جموں و کشمیر
دوسرے مرحلے میں 25.78 لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان 239 امید واروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے
سری نگرقانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 25 ستمبر کو 239 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 25.78 لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان کریں گے ۔
قانون ساز اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جموں و کشمیر کے چھ اَضلاع کے 26 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ان میں صوبہ کشمیر میں گاندربل، سری نگر اور بڈگام اور صوبہ جموں میں ریاسی، راجوری اور پونچھ شامل ہیں۔
صوبہ کشمیر میں 15 اسمبلی حلقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں جن میں 17۔کنگن (ایس ٹی)، 18۔ گاندربل، 19۔ حضرت بل، 20۔ خانیار، 21۔ حبہ کدل ، 22۔ لال چوک 23۔چھانہ پورہ، 24۔ زڈی بل، 25 ۔عید گاہ، 26۔ سینٹرل شالہ ٹینگ، 27۔ بڈگام، 28۔ بیروہ، 29۔ خان صاحب، 30۔ چرارِ شریف،31۔ چاڈورہ شامل ہیں جبکہ اِس مرحلے میں صوبہ جموں میں 11 اسمبلی حلقے جن میں 56 ۔گلاب گڑھ (ایس ٹی)، 57۔ ریاسی، 58۔ شری ماتا ویشنو دیوی، 83۔ کالاکوٹ۔ سندربنی، 84۔ نوشہرہ، 85۔ راجوری (ایس ٹی)، 86۔بدھل (ایس ٹی)، 87۔ تھانہ منڈی (ایس ٹی)، 88۔سرنکوٹ (ایس ٹی)، 89 ۔پونچھ حویلی اور 90 ۔مینڈھر میں بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔
اس مرحلے میں تازہ ترین انتخابی فہرستوں کے مطابق 25,78,099 لاکھ رائے دہندگان اپنا حق رائے دہی کااستعمال کرنے کے اہل ہیں جن میں 13,12,730 لاکھ مرد رائے دہندگان، 12,65,316 لاکھ خواتین ووٹرز اور 53 خواجہ سرا ووٹرزشامل ہیں۔
جمہوریت کو مضبوط بنانے میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے رول کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 18 سے 19 برس کی عمر کے 1,20,612 لاکھ رائے دہندگان ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ان میں سے 11,294 مرد اور 10,065 خواتین ہیں جوپہلی بار اپنا حق دہی کا استعمال کریں گے۔
اس مرحلے میں 19,201 جسمانی طور خاص افراد (پی ڈبلیو ڈی ) اور 85 برس سے زیادہ عمر کے 20,880رائے دہندگان بھی حصہ لیں گے۔اس کے ساتھ ہی ضلع سری نگر میں 93، ضلع بڈگام میں 46، راجوری ضلع میں 34، پونچھ ضلع میں 25، گاندربل ضلع میں 21 اور ریاسی ضلع میں 20 اُمیدوار میدان میں ہیں۔
ضلع ریاسی میں اسمبلی حلقہ گلاب گڈھ (ایس ٹی) میں 6 اُمیدوار، حلقہ انتخاب ریاسی میں 7 اُمیدوار جبکہ شری ماتا ویشنو دیوی اسمبلی حلقہ میں 7 اُمیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
اسی طرح راجوری ضلع میں اسمبلی حلقہ کالاکوٹ ۔سندربنی میں 11 اُمیدوار،حلقہ اِنتخاب نوشہرہ میں 5 اُمیدوار،اسمبلی حلقہ راجوری (ایس ٹی) میں 8 اُمیدوار،حلقہ اِنتخاب بدھل (ایس ٹی) میں 4 اُمیدوار جبکہ اسمبلی حلقہ تھانہ منڈی (ایس ٹی) میں 6 اُمیدوارمیدان میں ہیں۔
ضلع پونچھ میں اسمبلی حلقہ سرنکوٹ (ایس ٹی) میں 8 امیدوار ،حلقہ انتخاب پونچھ حویلی میں 8 اُمیدوار جبکہ اسمبلی حلقہ مینڈھر (ایس ٹی) میں 9 اُمیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
اسی طرح گاندربل ضلع میںحلقہ اِنتخاب کنگن (ایس ٹی) میں 6 اُمیدوار میدان میں ہیں جبکہ اسمبلی حلقہ گاندربل میں 15 اُمیدوار الیکشن لڑرہے ہیں۔
