جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں من گھڑت خبروں کی روکتھام کی خاطر نئی میڈیا پالیسی زیر غور:حکومت
جموں، جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو اسمبلی میں بتایا ہے کہ فیک نیوز اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے محکمہ اطلاعات کے سوشل میڈیا سیل کو مزید مؤثر اور فعال بنایا گیا ہے، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب سائٹس اور آن لائن نیوز پورٹلز پر نشر ہونے والے ہر مشتبہ مواد کی نگرانی کر رہا ہے۔
حکومت کے مطابق جیسے ہی کوئی خبر فیک یا گمراہ کن ثابت ہوتی ہے، محکمہ فوری طور پر اس کا ریبٹل جاری کرتا ہے اور اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ اگلے دن کے اخبارات اور ڈی آئی پی آر کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی شائع کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو درست معلومات بروقت فراہم کی جا سکیں۔ گزشتہ ایک برس کے دوران مجموعی طور پر 28 سرکاری ریبٹل جاری کیے گئے ہیں۔
ایوان کو مزید آگاہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر میڈیا پالیسی 2020 کے تحت ڈی آئی پی آر کو اختیار ہے کہ وہ میڈیا اداروں کی جانب سے جھوٹی، چوری شدہ یا غیر اخلاقی/غیر ملکی مخالف سرگرمیوں کی نگرانی کرے، اور ضرورت پڑنے پر ایسے میڈیا اداروں کو ڈی امپینل کرنے یا انہیں سرکاری اشتہارات روکنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ اگر کوئی میڈیا ادارہ پریس اینڈ رجسٹریشن آف پیریاوڈیکلز ایکٹ 2023 کے تحت رجسٹر ہو، تو خلاف ورزی کی صورت میں اُس کی ڈی رجسٹریشن کی سفارش بھی کی جا سکتی ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈی آئی پی آر کسی نجی فیکٹ چیک یونٹ کو رجسٹر یا تسلیم نہیں کرتا، اور نہ ہی محکمے کے دائرہ اختیار میں فیک نیوز پھیلانے والے اداروں یا افراد پر جرمانے عائد کرنا شامل ہے۔ تاہم، تمام سرکاری محکموں میں فیک نیوز کی نگرانی کے لیے خصوصی مانیٹرنگ سیلز قائم ہیں، اور نامزد نوڈل افسران روزانہ کی بنیاد پر مشتبہ مواد کی نشاندہی کرکے محکمہ اطلاعات کو آگاہ کرتے ہیں۔
سرکار نے فیک نیوز سے متعلق موجودہ قانونی ڈھانچے کی تفصیل پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 اور آئی ٹی (انٹرمیڈیئری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز 2021 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس کے لیے بنیادی قانونی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں۔
آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات جیسے سیکشن 69A ریاست کو عوامی نظم و نسق اور قومی سلامتی کے مفاد میں آن لائن مواد بلاک کرنے کا اختیار دیتی ہیں، جبکہ سیکشن 66C، 66D، اور 67 چوریِ شناخت، جعلسازی اور غیر اخلاقی مواد کے پھیلاؤ کو قابل سزا جرم قرار دیتی ہیں۔
حکومت نے مزید کہا کہ بھارتیہ نیائے سنہیتا 2023 نے آن لائن جرائم سے نمٹنے کے لیے قانون کو جدید بنایا ہے، جس میں نفرت انگیزی، مذہبی دل آزاری، بہتان تراشی اور افواہیں پھیلانے جیسے جرائم کو سخت سزاؤں کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کے ڈیٹا کے استعمال، اُن کی رضامندی، ڈیٹا بریک کی اطلاع اور ڈیٹا ڈیلیشن جیسے معاملات کا پابند بنایا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کے محاذ پر محکمہ آئی ٹی نے ایوان کو بتایا کہ سرکاری ویب سائٹس کا باقاعدہ سیکورٹی آڈٹ کیا جارہا ہے، غیر فعال ویب سائٹس کو ہٹایا گیا ہے، اور ریاستی سطح پر سائبر سیکیورٹی گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ تمام محکموں نے سائبر کرائسس منیجمنٹ پلان تیار کیا ہے، جبکہ ملازمین کی تربیت کے لیے سائبر ڈرلز، آگاہی پروگرام، اور iGOT پلیٹ فارم کے ذریعے لازمی کورسز بھی جاری ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ فیک نیوز کی روک تھام، ڈیجیٹل سیکیورٹی میں بہتری اور میڈیا کے مؤثر نظم و نسق کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ عوام کو درست، مستند اور ذمہ دارانہ معلومات بروقت فراہم کی جا سکیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ،ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
