تازہ ترین
جنرل عاصم منیر پاک فوج کے 17 ویں آرمی چیف بن گئے
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمان کی چھڑی جنرل عاصم منیر کو سونپ دی، جنرل عاصم منیر نے بطور 17ویں آرمی چیف پاک فوج کی کمان سنبھال لی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی 6 سالہ مدت ملازمت مکمل کر کے اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔
راولپنڈی جی ایچ کیو میں پاک فوج میں تبدیلی کمانڈ کی پُر وقار تقریب کا انعقاد ہوا۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے تقریب میں شرکت کی۔
تقریب کے مہمان خصوصی جنرل قمر جاوید باجوہ کی جنرل عاصم منیر کے ہمراہ پنڈال آمد پر گارڈز نے انہیں سلامی دی جس کے بعد تلاوت کلامِ پاک سے تقریب کا آغاز کیا گیا جس کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کو الوداع گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اعزازی گارڈ کا معائنہ کیا، اعزازی گارڈ نے سلامی کے چبوترے کے سامنے سے مارچ پاسٹ بھی کیا۔
تقریب کے شروع میں پاک فوج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل عاصم منیر نے یادگار شہداء پر حاضری دی، جہاں پر شہداء کے لیے دعا کی گئی۔
اعزازی شمشیر یافتہ جنرل سید عاصم منیر کمان کی تبدیلی کی تقریب میں فور اسٹار جنرل کے شولڈر رینکس اور کالر میڈل لگا کر شریک ہوئے۔
جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب میں تمام مسلح افواج کے سربراہان، اعلیٰ سول، فوجی افسران شریک ہوئے، پُروقار تقریب میں سفارتکار اور صحافیوں نے بھی شرکت کی۔
اس کے علاوہ وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللّٰہ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
جنرل عاصم منیر کی فوج میں خدمات
جنرل عاصم منیر اعزازی شمشیر یافتہ، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس، آئی ایس آئی کے سربراہ، کور کمانڈر گوجرانوالہ رہ چکے ہیں۔
جنرل عاصم منیر کو 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس تعینات کیا گیا۔
اکتوبر 2018 میں ان کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا، تاہم 8 ماہ کی مختصر مدت کے بعد ان کی جگہ جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کر دیا گیا۔
بطور لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر 2 سال تک کور کمانڈر گوجرانوالہ رہے جس کے بعد وہ جی ایچ کیو راولپنڈی میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔
جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہوں گے جو ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں، وہ پہلے آرمی چیف ہیں جو اعزازی شمشیر یافتہ ہیں۔
نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر مثالی یادداشت کے حامل اور حافظِ قرآن بھی ہیں۔
انہوں نے بطور لیفٹیننٹ کرنل اپنے شوق کے باعث 38 سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔
پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پاک فوج کی کمان کس کس کے ہاتھ میں کتنی مدت کیلئے رہی؟
1972 میں تعینات ہونے والے جنرل ٹکا خان کی سربراہی سے قبل آرمی چیف کا عہدہ کمانڈر انچیف کے طور پر جانا جاتا تھا،1947 سے 1972 تک پاک آرمی کے 6کمانڈرانچیف رہے،
ملک کے سب سے پہلے کمانڈر انچیف کا نام جنرل سر فرینک میسروی تھا۔
دوسرے کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی نے 1948 سے لے کر اپریل 1951 تک اپنی ذمے داریاں ادا کیں، 1951 میں تعینات ہونے والے جنرل ایوب خان پاکستان کے پہلے فور سٹار جنرل اور فیلڈ مارشل تھے۔
1958 میں تعینات ہونے والے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان 8 سال تک تعینات رہے،ملک کے پانچویں آرمی چیف جنرل یحییٰ خان 18 ستمبر 1966 سے 20 دسمبر 1971 تک ملک کے سپہ سالار رہے۔
چھٹے کمانڈر انچیف جنرل گل حسن خان قومی تاریخ کے سب سے مختصر مدت ایک سال کے لیے فوجی سربراہ بننے والی شخصیت ہیں، جو 20 دسمبر 1971 سے 2 مارچ 1972 تک فوجی سربراہ رہے۔
یکم مارچ 1976 کو جنرل ضیاالحق کو اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آرمی چیف تعینات کیا، جنرل ضیاء الحق نے پانچ مئی 1977 کو مارشل لاء لگایا جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو بھانسی دے دی گئی۔
جنرل ضیاء نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے یعنی 11 سال سے زائد تک آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تھا۔
17 اگست 1988 کو جنرل ضیاءالحق کی طیارہ گرنے سے ہلاکت کے بعد جنرل اسلم بیگ ملک کے 9 ویں آرمی چیف بنے تھے انہوں نے اگست 1988 سے لے کر اگست 1991 تک اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔
جنرل آصف نواز کو 16 اگست 1991 کو تعینات کیا گیا، انہوں نے جنوری 1993 تک اپنی ذمے داریاں ادا کیں، جنرل عبدالوحید کاکڑ 1993 سے جنوری 1996 تک تعینات رہے۔
12ویں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے جنوری 1996 سے 1998 تک ذمے داریاں ادا کیں۔
13ویں آرمی چیف پرویز مشرف اکتوبر 1998 سے لے کر نومبر 2007 تک پاک فوج کے سربراہ رہے،جنرل اشفاق پرویز کیانی 2007 سے نومبر 2013 تک فوج کے سپہ سالار رہےجبکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نومبر 2013 سے نومبر 2016 تک فرائض انجام دیے۔
ملک کے 16 ویں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنا عہدہ نومبر 2016 کو سنبھالا تھا،جو 29 نومبر 2022 تک آرمی چیف رہے۔
دنیا
جنوبی ہسپانیہ زلزلے سے لرز اٹھا، عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان
