دنیا
آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کے بعد کیا ایران جنگ بحیرۂ کیسپین تک پہنچ گئی
تہران، ایران کے ایک تجارتی بحری جہاز پر بحیرۂ کیسپین میں مبینہ یوکرینی حملے نے یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازعات کے باہمی تعلق اور ممکنہ نئے محاذ کے خدشات کو جنم دے دیا ایران کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں ایک ایرانی ملاح جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوا، جس کے بعد تہران نے یوکرین کے سفارتی نمائندے کو دفترِ خارجہ طلب کر کے اس کارروائی کو دشمنانہ اور مجرمانہ اقدام قرار دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران پر امریکا کے مسلسل 13 روزہ حملوں کے بعد وقتی وقفہ آیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرۂ کیسپین جسے طویل عرصے سے ایران کا نسبتاً محفوظ بحری راستہ سمجھا جاتا تھا، اب ممکنہ طور پر ایک نئے محاذ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ایران پہلے ہی اپنی جنوبی ساحلی پٹی پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جہاں امریکہ آبنائے ہرمز کے اطراف بحری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ یمن کے حوثی باغیوں کی کارروائیاں بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو متاثر کر رہی ہیں، ایسے میں بحیرۂ کیسپین میں بھی خطرات بڑھنے سے ایران کے اہم تجارتی اور تزویراتی بحری راستوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
2022ء میں ایران کی جانب سے روس کو شاہد (Shahed) ڈرون فراہم کیے جانے کے بعد تہران اور کیف کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔
یوکرین کا دعویٰ ہے کہ روس نے ایرانی ساختہ ڈرونز کو مزید بہتر بنا کر ہزاروں کی تعداد میں یوکرینی شہروں پر حملوں میں استعمال کیا، جبکہ یوکرینی افواج اب تک 44 ہزار سے زائد ایرانی ڈیزائن کے ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرۂ کیسپین میں یہ حملہ ایران کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع ایک اور بحری محاذ تک پھیل سکتا ہے۔
ایران نے ابھی تک یوکرین کے خلاف کسی ممکنہ جوابی کارروائی کا اعلان نہیں کیا، تاہم ایرانی مبصرین کا کہنا ہے کہ یوکرین ایران کے متعدد میزائل اور ڈرون نظاموں کی زد میں ہے، جس کے باعث تہران کے پاس عسکری ردِعمل کے مختلف آپشنز موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قطر، مصر، پاکستان اور دیگر علاقائی ثالثوں نے واشنگٹن اور تہران کو 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے تاکہ گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق بحیرۂ کیسپین میں پیش آنے والا واقعہ ایران پر اقتصادی اور عسکری دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے، اگر ایران کے شمالی بحری راستے بھی غیر محفوظ ہو گئے تو اس سے توانائی کی برآمدات، تجارتی سرگرمیوں اور فوجی رسد کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مستقبل کے مذاکرات میں امریکہ کو نسبتاً زیادہ سفارتی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سابق امریکی نائب معاون وزیر دفاع برائے مشرق وسطیٰ مائیکل ملروئے کا کہنا ہے کہ جب تک ایران آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھتا ہے، امریکہ کے لیے صورتِ حال آسان نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا ہے کہ فی الحال مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے، جبکہ ایران بھی آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے پر مطمئن دکھائی دیتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایران جنگ میں امریکہ کے 81 فوجی طیارے تباہ یا متاثر، نقصان کی تلافی پر 3.3 ارب ڈالر تک خرچ کا امکان
واشنگٹن، ایران جنگ میں امریکی فوج کے 81 طیارے تباہ یا متاثر ہوئے ہیں اور ان کی جگہ نئے طیارے حاصل کرنے پر 3.3 ارب ڈالر تک خرچ آسکتا ہے۔ کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ صرف فوجی سازوسامان کا نقصان ہے، جبکہ جنگ پر امریکہ کو اب تک کم از کم 45 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔ اس رقم میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات شامل نہیں ہیں۔
نقصان اٹھانے والے طیاروں میں ایف-35 اے اسٹیلتھ فائٹر اور ای-3 سینٹری بھی شامل ہیں، جبکہ ایم کیو-9 ریپر ڈرون کو خاص طور پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ای-3 سینٹری ایسا فضائی کمانڈ، کنٹرول اور نگرانی کا طیارہ ہے جس پر امریکی فوج اہداف کی نگرانی اور فضائی حدود کے انتظام کے لیے انحصار کرتی ہے۔ یہ طیارے یا تو محدود تعداد میں دستیاب ہیں، پرانے ہوچکے ہیں یا دونوں مسائل سے دوچار ہیں، جس کی وجہ سے ان کی فوری جگہ لینا مشکل ہے۔