فاروق عبداللہ نے نانا پاٹیکر کو ‘بہت اچھا دوست’ اور ‘بہت اچھا انسان’ قرار دے کر یاد کیا
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے جمعرات کو معروف اداکار نانا پاٹیکر کو اپنا ”بہت اچھا دوست” اور ”بہت اچھا انسان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وقف کردی تھی۔
75 سالہ نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
عبداللہ نے صحافیوں سے کہاکہ ”وہ میرے بہت اچھے دوست تھے اور سب سے بڑھ کر ایک بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی۔” انہوں نے کہاکہ ”وہ قبائلی دیہات میں پسماندہ لوگوں کے درمیان رہتے تھے اور ضرورت مند افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے تھے۔”
اداکار کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ نانا پاٹیکر کئی مرتبہ جموں و کشمیر آئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ بار بار یہاں آتے تھے اور مجھ سے ملاقات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ میری ایک شادی میں بھی آئے تھے، جہاں مجھے ان کے ساتھ رقص کرنے کا موقع ملا۔”
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اداکار میں ”نرم دلی” کی ایک نایاب خوبی تھی اور انہوں نے کبھی مذہبی معاملات کو لوگوں کی مدد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ کبھی مذہب نہیں دیکھتے تھے، بلکہ کسی شخص کے درد کو دیکھتے تھے اور اسے زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔”
عبداللہ نے کہا کہ معاشرے کے لیے نانا پاٹیکر کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اللہ نے انہیں بہت نوازا تھا۔ انہوں نے لوگوں کی مدد کے لیے جو کچھ کرسکتے تھے، کیا اور ان کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ ان کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔”
اداکار کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح یہ خبر سن کر انہیں بہت دکھ ہوا اور انہوں نے آنجہانی کی روح کے لیے دعا کی۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے عبداللہ نے انہیں ایک شاندار اداکار قرار دیا اور کہا کہ ان کی آخری فلم، جس کی شوٹنگ انہوں نے حال ہی میں گوا میں مکمل کی تھی، ان کی صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرے گی۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں ایس او جی نے ‘خوف گینگ’ سے وابستہ گینگسٹرز کے دو ساتھیوں کو اسلحہ اور منشیات سمیت گرفتار کیا
جموں، جموں کی اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کو ‘خوف گینگ’ سے وابستہ گینگسٹرز کے دو ساتھیوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات سمیت گرفتار کرلیا۔
سرکاری بیان کے مطابق، جموں ایس او جی نے جموں اور سانبہ میں کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے تین آتشیں ہتھیار، جن میں دو پستول اور ایک دیسی ساختہ پستول (کٹا) شامل ہے، کے علاوہ ہیروئن (چِٹا) برآمد کی۔
گرفتار ملزمان کی شناخت سانبہ ضلع کے باری برہمنہ کے پلی کے رہنے والے ونش شرما اور باری برہمنہ کے پالی ٹانڈہ کے رہنے والے یوگیشور سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔
تحقیقات کے دوران ونش شرما کے مبینہ طور پر وکاس سالتھیا عرف وکی خوف اور روہت کمار عرف مکھن سے وابستہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ دونوں جموں خطے میں مبینہ طور پر اسلحہ کی سپلائی کے نیٹ ورک اور مجرمانہ سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے ونش شرما کے پنجاب میں مقیم گینگسٹرز کے ساتھ مبینہ روابط کا بھی انکشاف ہوا ہے اور ان کا منصوبہ غیر قانونی ہتھیار حاصل کرنے اور پنجاب میں ایک ہدف بنا کر حملہ کرنے کا تھا۔
بیان کے مطابق، مکمل نیٹ ورک کا پتہ لگانے اور دیگر ساتھیوں کی شناخت کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