میڈرڈ، جمعہ کی دیر شب جنوبی ہسپانوی شہر غرناطہ میں 5 کی شدت کا زلزلہ آیا، اور علاقائی حکومت نے بتایا کہ گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا مگر کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ زلزلہ الہندین کے میٹروپولیٹن علاقے میں آیا ۔
ہسپانوی ٹیلی ویژن چینل ٹی وی ای نے سڑکوں پر ملبہ بکھرنے اور اس مقبول سیاحتی شہر میں کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے مناظر نشر کیے۔
اندلس کے ہنگامی خدمات ادارے نے نقصان زدہ عمارتوں سے متعدد افراد کو نکالا۔
اندلسی صوبائی حکومت کے نائب صدر انتونیو سانز کابییلو نے ہفتے کو ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ حکام نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ”اگر آپ غرناطہ میں ہیں، آپ نے زلزلہ محسوس کیا ہے، آپ خیریت سے ہیں اور آپ کے گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تو پرسکون رہیں اور غیر ضروری طور پر عمارتوں میں داخل یا باہر نہ ہوں۔”
کہا گیا ہے کہ سڑک پر عمارتوں کے سامنے والے حصوں، سجاوٹی کناروں، بالکونیوں، دیواروں اور دیگر ایسے حصوں سے دور رہیں جن کے گرنے کا امکان ہو سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیں گے: ٹرمپ
واشنگٹن] صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی آبنائے ہرمز کو ’امریکی علاقہ‘ قرار دے سکتے ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے نیو یارک کی ناساؤ کاؤنٹی میں ایک تقریب میں کہا کہ “میں نے ایران کو اچھی طرح سے شکست دینے کے بعد، میں جلد ہی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دوں گا۔”
صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے فوج کو “میرے خیال سے کچھ زیادہ” استعمال کیا ہے لیکن دلیل دی کہ ایرانی حکومت کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے تہران پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو “امریکی علاقہ” قرار دینے کے بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے تاکید کی کہ تہران اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی جاری رکھے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، “آبنائے ہرمز کو ٹویٹس، طیارہ بردار جہازوں، فرمانوں یا انتخابی تقریروں سے نہیں پکڑا جا سکتا۔ ایران دھمکیوں یا طاقت کے مظاہروں سے خوفزدہ نہیں ہے۔” مسٹر غریب آبادی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو “اسٹریٹجک اور اہم شکست” ہوئی ہے اور اصرار کیا کہ “آبنائے ہرمز ایران کا ہے، ایران کا ہے اور ایران کا ہی رہے گا۔”
انہوں نے کہا کہ “یہ آبنائے صرف ایران کے حکم پر بند اور کھلے گا،” انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت تک ناکہ بندی برقرار رکھے گا جب تک امریکہ اسے “شکست کی حقیقت” کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں سات افراد جاں بحق، حملوں میں شدت
بیروت، جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں سات افراد جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے رات بھر کئی قصبوں اور دیہات پر حملوں میں شدت پیدا کردی۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق ہفتے کی علی الصبح نبطیہ ضلع کے قصبے انصار کے مضافات میں ایک مکان کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
اسلامک میسج اسکاؤٹ ایسوسی ایشن، اسلامک ہیلتھ اتھارٹی اور لبنان کی سول ڈیفنس کی ہنگامی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور جاں بحق و زخمی افراد کو نبطیہ کے اسپتالوں میں منتقل کرنے میں مصروف رہیں۔
یہ جون میں ہونے والے معاہدوں کے بعد لبنان میں اسرائیل کا سب سے ہلاکت خیز رپورٹ شدہ حملہ ہے۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی آئی تھی۔
این این اے کے مطابق ہفتے کی علی الصبح اسرائیلی حملوں میں شدت آگئی اور نبطیہ الفوقا کے قریب علی الطاہر پہاڑی سلسلے پر متعدد فضائی حملے کیے گئے۔
دو دیگر حملوں میں نبطیہ الفوقا میں اساتذہ کے تربیتی مرکز اور حسینی کلب کے قریب کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ انصار اور زَراریہ کے درمیان واقع وادی پر بھی حملہ کیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ دو ماہ قبل جنگ بندی کے بعد جنوبی لبنان میں اس قدر اندر تک کیا جانے والا پہلا حملہ تھا۔
این این اے نے بتایا کہ سرحد کے قریب بنت جبیل میں اسرائیلی فوج نے کئی مکانات تباہ کردیے اور کونین-صف الہوا سڑک کے ساتھ واقع گھروں کی جانب بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی۔
اسرائیلی فضائی حملے میں نصف شب سے کچھ دیر قبل المنصوری کے علاقے المشاعہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت اور اس کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی سرپرستی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بعد تشدد میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور مکانات کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے۔
اس فریم ورک کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا اور جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جمعہ کے روز حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے فریم ورک پر عمل درآمد کے حوالے سے لبنانی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ جب اسرائیلی حملے جاری ہیں، اس کے باوجود حکام لبنانی فوج پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “آپ لبنانی فوج کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اسے مسلسل ذلت کا شکار کیسے ہونے دے سکتے ہیں اور اسے اسرائیلی بمباری اور دباؤ کے سامنے کیسے لا سکتے ہیں”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
