جموں و کشمیر
دوسرے مرحلے میں 25.78 لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان 239 امید واروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے
سری نگرقانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 25 ستمبر کو 239 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 25.78 لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان کریں گے ۔
قانون ساز اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جموں و کشمیر کے چھ اَضلاع کے 26 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ان میں صوبہ کشمیر میں گاندربل، سری نگر اور بڈگام اور صوبہ جموں میں ریاسی، راجوری اور پونچھ شامل ہیں۔
صوبہ کشمیر میں 15 اسمبلی حلقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں جن میں 17۔کنگن (ایس ٹی)، 18۔ گاندربل، 19۔ حضرت بل، 20۔ خانیار، 21۔ حبہ کدل ، 22۔ لال چوک 23۔چھانہ پورہ، 24۔ زڈی بل، 25 ۔عید گاہ، 26۔ سینٹرل شالہ ٹینگ، 27۔ بڈگام، 28۔ بیروہ، 29۔ خان صاحب، 30۔ چرارِ شریف،31۔ چاڈورہ شامل ہیں جبکہ اِس مرحلے میں صوبہ جموں میں 11 اسمبلی حلقے جن میں 56 ۔گلاب گڑھ (ایس ٹی)، 57۔ ریاسی، 58۔ شری ماتا ویشنو دیوی، 83۔ کالاکوٹ۔ سندربنی، 84۔ نوشہرہ، 85۔ راجوری (ایس ٹی)، 86۔بدھل (ایس ٹی)، 87۔ تھانہ منڈی (ایس ٹی)، 88۔سرنکوٹ (ایس ٹی)، 89 ۔پونچھ حویلی اور 90 ۔مینڈھر میں بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔
اس مرحلے میں تازہ ترین انتخابی فہرستوں کے مطابق 25,78,099 لاکھ رائے دہندگان اپنا حق رائے دہی کااستعمال کرنے کے اہل ہیں جن میں 13,12,730 لاکھ مرد رائے دہندگان، 12,65,316 لاکھ خواتین ووٹرز اور 53 خواجہ سرا ووٹرزشامل ہیں۔
جمہوریت کو مضبوط بنانے میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے رول کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 18 سے 19 برس کی عمر کے 1,20,612 لاکھ رائے دہندگان ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ان میں سے 11,294 مرد اور 10,065 خواتین ہیں جوپہلی بار اپنا حق دہی کا استعمال کریں گے۔
اس مرحلے میں 19,201 جسمانی طور خاص افراد (پی ڈبلیو ڈی ) اور 85 برس سے زیادہ عمر کے 20,880رائے دہندگان بھی حصہ لیں گے۔اس کے ساتھ ہی ضلع سری نگر میں 93، ضلع بڈگام میں 46، راجوری ضلع میں 34، پونچھ ضلع میں 25، گاندربل ضلع میں 21 اور ریاسی ضلع میں 20 اُمیدوار میدان میں ہیں۔
ضلع ریاسی میں اسمبلی حلقہ گلاب گڈھ (ایس ٹی) میں 6 اُمیدوار، حلقہ انتخاب ریاسی میں 7 اُمیدوار جبکہ شری ماتا ویشنو دیوی اسمبلی حلقہ میں 7 اُمیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
اسی طرح راجوری ضلع میں اسمبلی حلقہ کالاکوٹ ۔سندربنی میں 11 اُمیدوار،حلقہ اِنتخاب نوشہرہ میں 5 اُمیدوار،اسمبلی حلقہ راجوری (ایس ٹی) میں 8 اُمیدوار،حلقہ اِنتخاب بدھل (ایس ٹی) میں 4 اُمیدوار جبکہ اسمبلی حلقہ تھانہ منڈی (ایس ٹی) میں 6 اُمیدوارمیدان میں ہیں۔
ضلع پونچھ میں اسمبلی حلقہ سرنکوٹ (ایس ٹی) میں 8 امیدوار ،حلقہ انتخاب پونچھ حویلی میں 8 اُمیدوار جبکہ اسمبلی حلقہ مینڈھر (ایس ٹی) میں 9 اُمیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
اسی طرح گاندربل ضلع میںحلقہ اِنتخاب کنگن (ایس ٹی) میں 6 اُمیدوار میدان میں ہیں جبکہ اسمبلی حلقہ گاندربل میں 15 اُمیدوار الیکشن لڑرہے ہیں۔
