تازہ ترین
تشدد کے حامی لوگوں نے جہاں لسہ کول اور پریم ناتھ کو مارا، وہی مولانا محمد فاروق، مولوی مسعودی اور مشیر الحق کو بھی نہیں بخشا/یوسف تاریگامی
سری نگر،(یو این آئی): سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے پنڈتوں کی وادی سے مائیگریشن کو ایک المناک واقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھی حقیقت یہ ہے کہ تشدد حامی قوتوں نے یہاں تمام مذاہب وملت سے وابستہ لوگوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ جہاں کشمیر میں پنڈت برادری کے با اثر شخصیات کو مارا گیا وہیں مسلمانوں اور سکھ برادری ک بڑی شخصیتوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین باب پنڈتوں کی مائیگریشن ہے اور اس سے کشمیری شناخت کو بھی آنچ پہنچی۔اْن کے مطابق ہمارے سماج کے ایک حصے کو خوف اور ڈر کے مارے وادی چھوڑنا پڑا جو ایک المیہ سے کم نہیں.
یوسف تاریگامی نے مزید کہا کہ مرحوم مولانا محمد فاروق کو کسی نے مارا اور اْن کے نماز جنازہ میں شامل درجنوں لوگوں پر گولیاں کس نے چلائیں؟ اْن کا کیا قصور تھا۔
انہوں نے بتایا کہ چھٹی سنگھ پورہ میں سکھ برادری کے لوگوں کو کس نے مارا؟ یہ ہماری تصویر کا دوسرا رخ ہے لیکن اس بارے میں کوئی بات ہی نہیں کر رہا ہے۔
انہوں نے کشمیر فائلز فلم بنانے والوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ ان آنسووں کا کون سے رنگ ہے۔اْن کے مطابق سچائی یہ بھی ہے کہ تشدد کے حامی قوتوں نے یہ نہیں دیکھا کہ لوگ کس ملت، مذہب اور عقیدے کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔
مسٹر تاریگامی نے بتایا کہ تشدد کے حامی قوتوں نے جہاں لسہ کول کو مارا وہی پر محمد شعبان وکیل کو بھی گولیوں سے بوندھ کر رکھ دیا گیا۔اْنہوں نے مزید بتایا کہ بزرگ رہنما مولانا مسعودی جو بستر مرگ پر تھے اْن کو بھی نہیں بخشا گیا۔
ان کے مطابق جہاں جنرل منیجر ایچ ایم ٹی کھیرا صاحب کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا وہی کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر مشیر الحق صاحب اور اْن کے پرائیوٹ سیکریٹری عبدالغنی کو بھی نہیں بخشا گیا۔
انہوں نے کہاکہ کیا یہ حقیقت نہیں جن کا سیاست کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا اْنہیں بھی قتل کیا گیا۔اننت ناگ میں پریم ناتھ صاحب کا قتل کیا گیا وہاں غلام محمد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ میرا سوال اْن قوتوں سے جو آج بھی خونِ کشمیر کا سودا کر رہے ہیں، مختلف بازاروں میں اس کو بیچ رہے ہیں، بس کروں، کون مرا، کس نے مارا جو بھی مرا میرا رشتہ ہی مرا۔
تاریگامی نے جذباتی انداز میں کہا کہ جہاں وندہامہ کا المناک سانحہ پیش آیا، وہی پر گاو کدل سانحہ کو بھولا نہیں جاسکتا،جہاں گاندربل کے علاوہ بڈگام میں کچھ اقلیتوں کو مارا گیا وہی کپواڑہ میں ایک بس بانڈی پورہ سے آرہی تھی اْس میں سوار مسافروں کو کس نے چن چن کر مارا۔
جہاں سوپور کی ایک معصوم پنڈت بہن کی عصمت فروشی کے بعد اْس کا قتل کیا گیا، وہی کنن پورشپورہ کا سانحہ بھی ہمارے سامنے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پی ڈی پی سے تعلق رکھنے والے ممبران اور کارکنوں کو کس نے مارا؟تاریگامی کا مزید کہنا تھا کہ سب سے پہلے المناک موت سری نگر سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے کارکن محمد یوسف حلوائی کی ہوئی جب انتہا پسندوں نے پندرہ اگست پر بلیک آوٹ کی کال دی تھی اْس کی مخالفت میں این سی کارکن کو مارا گیا۔
اْنہوں نے بتایا کہ سیاسی معاملات کی خاطر خونِ آدم کو پیش کیا جائے، ملک اور عوام کے لئے نقصان دہ ہے۔مسٹر تاریگامی نے ملک کے با اثر اور اہل اقتدار لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ کشمیر ایک زمین کا ٹکڑا نہیں، کشمیر تہذیب کا نام ہے، ہماری پانچ ہزار سال کی ایک شاندار تاریخ ہے جس سے کوئی مٹانہیں سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری شناخت مٹ نہیں سکتی ہاں اتنا ضرور ہے کہ تہذیب کو دھچکا لگ سکتا ہے۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
