف ہیں کہ ایک خوبصورت بستی وڑیپورہ کے مکین ہیں ان کی نشو و نما جس زرخیز بستی میں ہوئی ہے وہ ازخود قابل ستائش ہے .
(میری مراد ان ہواؤں اور ان بہتے پانی کے پیارے چشموں سے ہے جو اس بستی کے لئے قدرت کا انمول تحفہ ہے میں اکثر ان علاقوں سے بے حد محبت و عقیدت رکھتا ہوں جو قدرت کے حسین نظارے پیش کرتے ہیں اور جنہیں قدرت نے خوب سنوارا ہے ایسی ہی بستیوں سے اکثر صاحب قلم و ادب اٹھتے ہیں کیوں کہ ان بستیوں کی مٹی یا پانی میں کوئی ملاوٹ نہیں ہے ) تو ایسی ہی حسین و دلکش بستی سے ہم سب کو اپنی مسکراہٹ کا تحفہ دینے والے ڈاکٹر ریاض توحیدی کا تعلق ہے جو اردو ادب کے تئیں کافی متحرک اور ممتاز مقام کے ساتھ مشغول سفیر ادب بنئے ہوئے ہیں ان سے تعلق کا اصل سبب سوشل میڈیا ہی بنا پھر کبھی کبھی ان سے ملاقاتیں بھی ہوئی جو مختصر ہی تھیں ۲۴ اگست ۲۰۱۹ کو ان کی طرف سے دو کتابوں کا ایک تحفہ ملا مجھے اس تحفہ سے بے حد خوشی و مسرت کا احساس ہوا جس کے لئے میں ان کا بے حد ممنون و مشکور ہوں ان دو کتابوں میں ایک افسانوی مجموعہ بھی ہے جس پر تھوڑی سی روشنی ڈالنے کا خواہستگار ہوں.
ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب کی افسانہ نگاری پر تصنیف ہوئی کتاب
وادی کشمیر سے ہم سب واقف ہیں یہاں کے حالات یہاں کی غربت یہاں کی مجبوریاں تو ایسے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ علم و ادب کے فروغ کے لیے کوشاں رہتے ہوں وہ بلا کیونکر ان حالات سے لاتعلق رہیں ایسے ہی ادبی افق میں سے افسانہ نگار بھی ہیں جو اپنی تخلیقات کے ساتھ اپنی قوم و ملت کی خیر خواہی کے ہی متمنی ہوتے ہیں اور یہ ہمیشہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ ادبی دنیا سے تعلق بنائے رکھنے والے اصحاب علم نے ہمیشہ اپنی قوم و ملت کے غم اور خوشی کو تخلیق کیا اسی تناظر میں جس کی قوم و ملت کو حاجت تھی.
ایسے ہی ہمارے پیارے اور ہر دل عزیز نے اپنی تخلیقات میں کوشش کی ہے کتاب کا نام کالے پیڑوں کا جنگل کالے دیوؤں کا سایہ دراصل یہ دو الگ الگ کتابیں ہیں جن مارکیٹ میں آنے کی تاریخ اور سنہ اشاعت بھی الگ الگ ہیں کتابوں کی مارکیٹ میں عدم دستیابی کے سبب اور ارباب علم اور شائقین ادب کے اسرار پر ڈاکٹر ریاض توحیدی نے دونوں کتابوں کو ایک ساتھ شائع کیا مطلب ایک ہی کتاب کی صورت اور یوں یہ کتاب مارکیٹ میں آئی اور چھا گئی کتاب کی آپ جوں ہی ورق گردانی شروع کرین گئے تو صفحہ نمبر چھ پر جلی حروف میں لکھا انتساب پڑھنے کو ملے گا میرے خیال سے مصنف محترم نے پوری کتاب کا تعارف انتساب میں ہی پیش کیا ہے گر کوئی صاحب ادب اس جانب تھوڑی سی بھی توجہ دے تو بہ آسانی پوری کتاب کے مضامین جو افسانوں پر مشتمل ہیں سمجھنے میں آسانی ہوگی
انتساب کتاب کچھ یوں ہے
وادی گلپوش کے ان ریشم مزاج بلبلوں کے نام
جو کالے پیڑوں کے جنگل کے درمیان
کالے دیوؤں کے سایوں میں بھی چہچہاتے رہتے ہیں