ضلع سری نگر میں حلقہ انتخاب حضرت بل میں 13 امیدوار، اسمبلی حلقہ خانیارمیں 10 اُمیدوار،حلقہ انتخاب حبہ کدل میں 16 اُمیدوار، اسمبلی حلقہ 22 ۔لال چوک میں 10 اُمیدوار،حلقہ انتخاب 23۔چھانہ پورہ میں 8 اُمیدوار، اسمبلی حلقہ 24۔زڈی بل میں 10 اُمیدوار، حلقہ انتخاب25۔ عید گاہ میں 13 اُمیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ حلقہ انتخاب26۔ سینٹرل شالہ ٹینگ میں 13 اُمیدوار میدان میں ہیں۔
ضلع بڈگام میں اسمبلی حلقہ 27۔بڈگام میں 8 اُمیدوار ،اسمبلی حلقہ 28۔بیروہ میں 12 اُمیدوار،اسمبلی حلقہ 29۔خان صاحب میں 10 اُمیدوار، اسمبلی حلقہ30۔چرارِ شریف میں 10 اُمیدوار جبکہ اسمبلی حلقہ 31۔چاڈورہ میں 6 اُمیدوار میدان میں ہیں۔
ضلع سری نگر میں کل7,76,674 رجسٹرڈ رائے دہندگان ہیں جن میں 3,87,722 مرد، 3,88,922 خواتین اور 30 خواجہ سرا شامل ہیں۔
ان حلقوں میں مجموعی طور پر 932 پولنگ سٹیشن ز قائم کئے گئے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر رجسٹرڈ ووٹر کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا موقعہ ملے۔
راجوری ضلع پانچ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جس میں 4,92,008 رائے دہندگان ہیں جن میں 2,56,215 مرد، 2,35,786 خواتین اور 7 خواجہ سرا رائے دہندگان شامل ہیں۔ ضلع بھر میں 745 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔
ضلع بڈگام میں پانچ اسمبلی حلقوں میں کُل 5,11,864رائے دہندگان رجسٹرڈ ہیں جن میں 2,59,688 مرد ووٹر ، 2,52,163 خواتین ووٹر اور 13 خواجہ سرا ووٹر شامل ہیں۔
ضلع بھر میں کل 639 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر رجسٹرڈ رائے دہندگان کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا موقعہ ملے۔
اسی طرح ضلع پونچھ کو تین اسمبلی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں کل 3,52,330رجسٹرڈ رائے دہندگان ہیں جن میں 1,80,584مرد ، 1,71,746خواتین شامل ہیں اوریہ بات قابل ذکر ہے کہ ضلع میں تیسری جنس کے زمرے کے تحت کوئی بھی ووٹر رجسٹرڈ نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے ووٹنگ کے عمل کو آسان بنانے کے لئے ضلع میں 483 پولنگ سٹیشن قائم کئے ہیں۔
ریاسی ضلع تین اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جس میں کل 2,37,205 رائے دہندگان رجسٹرڈ ہیں جن میں 1,24,359 مرد، 1,12,843 خواتین اور 3خواجہ سرا شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ضلع بھر میں 436 پولنگ سٹیشن قائم کئے ہیں۔
گاندربل ضلع دو اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جہاں 2,08,018 رجسٹرڈ ووٹرز ہیںجن میں 1,04,162 مرد، 1,03,856 خواتین اور کوئی خواجہ سرا ووٹر رجسٹرڈ نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف اِنتخابات کے لئے 267 پولنگ سٹیشنوں کا ایک جامع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے آسان اور بغیر پریشانی انتخابی شرکت کے لئے رائے دہندگان کی سہولیت کے لئے 26 اسمبلی حلقوں میںصد فیصد ویب کاسٹنگ کے ساتھ 3,502 پولنگ سٹیشن قائم کئے ہیں جن میں 1056 شہری اور 2446 دیہی پولنگ سٹیشن شامل ہیں۔
رائے دہندگان کی شرکت کو بڑھانے کے لئے اس مرحلے میں 157 خصوصی پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں جن میں 26 پولنگ بوتھ برائے خواتین نہیں گلابی رنگ کے پولنگ سٹیشن کہا جاتا ہے ، 26 پولنگ سٹیشن بالخصوص جسمانی طور خاص افراد اور 26 پولنگ سٹیشن نوجوانوں کے کے ذریعے چلائے جائیں گے جبکہ 31بوڈر پولنگ سٹیشن ،26گرین پولنگ سٹیشن ،22منفرد پولنگ سٹیشن شامل ہیں ۔ووٹنگ صبح 7بجے شروع ہوگی اور شام 7 بجے اِختتام پذیر ہوگی۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے: سنہا
