تازہ ترین
آہ! مولانا جلال الدین عمری نہ رہے
محمد فہیم اختر ندوی
یوں تو جو بھی آیا ہے اسے جانا ہے، لیکن کچھ لوگوں کا گذرنا بڑا سانحہ ہوتا ہے، اور ہر زبان پکار اٹھتی ہے کہ
ویراں ہے میکدہ خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ لٹ گئے دن بہار کے
عربی شاعر نے کہا تھا
ما كان قيس هلكه هلك واحد
ولكنه بنيان قوم تهدما
مولانا کی وفات دنیائے علم کا ایک بڑا خسارہ ہے۔ ادھر کچھ عرصہ سے اہل علم شخصیات اس تیزی سے بزم عالم کو سونا کرتی جارہی ہیں کہ ایک غم کے آنسو خشک نہیں ہوتے کہ دوسرا غم سیل اشک رواں کردیتا ہے۔ لیکن مولانا عمری کی وفات نے علمی اور دینی حلقے میں غم کی لہر دوڑا دی ہے۔۔ ہر دل غمگین، ہر چشم اشک بار، ہر زبان گنگ اور کلمات تعزیت و دعا سے تر ہے۔۔
آج جمعہ کے دن مؤرخہ 26 اگست 2022 کو شب قریب ساڑھے آٹھ بجے مولانا جلال الدین عمری نے دہلی میں اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی، 1935 میں آپ کی ولادت ہوئی تھی۔ آپ نے ایک سنجیدہ، باوقار اور بھرپور علمی و دعوتی زندگی گزاری۔ اور اپنے پیچھے اپنے علمی کاموں اور کارناموں کے تابندہ نقوش چھوڑ گئے۔۔
مولانا عمری یوں تو ملک کی معروف و متحرک تحریک جماعت اسلامی ہند سے وابستہ اور دو بار امیر رہے، لیکن آپ کی وابستگی متعدد اہم اداروں اور جماعتوں کے ساتھ بھی رہی۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن رکیں اور سرگرم ممبر رہے۔
میری خوش قسمتی رہی کہ مجھے مولانا عمری کی صحبت با فیض میں رہنے اور متعدد مواقع پر ان سے استفادہ کرتے رہنے کے مواقع فراہم ہوتے رہے۔ مولانائے مرحوم کی شفقت مجھ کمترین پر بے حد رہی ہے۔۔
مولانا کے ساتھ رفاقت اور صحبت کے متعدد واقعات ذہن کے پردہ پر اس وقت ابھر رہے ہیں۔ اور ان میں مولانا کی شخصیت کی گوناگوں خوبی اور علم و اخلاق کے عمدہ نقوش موجود ہیں۔
یادش بخیر کہ دہلی میں قیام کے دوران مولانا کے پاس بار بار حاضری ہوتی تھی، اس وقت بھی جب آپ امیر نہیں ہوئے تھے، اور تب بھی جب آپ امارت کے منصب پر فائز تھے، ہماری حاضری خالص علمی غرض سے ہوتی، اور مولانا ہر بار علم اور تحریر کے قیمتی نکات سے ہمارے دامن کو بھردیتے تھے۔ مولانا کے آفس کا کمرہ انتظامی کم اور علمی زیادہ نظر آتا تھا، مراجع کی اہم کتابیں گرد و پیش ہوتیں، اور سامنے میز پر کسی تحریر کی تیاری میں مصروف ہوتے۔ بڑے ملنسار، خوش مزاج، نرم لہجہ، شیریں زبان اور علمی موضوع پر ٹھہر ٹھہر کر گفتگو کرنے والے تھے۔ تحریر بڑی سادہ اور رواں لکھتے اور اس کی ترغیب دیتے تھے۔ امارت سے قبل کی بات ہے۔ ایک بار میں حاضر ہوا، مولانا کے تصنیفی موضوعات پر گفتگو نکلی، اور آپ فرما نے لگے کہ خواتین کے موضوع پر اللہ نے اہم کام مجھ سے کرادیے ہیں۔۔ سچ ہے کہ خواتین کے حقوق اور اعتراضات کے جوابات پر آپ کی تصنیفات مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی ایک تصنیف پر آپ سے مقدمہ کی فرمائش کی، اور وہ تحریر آپ کی خدمت میں پیش کی۔ دوبارہ حاضری پر دیکھا کہ آپ نے پوری تحریر پڑھی اور چند جگہوں پر زبان کو اور سہل بنایا تھا۔ پھر کہنے لگے کہ میں اپنی تحریر کو سہل اور رواں رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آپ کا وہ مقدمہ میری کتاب پر مطبوعہ ہے۔ مجھے یہ بھی شرف حاصل رہا کہ آپ کی کتاب اسلام کا عائلی نظام جب طبع ہوئی تو اس پر میں نے تبصرہ لکھا۔۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگوں میں مجھے بارہا مولانا کے ساتھ بیٹھنے اور انھیں سننے کا موقع ملا۔ ان دنوں مولانا سراج الحسن صاحب امیر جماعت ہوا کرتے تھے، مولانا عمری صاحب بڑے سلجھے انداز مین اور مدلل طور پر اسلام کے عائلی مسائل پر اسلامی موقف پیش کیا کرتے تھے۔ میں صدر بورڈ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رح کے ساتھ رہنے اور بورڈ کی آفس کے کاموں کو اعزازی طور پر دیکھنے کی وجہ سے کثرت کے ساتھ ان بزرگوں سے رابطے میں رہا کرتا تھا۔ مولانا کی صحبت بڑی دلنشیں اور خوشگوار ہوا کرتی تھی
بہت لگتا ہے جی صحبت میں ان کی
چہرہ پر خوشی، نظروں میں ذہانت آمیز جھکاؤ اور شیریں بیانی دل موہ لیا کرتی تھی۔
پڑوسی ملک میں امام ابو حنیفہ پر ہونے والے عالمی سیمینار میں مولانا اور دیگر اہل علم کے وفد کی شرکت تو خوشگوار یادوں کا حسین مرقع ہے، اس سیمینار میں مولانا اپنے باوقار علمی انداز کے ساتھ جلوہ فگن رہے تھے۔ اسی سفر میں میاں طفیل صاحب سے بھی ہماری ملاقات رہی تھی۔
حیدر آباد آمد کے بعد مولانا سے میری ملاقاتیں کم ہوگئی تھیں۔ لیکن یہاں قیام کی کئی ملاقاتیں اور صحبتیں بھی یادگار ہیں۔ ورنگل میں جامعہ الصفہ کے سالانہ اجلاس میں مولانا کے ساتھ میری بھی شرکت رہی تھی۔ اور مولانا کی طویل و جامع گفتگو سے قبل میری مختصر گفتگو اس حوالے کے ساتھ ختم ہوئی تھی کہ اصل خطاب تو مولانا موصوف کا ہونے والا ہے۔
میرے لئے یہ عزت افزائی کی بات ہے کہ دہلی سفر کے دوران میں خصوصیت کے ساتھ مرکز کی مسجد میں نماز جمعہ کےلئے جاتا اور مولانا کے قرآنی خطاب سے مستفید ہوتا اور پھر ان کی شفقت آمیز ملاقات سے جیب و دامن کو بھر کر واپس لوٹتا تھا۔۔ خطاب ہی سے یاد آیا کہ مولانا عمری صاحب کے خطاب کو سننے کےلئے عیدین کی نماز میں بڑا مجمع اکٹھا ہوا کرتا تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب ابو الفضل انکلیو کی آبادی بہت زیادہ نہیں ہوا کرتی تھی۔ ان مواقع پر مولانا کی تقریر بڑی ہمت افزا اور چشم کشا ہونے کے علاوہ راہ عمل دکھانے والا ہوا کرتی تھی۔۔
آج مولانا رخصت ہوگئے ہیں تو یہ سب یادیں ہیں جو ذہن کے پردہ پر ابھرتی جارہی ہیں۔
مولانا عمری معتدل رجحان، معتدل رائے اور علمی و تحقیقی ذہن رکھنے والے شخص تھے۔ آپ کی تحریریں مدلل، سلیس، مؤثر اور متوازن ہوا کرتی تھیں۔ آپ نے نئے نئے موضوعات اور اچھوتے گوشوں کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے، آپ کی تحریروں میں قرآن سے براہ راست استفادہ کے ساتھ مستند مفسرین سے استفادہ کا عمدہ اور قابل تقلید نمونہ ملتا ہے۔ مستند احادیث اور فقہا کی آراء سے استناد بھی آپ کی تحریروں کی شان اور پہچان ہے۔ مولانا بڑے بلند اخلاق اور بے ضرر شخصیت رکھتے تھے۔ تواضع ان کی چال اور گفتار سے عیاں تھا۔
اپنی ان جیسی خوبیوں کی وجہ سے وہ ہر حلقہ میں محبوب اور ہر جگہ قابل احترام تھے۔۔
اب وہ گذر گئے تو دل فگار اور خامہ اشکبار ہے، غموں اور یادوں کا ہجوم ہے۔۔ زبان پر یہ نالہ ہے کہ
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے۔۔
سچ ہے کہ انا بفراقک لمحزونون۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ہم دور بیٹھے غمگسار بارگاہ ایزدی میں مغفرت کے ہاتھ پھیلائے مولانا مرحوم کو سپرد خاک کرتے ہیں۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoحوثیوں کے باب المندب میں بحری جہاز پر حملے میں 6 افراد ہلاک، یمنی حکومت کا دعویٰ
