تازہ ترین
مرکز ریاست میں پنچائتی انتخابات کو کرانے میں اتنی سنجیدہ کیوں ؟؟
رضوان سلطان :
وزیر اعظم نریندر مودی نے 15اگست کی تقریب میں دلی کے لال قلعے کی فصیل سے پانچواں بار اپنی 80منٹ کے خطاب میں بھارت کی29 ریاستوں میں سے ذیادہ ذکر ریاست جموں کشمیر کا کیا ۔
مودی نے اپنے خطاب میں دہشتگردی کے علاوہ کئی مسائل پر بات کی ۔اپنے خطا ب میں پی ایم مودی نے خاص طور پر ریاست میں پنچایتی انتخا بات کو کرانے کی بات کہی ۔ نریندر مودی نے کہا کہ جمو ں کشمیر میں پنچایتی انتخابات نہ ہو نے کی وجہ سے کئی مرکزی سکیموں کو روبہ عمل نہیں لایا جا سکا ، کیوں کہ یہ سکیمیں صرف پنچایتوں کے ذریعے ہی عملائی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں سماج کے سبھی طبقوں اور خطوں کی ترقی کو یقینی بنایا جائے ۔
وہیں انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال سے سینکڑوں پنچ ان سے ملے جنہوں نے پنچایتی انتخابات کو کرانے کی مانگ کی ، انہوں نے کہا کہ جلد ہی ریاست میں پنچایتی انتخابا ت کرائے جائیں گے ۔
اب سوال یہ کہ مرکز ریاست جموں کشمیر میں پنچایتی انتخابات کو کروانے میں کیو ں اتنی سنجیدہ ہے ، اور کیا ان پنچایت انتخابات کو کروانے سے کشمیر میں مسائل حل ہونگے ۔
انتخابات کو کرانے سے کیا واقعی مرکز ریاست اور خاص طور پر کشمیر کو ترقی کے راستہ پر گامز ن کرے گا ۔ جہاں اتنی رشوت خوری کے علاوہ اور بھی دیگر مسائل ہیں ۔
وہیں گورنر این این ووہرا نے سرینگر کے شیر کشمیر کرکٹ اسٹیدیم میں یوم آزادی کی تقریب کے دوران اپنے خطاب میں پنچایتی اور شہری و بلدیاتی انتخابات کا بگل بجا دیا گورنر نے بتایا کہ زمینی سطح پر جمہوری اداروں کو مضبوطی اور استحکام کیلئے لازمی ہے کہ ریاست میں پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے جائے ، تاکہ ریاست میں ترقی کو یقینی بنانے کیلئے فنڈس کو واگذار کیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر یہاں وقت پر پنچایتی انتخابات منعقد ہوئے ہوتے تو ترقی کو یقینی بنانے کیلئے یہاں پر وافر مقدار میں فنڈس کو واگذار کرایا گیا ہو تا ، لیکن نامساعد حالات کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو پایا ۔انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں سال ستمبر اور اکتوبر میں بلدیاتی جبکہ اکتوبر سے دسمبر تک مرحلہ وار طریقے سے پنچایتی انتخابات کرائے جائیں گے ۔
انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں سے تعاون بھی طلب کیا ۔
آپ کو بتادیں آخری بار ریاست میں پنچایتی انتخابات 2011 میں کرائے گئے تھے ، جن میں 4000سرپنچ اور 29000ہزار پنچ انتخابات کے ذریعے چنے گئے تھے ۔لیکن اس کے بعد جنگجو حملو ں میں 16پنچ ، سرپنچ مارے گئے تھے جبکہ 30 سے زائد زخمی بھی کئے گئے تھے ،اس دوار ن خوف سے کئی پنچایت ممبروں نے استعفیٰ بھی دے دئے تھے ۔
اب گورنر نے تو کہہ دیا ہے کہ انتخابات اکتوبر سے ہوں گے ، اور اب اکتوبر میں ہی پتہ چل پائے گا کہ یہ انتخابات وقت پر ہوں گے یا ہیں وہیں ان انتخابات کو شفاف طریقے سے کروانے میں سیاسی پارٹیاں کتنا تعاون دیں گی
دنیا
جنوبی ہسپانیہ زلزلے سے لرز اٹھا، عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان
میڈرڈ، جمعہ کی دیر شب جنوبی ہسپانوی شہر غرناطہ میں 5 کی شدت کا زلزلہ آیا، اور علاقائی حکومت نے بتایا کہ گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا مگر کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ زلزلہ الہندین کے میٹروپولیٹن علاقے میں آیا ۔
ہسپانوی ٹیلی ویژن چینل ٹی وی ای نے سڑکوں پر ملبہ بکھرنے اور اس مقبول سیاحتی شہر میں کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے مناظر نشر کیے۔
اندلس کے ہنگامی خدمات ادارے نے نقصان زدہ عمارتوں سے متعدد افراد کو نکالا۔
اندلسی صوبائی حکومت کے نائب صدر انتونیو سانز کابییلو نے ہفتے کو ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ حکام نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ”اگر آپ غرناطہ میں ہیں، آپ نے زلزلہ محسوس کیا ہے، آپ خیریت سے ہیں اور آپ کے گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تو پرسکون رہیں اور غیر ضروری طور پر عمارتوں میں داخل یا باہر نہ ہوں۔”
کہا گیا ہے کہ سڑک پر عمارتوں کے سامنے والے حصوں، سجاوٹی کناروں، بالکونیوں، دیواروں اور دیگر ایسے حصوں سے دور رہیں جن کے گرنے کا امکان ہو سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیں گے: ٹرمپ