میں ان الفاظ کو سوچتا رہا کچھ سمجھ نہ آیا میں سوچ رہا تھا کہ پریوں کی کہانیاں ہو گئیں یا دیؤؤں کے قصے تخیل میں میری سوچیں محو پرواز تھیں کہ مصنف کی تخلیق انہیں کہانیوں کے آس پاس گھومتی ہوں گئیں جو ہم بڑے زمانے سے اپنے بڑوں سے سنا کرتے تھے جہاں پریوں کے گیت اور دیؤؤں کا جبر ہوا کرتا تھا اور اک مظلوم انسان ان کے ہاتھ آکر اپنی دنیا کو ویران پوتے دیکھا کرتا تھا پر کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے جوں ہی پہلے افسانے ماں کو پڑھا تو نگاہ کے کناروں پر نمی سی آگئی پر میری سوچ پر وہی مہیب چھایا ہوا تھا جسے میں نے اپنے تخیل میں بسائے ہوئے رکھا تھا پر اچانک سے کتاب کے ابتدائیہ جو ریاض توحیدی صاحب کے نوک قلم کا ہی کمال ہے اس پر لکھا ہوا تھا پہلے
مجھے پریوں کی یہ جھوٹی کہانی مت سناؤ تم
میں اپنی آنکھ کے اندر کئی کوہ قاف رکھتا ہوں
مجھے اس ایک شعر نے کتاب کا ہلکا پھلکا موضوع اور افسانوں کا موضوع بتا دیا کہ موصوف پریوں یا دیؤؤں کی نہیں بلکہ اپنی وادی کشمیر کے ان بلبلوں کی باتیں ان پر بیتے ستم ان کی مجبوریاں ان کی بے بسی کو تخلیقی پیرائے میں پیش کررہے ہیں اپنے پڑھنے والوں کے سامنے جہاں خوشیاں اور غم ایک ساتھ رقص کر رہی ہیں جہاں مسکراہٹیں تو دم توڑ رہی ہیں پر ہچکیاں محو پرواز ہیں جہاں آہوں اور ہچکیوں کی اک بڑی دنیا آباد ہوکر بھی ویرانے کا تصور پیش کر رہی ہے میرے لئے اس کتاب کے مطالعے کے دوران عجب احساس یہ تھا کہ یہ تمام کہانیاں معاشرے کے آس پاس ہی ہورہے حالات کے عکاس ہیں اس کتاب کے جن افسانوں نے مجھے بے حد متاثر کیا مندرجہ ذیل ہیں
گلوبل جھوٹ گمشدہ قبرستان قتل قاتل مقتول کشمیر نواز کالے پیڑوں کا جنگل ہائی جیک کالے دیوؤں کا سایہ زہریلے ناخدا وطن کی عصمت جن کے پڑھنے کے دوران آپ یقین کریں آپ کی نگاہیں بھیگ جائیں گئیں کتاب کے بقیہ افسانے بھی بہت ہی اعلی ہیں جو ہمارے لئے ایک تحریک کا سبب بن سکتے ہیں اس کتاب کے مطالعے کے لئے ہم ملتمس ہیں کہ اس ادبی روشنی کو بکھیرنے کے لئے آپ کوشش کریں تاکہ آپ اپنے سماج اور سوسائٹی کے لئے خدمت کرسکیں ضروری نہیں ہے کہ آپ قلم اٹھا کر لکھنے بیٹھ جائیں بلکہ ہم بہترین کوششوں کا استقبال بھی کرسکتے ہیں اور یہ کارہائے نمایاں ہم کبھی انجام دے سکتے ہیں جس کے لئے اصحاب علم و ادب کی تخلیقات کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسلوں تک بھی صحیح کتابوں کے ذریعہ پہنچا جائے.
افسانہ نگاری یا حرام کاری
ادب کی دنیا سے منسلک ارباب علم و ادب بخوبی جانتے ہیں کہ ادب افسانہ نگاری یا شاعری ہو ہر صنف کے نام پر بے حیائی بے شرمی اور بدی کو عام کیا جارہا ہے نئے ادیب جو مغربی افکار و نظریات کی چکا چوند سے متاثر ہیں وہ آئے روز کچھ نہ کچھ تخلیق کر ہی لیتے ہیں یا سرقہ بازی کرکے مختلف ادیب و دانشور حضرات کے ادبی شہہ پارے چرا کر نوجوان نسل کو تباہی کی اور لے جارہے ہیں ان کے افسانوں میں اکثر محبوب و معشوق ہی نکلتے ہیں سوائے اس کے انہیں سماج میں کیا کچھ ہورہا ہے نظر نہیں آتا ہمیں اس بلا سے چھٹکارا پانے کے لئے لازم ہے کہ بہتر ادب اور ادیب کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ صالح اور پاکیزہ ادب ہی منصئہ شہود پر پر آتا رہے
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