سری نگر، ترنگے کو ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت بتاتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ کشمیر میں ترنگا یاترا واضح پیغام دیتی ہے کہ ملک کو کبھی نہیں رکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔
مسٹر سنہا نے قومی فخر اور اتحاد کا جشن منانے کے لیے سری نگر میں ترنگا یاترا کی قیادت کی۔ یہ یاترا دو بڑے واقعات کا سنگم تھی: ‘ہر گھر ترنگا’ عوامی تحریک اور قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی 150 ویں سالگرہ۔
اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہا کہ ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پیغام واضح ہے کہ ہندستان کو کبھی نہیں روکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “جب ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے تحت 2022 میں ‘ہر گھر ترنگا’ مہم شروع کی گئی تھی تو اس کا مقصد ہر ہندوستانی کے دل میں ترنگے سے تعلق، احترام اور جذباتی تعلق کے احساس کو پھر سے جگانا تھا۔ جذبہ، وہی عقیدہ، اور وہی عزم آج، ترنگا یاترا لوگوں کے شعور، حب الوطنی کی روایت اور ایک ثقافتی قدر کے طور پر تیار ہوئی ہے جو ہر شہری کو مادر وطن سے جوڑتی ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ مہم میں ان کی زبردست شرکت کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جوش پورے ملک کے لیے مشعل راہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا ہمارے ملک کی روح ہے اور ‘وندے ماترم’ اس روح کی لازوال آواز ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہمارے آباؤ اجداد کے تصور کردہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنے تعاون پر غور کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شہداء نے اپنے خون سے قوم کی حفاظت کی وہیں آج کی نسل کو کردار، دیانت، محنت، اتحاد اور خدمت کے ذریعے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ کا سنگم صرف دو مہمات کا امتزاج نہیں بلکہ ایک نئے دور کا اعلان ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جموں و کشمیر کے اعتماد سے بھرے اور مستقبل کی طرف مضبوطی سے آگے بڑھنے کی علامت ہے، جہاں ہر شہری کے پاس ‘وجئی وشوا ترنگا پیارا’ رہنے کا عزم ہے، جہاں ہر گھر حب الوطنی کا مرکز ہے، اور جہاں ہر دل قومی اتحاد کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کی تشکیل میں اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترنگا نہ صرف ہر گھر میں بلکہ ہمارے خیالات، ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں بھی بلند ہو۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، “آئیے یہ عزم کریں کہ ‘وندے ماترم’ کے مقدس جذبے کو ہمارے ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر ذمہ داری میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی قوم کی تعمیر کے ذریعے اپنے لازوال ہیروز کی قربانیوں کا قرض چکانے کا عزم کرنا چاہیے، جو خوشحال، محفوظ، انصاف پسند اور مساوی مواقع کے دروازے کھولے، جہاں ہمیں جموں کے ہر شہری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ترنگے کے رنگ زندگی کی قدروں میں جھلکتے ہیں جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہو اور ہندوستانی ثقافت، تہذیب اور روحانی اقدار پر غیر متزلزل فخر محسوس کرے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