واشنگٹن] صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی آبنائے ہرمز کو ’امریکی علاقہ‘ قرار دے سکتے ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے نیو یارک کی ناساؤ کاؤنٹی میں ایک تقریب میں کہا کہ “میں نے ایران کو اچھی طرح سے شکست دینے کے بعد، میں جلد ہی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دوں گا۔”
صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے فوج کو “میرے خیال سے کچھ زیادہ” استعمال کیا ہے لیکن دلیل دی کہ ایرانی حکومت کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے تہران پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو “امریکی علاقہ” قرار دینے کے بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے تاکید کی کہ تہران اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی جاری رکھے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، “آبنائے ہرمز کو ٹویٹس، طیارہ بردار جہازوں، فرمانوں یا انتخابی تقریروں سے نہیں پکڑا جا سکتا۔ ایران دھمکیوں یا طاقت کے مظاہروں سے خوفزدہ نہیں ہے۔” مسٹر غریب آبادی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو “اسٹریٹجک اور اہم شکست” ہوئی ہے اور اصرار کیا کہ “آبنائے ہرمز ایران کا ہے، ایران کا ہے اور ایران کا ہی رہے گا۔”
انہوں نے کہا کہ “یہ آبنائے صرف ایران کے حکم پر بند اور کھلے گا،” انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت تک ناکہ بندی برقرار رکھے گا جب تک امریکہ اسے “شکست کی حقیقت” کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں سات افراد جاں بحق، حملوں میں شدت
بیروت، جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں سات افراد جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے رات بھر کئی قصبوں اور دیہات پر حملوں میں شدت پیدا کردی۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق ہفتے کی علی الصبح نبطیہ ضلع کے قصبے انصار کے مضافات میں ایک مکان کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
اسلامک میسج اسکاؤٹ ایسوسی ایشن، اسلامک ہیلتھ اتھارٹی اور لبنان کی سول ڈیفنس کی ہنگامی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور جاں بحق و زخمی افراد کو نبطیہ کے اسپتالوں میں منتقل کرنے میں مصروف رہیں۔
یہ جون میں ہونے والے معاہدوں کے بعد لبنان میں اسرائیل کا سب سے ہلاکت خیز رپورٹ شدہ حملہ ہے۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی آئی تھی۔
این این اے کے مطابق ہفتے کی علی الصبح اسرائیلی حملوں میں شدت آگئی اور نبطیہ الفوقا کے قریب علی الطاہر پہاڑی سلسلے پر متعدد فضائی حملے کیے گئے۔
دو دیگر حملوں میں نبطیہ الفوقا میں اساتذہ کے تربیتی مرکز اور حسینی کلب کے قریب کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ انصار اور زَراریہ کے درمیان واقع وادی پر بھی حملہ کیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ دو ماہ قبل جنگ بندی کے بعد جنوبی لبنان میں اس قدر اندر تک کیا جانے والا پہلا حملہ تھا۔
این این اے نے بتایا کہ سرحد کے قریب بنت جبیل میں اسرائیلی فوج نے کئی مکانات تباہ کردیے اور کونین-صف الہوا سڑک کے ساتھ واقع گھروں کی جانب بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی۔
اسرائیلی فضائی حملے میں نصف شب سے کچھ دیر قبل المنصوری کے علاقے المشاعہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت اور اس کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی سرپرستی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بعد تشدد میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور مکانات کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے۔
اس فریم ورک کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا اور جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جمعہ کے روز حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے فریم ورک پر عمل درآمد کے حوالے سے لبنانی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ جب اسرائیلی حملے جاری ہیں، اس کے باوجود حکام لبنانی فوج پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “آپ لبنانی فوج کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اسے مسلسل ذلت کا شکار کیسے ہونے دے سکتے ہیں اور اسے اسرائیلی بمباری اور دباؤ کے سامنے کیسے لا سکتے ہیں”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
