تازہ ترین
ننت ناگ مدبھیڑ : حزب ڈیو ژنل کمانڈر سمیت 2جنگجو جاں بحق ، فورسز کے ساتھ تصادم میں متعدد زخمی
خبر اردو
جنوبی کشمیر اننت ناگ کے بونہ پورہ مونیواڑ کھنہ بل علاقے میں منگل اور بدھ کی در میانی شب کو فوج اور فورسز نے مشترکہ طور پر ایک مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر علاقے کا سخت محاصرا عمل میں لایا ۔اس دوران فورسز نے علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھو نڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا ۔ فورسز کی تلاشی پارٹی جوں ہی مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچی تو اس دوران یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پر شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی جھڑپ کا با ضابطہ آغاز ہو گیا ۔انہوں نے بتایا کہ بدھ کی صبح 5بجے سے ہی فوج اور جنگجوؤں کے مابین وقفے وقفے سے گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں بنہ پورہ مو نیواڑ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں مکمل طور پر سکوت چھایا رہا۔انہوں نے بتایا کہ دن چڑھنے کے ساتھ ہی فورسز نے اپنی کاروائی میں تیزی لاتے ہو ئے کھنہ بل اور اس کے ملحقہ علاقوں میں خار دار تاریں بچھا کر جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن شروع کر دیا ۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران فورسز کی بکتر بند گاڑیوں نے مکان کے نزدیک جاکر بارودی مواد نصب کر کے مکان کو زمین بوس کر دیا ۔انہوں نے بتایا کہ بعد میں فورسز نے مکان کے ملبے سے 2جنگجوؤں کی لاشیں بر آمد کی جن میں حز ب المجاہدین کے سرکردہ اور دیرینہ کمانڈر الطاف احمد ڈار عرف کاچرو، معین ولد مر حوم غلام محمد ڈار ساکنہ ہاوورہ مشی پورہ اور ان کے ساتھ عمر رشید وانی ساکنہ کھڈ ونی شامل ہیں
اس دوران پولیس نے جھڑپ کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ منگل اور بدھ کی در میانی شب کو فوج اور ایس او جی و سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع کی بناء پر بنہ پورہ مو نیواڑ کا محاصرا عمل میں لایا جس کے دوران جو ں ہی فورسز اہلکاروں نے مشتبہ مکان کی جانب پیش قدمی کی تو یہاں پناہ لئے ہو ئے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی جھڑپ کا آغاز ہو گیا ۔انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے اختتام پر فورسز اہلکاروں نے مکان کے ملبے سے 2جنگجوؤں کی لاشیں بر آمد کی جن میں حزب المجاہدین کا سرکردہ اور دیرینہ کمانڈر الطاف احمد ڈار عرف کاچرو عرف معین شامل ہیں ۔انہوں نے بتایا جھڑپ میں جارا گیا دوسرا جنگجو عمر رشید وانی ساکن کھڈونی گزشتہ سال سے عسکری محاذپر سرگرم تھا جس دوران انہوں نے سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے انجام دیے۔ انہوں نے بتایا کہ عمر رشید وانی سرینگر اور اننت ناگ میں فورسز اہلکاروں پر ہوئے حملوں میں براہ راست ملوث تھا جبکہ مہلوک حال ہی میں سرینگر کے بتہ مالو علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران سیکورٹی فورسز کو چکمہ دے کر فرار ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوؤں سے ہتھیار اور دیگر نوعیت کا گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا۔
اس دوران جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی بدھ کی صبح سے ہی مونیوار اور ملحقہ علاقوں میں فورسز کے کڑے پہرے کے باوجود نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکیوں پر آکر احتجاج کرتے ہوئے زور دار نعرے بازی کی۔ نمائندے نے بتایا کہ نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جھڑپ کے مقام کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہاں تعینات فورسز اہلکاروں سے چاروں اطراف سے سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں انتہائی کشیدگی دیکھنے کو ملی۔ ادھر فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے آنسو گیس کے درجنوں گولے اور پیلٹ فائرنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 80افراد زخمی ہوگئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی خاطر داخل کرایا گیا۔ نمائندے کے مطابق فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں 5نوجوانوں کی آنکھوں پر پیلٹ کے چھرے پیسوست ہوئے جن کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اُن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔اس دوران انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے کولگام اور انت ناگ میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے دوران شب ہی موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا ۔ انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ مونیوار کھنہ بل میں جھڑپ کے پیش نظر انتظامیہ نے اگلے احکامات تک موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل حکام نے بھی سرینگر سے بانہال تک ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ یا۔
ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ریلوے نے احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر اور مسافروں کے سلامتی کے حوالے سے جنوبی کشمیر میں ریل سروس کو حالت میں سدھار آنے تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ادھر مہلوک جنگجوؤں کی نعشوں کو جونہی اپنے آبائی علاقے کھڈونی اورہاوؤرہ پہنچایا گیا تو یہاں لوگوں نے سڑکوں کا رخ کرتے ہوئے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ نمائندے نے بتایا کہ کھڈونی اور ہاؤورہ میں بدھ کی صبح سے ہی حالات کشیدہ رہے جس دوران یہاں تجارتی، تعلیمی اور عوامی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مونیوار جھڑپ میں پھنسے جنگجوؤں کی خبر بدھ کی صبح جونہی آبائی علاقوں میں پہنچی تو یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران یہاں ٹریفک کی نقل و حمل مکمل طور پر بند ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر نوجوانوں نے یہاں تعینات فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے بعد یہاں تناؤ میں مزید شدت بڑھ گئی۔ ادھر سہ پہر کو جونہی جنگجوؤں کی نعشیں اپنے آبائی علاقوں کو پہنچائی گئی تو یہاں کہرام مچ گیا جس دوران لوگوں نے اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس دوران جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد جلوس جنازہ میں شامل ہوئی جنہوں نے ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کرتے ہوئے مہلوک ساتھیوں کو سلامی پیش کی۔اس دوران حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین اور ڈپٹی سپریم کمانڈر سیف اللہ خالد سمیت فیلڈ آپریشنل کمانڈر محمد بن قاسم نے جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقید ت ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمانڈر الطاف احمد ڈار عرف کاچرو اور عمر رشید وانی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا یہ گرم گرم لہو ایک دن ضرور انقلاب برپا کرے گا اور غلامی کا دور اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ ڈپٹی سپریم کمانڈر سیف اللہ خالد اور فیلڈ آپریشنل کمانڈر محمد بن قاسم نے بھی اپنے پیغامات میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں شہیدوں نے اپنی زندگیاں اسلام کے مطابق گذاری اور اپنا مقدس لہو تحریک آزادی پر قربان کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ انشاء اللہ ان قربانیوں کے طفیل ہی ہماری محکوم و مظلوم قوم بھارتی تسلط سے آزاد ہوگی۔KNS
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