ضلع سری نگر میں حلقہ انتخاب حضرت بل میں 13 امیدوار، اسمبلی حلقہ خانیارمیں 10 اُمیدوار،حلقہ انتخاب حبہ کدل میں 16 اُمیدوار، اسمبلی حلقہ 22 ۔لال چوک میں 10 اُمیدوار،حلقہ انتخاب 23۔چھانہ پورہ میں 8 اُمیدوار، اسمبلی حلقہ 24۔زڈی بل میں 10 اُمیدوار، حلقہ انتخاب25۔ عید گاہ میں 13 اُمیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ حلقہ انتخاب26۔ سینٹرل شالہ ٹینگ میں 13 اُمیدوار میدان میں ہیں۔
ضلع بڈگام میں اسمبلی حلقہ 27۔بڈگام میں 8 اُمیدوار ،اسمبلی حلقہ 28۔بیروہ میں 12 اُمیدوار،اسمبلی حلقہ 29۔خان صاحب میں 10 اُمیدوار، اسمبلی حلقہ30۔چرارِ شریف میں 10 اُمیدوار جبکہ اسمبلی حلقہ 31۔چاڈورہ میں 6 اُمیدوار میدان میں ہیں۔
ضلع سری نگر میں کل7,76,674 رجسٹرڈ رائے دہندگان ہیں جن میں 3,87,722 مرد، 3,88,922 خواتین اور 30 خواجہ سرا شامل ہیں۔
ان حلقوں میں مجموعی طور پر 932 پولنگ سٹیشن ز قائم کئے گئے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر رجسٹرڈ ووٹر کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا موقعہ ملے۔
راجوری ضلع پانچ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جس میں 4,92,008 رائے دہندگان ہیں جن میں 2,56,215 مرد، 2,35,786 خواتین اور 7 خواجہ سرا رائے دہندگان شامل ہیں۔ ضلع بھر میں 745 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔
ضلع بڈگام میں پانچ اسمبلی حلقوں میں کُل 5,11,864رائے دہندگان رجسٹرڈ ہیں جن میں 2,59,688 مرد ووٹر ، 2,52,163 خواتین ووٹر اور 13 خواجہ سرا ووٹر شامل ہیں۔
ضلع بھر میں کل 639 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر رجسٹرڈ رائے دہندگان کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا موقعہ ملے۔
اسی طرح ضلع پونچھ کو تین اسمبلی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں کل 3,52,330رجسٹرڈ رائے دہندگان ہیں جن میں 1,80,584مرد ، 1,71,746خواتین شامل ہیں اوریہ بات قابل ذکر ہے کہ ضلع میں تیسری جنس کے زمرے کے تحت کوئی بھی ووٹر رجسٹرڈ نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے ووٹنگ کے عمل کو آسان بنانے کے لئے ضلع میں 483 پولنگ سٹیشن قائم کئے ہیں۔
ریاسی ضلع تین اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جس میں کل 2,37,205 رائے دہندگان رجسٹرڈ ہیں جن میں 1,24,359 مرد، 1,12,843 خواتین اور 3خواجہ سرا شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ضلع بھر میں 436 پولنگ سٹیشن قائم کئے ہیں۔
گاندربل ضلع دو اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جہاں 2,08,018 رجسٹرڈ ووٹرز ہیںجن میں 1,04,162 مرد، 1,03,856 خواتین اور کوئی خواجہ سرا ووٹر رجسٹرڈ نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف اِنتخابات کے لئے 267 پولنگ سٹیشنوں کا ایک جامع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے آسان اور بغیر پریشانی انتخابی شرکت کے لئے رائے دہندگان کی سہولیت کے لئے 26 اسمبلی حلقوں میںصد فیصد ویب کاسٹنگ کے ساتھ 3,502 پولنگ سٹیشن قائم کئے ہیں جن میں 1056 شہری اور 2446 دیہی پولنگ سٹیشن شامل ہیں۔
رائے دہندگان کی شرکت کو بڑھانے کے لئے اس مرحلے میں 157 خصوصی پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں جن میں 26 پولنگ بوتھ برائے خواتین نہیں گلابی رنگ کے پولنگ سٹیشن کہا جاتا ہے ، 26 پولنگ سٹیشن بالخصوص جسمانی طور خاص افراد اور 26 پولنگ سٹیشن نوجوانوں کے کے ذریعے چلائے جائیں گے جبکہ 31بوڈر پولنگ سٹیشن ،26گرین پولنگ سٹیشن ،22منفرد پولنگ سٹیشن شامل ہیں ۔ووٹنگ صبح 7بجے شروع ہوگی اور شام 7 بجے اِختتام پذیر ہوگی۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