رپورٹ کے مطابق نقصانات میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون شامل ہیں، جن میں ایم کیو-9 ریپر کے نقصانات نصف سے زیادہ ہیں۔ 5 اکتوبر کو اپ ڈیٹ کی گئی سی آر ایس رپورٹ میں یہ اعداد و شمار امریکی محکمہ دفاع، سینٹرل کمانڈ کے بیانات، انسپکٹر جنرل کی رپورٹ اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔
نقصان یا تباہ ہونے والے طیاروں میں امریکی فوج کے جدید اور تزویراتی طور پر اہم طیارے بھی شامل ہیں، جن میں ایف-35 اے فائٹر اور ای-3 سینٹری فضائی ابتدائی انتباہ و کنٹرول طیارہ شامل ہیں، جو اہداف کا سراغ لگانے اور فضائی حدود کو منظم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
سی آر ایس کے مطابق کانگریشنل بجٹ آفس نے ستمبر میں اندازہ لگایا تھا کہ یکم اگست تک جنگ میں ضائع ہونے والے سازوسامان کی جگہ نئے سازوسامان کی فراہمی پر 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر تک خرچ آسکتا ہے۔ اصل رقم پینٹاگون کی جانب سے طے کیے جانے والے متبادل منصوبے پر منحصر ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کی مجموعی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دستیاب ذرائع نے اندازہ لگایا ہے کہ اس تنازع پر امریکہ کو کم از کم 45 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں، تاہم اس میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی لاگت شامل نہیں ہے۔
سی آر ایس نے کہا کہ نقصان زدہ قرار دیے گئے بعض طیارے ممکن ہے بعد میں دوبارہ آپریشنل ہوگئے ہوں۔ مثال کے طور پر آٹھ ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیاروں کو ستمبر میں اردن کے موافق السالتی ایئر بیس پر ایرانی حملے کے دوران معمولی نقصان پہنچا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیاروں کے نقصانات کے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی ہوسکتی ہے، کیونکہ جنگی کارروائیاں جاری ہیں، بعض معلومات خفیہ ہیں اور بعض نقصانات کی ذمہ داری طے کرنے سے متعلق سوالات موجود ہیں۔
امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ”آپریشن ایپک فیوری” کے نام سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ اس تنازع میں مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں فضائی، بحری اور میزائل حملے شامل رہے۔ اپریل میں جنگ بندی کے بعد لڑائی کی شدت میں کمی آئی، تاہم چند ہفتوں کے اندر بعض حملے دوبارہ شروع ہوگئے اور صورت حال بدستور غیر یقینی رہی۔
رپورٹ میں اس بات پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا کانگریس کو پینٹاگون کی جانب سے طیاروں کے نقصانات کی مکمل نوعیت کا جائزہ لینے اور ان سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات طے کرنے کے لیے کافی معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی تجاویز پر غور کر رہے ہیں:ایران
تہران، ایران نے تصدیق کی ہے کہ علاقائی تنازعہ کو ختم کرنے کے مقصد سے پیش کردہ امریکی تجاویز پر اس کا جواب سفارتی ثالثوں کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔
اس بات کا اعلان وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کیا، جبکہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راہداریاں قائم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ اہم پیش رفت کا بھی انکشاف کیا۔
بقائی نے واضح کیا کہ تہران نے تمام محاذوں پر دشمنی روکنے اور خلیج میں بحری سکیورٹی بحال کرنے کے لیے اپنی شرائط طے کر دی ہیں۔
ترجمان بقائی نے تصدیق کی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ روابط بدستور فعال ہیں، انہوں نے یہ بھی کہاکہ دوسرے فریق کی تجاویز کا ضروری جواب بھی ثالثوں کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔”
یہ اعلان ایتھنز میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ان بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے تنازعہ کو حل کرنے کے متعدد مواقع گنوا دیے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول کھو چکا ہے۔
روبیو کے تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے سے رائے عامہ کے ذہنوں سے امریکہ کی جانب سے اپنے وعدوں کی بار بار خلاف ورزیوں کی حقیقت کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس سلسلے میں 2015 کے جوہری معاہدے سے 2018 میں واشنگٹن کی دستبرداری اور سفارتی عمل کے دوران جاری فوجی حملوں کی طرف اشارہ کیا۔
تجارتی جہاز رانی کے حوالے سے بقائی نے بتایا کہ تہران اور مسقط کے درمیان دوطرفہ مشاورت کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے محفوظ راستوں کے لیے درست جغرافیائی حدود پر اتفاق ہو گیا ہے۔
اس طے شدہ بحری انتظام کو جلد ہی بین الاقوامی بحری حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
یہ سفارتی سرگرمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
