تازہ ترین
بنگلہ دیش میں یونس دور کا خاتمہ
نعیم نظام
بنگلہ دیش کے سابق عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی تنازعات سے باہر نہیں آ سکے۔ صدر محمد شہاب الدین نے ان پر نہ صرف ہجوم کی حکمرانی قائم کرنے بلکہ آئین کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ان کے بعض مشیروں پر بھی سنگین بے ضابطگیوں، تضادات اور ہجوم سازی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ایک قومی اخبار میں صدر کے انٹرویو کی اشاعت کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے اور یونس اور ان کے قریبی مشیروں کے خلاف آئینی خلاف ورزی کے مقدمات درج کرنے کے مطالبات اٹھنے لگے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں ڈاکٹر یونس کے کردار پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
حالیہ دو انٹرویوز میں صدر محمد شہاب الدین نے متعدد الزامات عائد کیے۔ تاہم حکمران جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے ان معاملات پر ابھی تک کھل کر کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا۔ اس دوران وزیر اعظم طارق رحمان کو صدر سے ملاقات کرتے دیکھا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے بیانات صرف انتظامی اختلاف نہیں بلکہ عبوری حکومت کی آئینی حیثیت اور اس کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے نہ صرف آئینی حدود سے تجاوز کیا بلکہ عملی طور پر صدر کے آئینی کردار کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش بھی کی۔ صدر کے مطابق انہیں تقریباً 18 ماہ تک عملی طور پر محدود رکھا گیا۔ انہیں بیرون ملک دوروں کی اجازت نہیں دی گئی، سرکاری مقامات سے ان کی تصاویر ہٹا دی گئیں اور انہیں سیاسی طور پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ ایوانِ صدر کے کنٹرول کی کوششیں بھی کی گئیں۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سب صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور یونس کے اقتدار چھوڑنے کے بعد ہی ان معاملات پر بات کی۔
صدر نے الزام لگایا کہ یونس کے دور میں آئین کی مکمل پاسداری نہیں کی گئی۔ پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار صدر کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے، مگر ان کے مطابق کئی آرڈیننس ان کی مکمل مشاورت یا طے شدہ آئینی طریقہ کار کے بغیر جاری کیے گئے، جو ایک غیر معمولی اور منفی مثال ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ خریداری سے متعلق بعض معاہدوں کے بارے میں بھی انہیں آگاہ نہیں کیا گیا۔
صدر کے مطابق انہیں ریاستی امور سے تقریباً مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔ انہیں قومی دنوں پر تقاریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، حتیٰ کہ انہیں قومی عیدگاہ میں عید کی نماز ادا کرنے سے بھی روکا گیا۔ ان کا ذاتی پریس ونگ بھی واپس لے لیا گیا۔
آئینی روایت کے مطابق ریاست کے سربراہ کو خارجہ پالیسی، اعلیٰ سطحی تقرریوں، انتظامی اصلاحات اور سلامتی سے متعلق فیصلوں سے آگاہ رکھنا ضروری ہوتا ہے، مگر صدر کا کہنا ہے کہ انہیں اہم پالیسی فیصلوں سے بھی بے خبر رکھا گیا۔ ان کے مطابق یہ صرف ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی نہیں بلکہ صدر کے کردار کو محدود کرنے کی دانستہ کوشش تھی، جو کسی چیف ایڈوائزر کے اختیار میں نہیں۔
سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ صدر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بعض حلقے ان کے عہدے کے متبادل انتظامات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ صدر کا عہدہ آئین میں واضح طور پر متعین ہے اور اس کے خاتمے کا طریقہ بھی طے شدہ ہے۔ اگر سیاسی یا انتظامی دباؤ کے ذریعے اس عمل کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ آئینی نظام کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔ اسی لیے بعض حلقے ڈاکٹر یونس اور ان کے قانونی مشیر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایک اور الزام یہ بھی ہے کہ صدر پر ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ صدر کے مطابق شدید سیاسی بے چینی کے دوران ان سے ایمرجنسی نافذ کرنے کو کہا گیا۔ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ میں ہنگامی اختیارات کو اکثر طاقت کے ارتکاز کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اگر عبوری حکومت کے اندر سے واقعی ایسا دباؤ ڈالا گیا تو یہ غیر معمولی طاقت کے ارتکاز کی علامت ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا قدم اٹھانے سے انکار کر دیا۔
ان الزامات کی سیاسی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر معروف شخصیت ہونے کے باوجود ڈاکٹر یونس اقتدار میں آنے کے بعد بدل گئے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کو فروغ دیا اور آمرانہ انداز اپنایا۔ ان کی قیادت میں بننے والی عبوری حکومت نے اختیارات کے استعمال میں آئینی حدود کو عبور کیا، اسی لیے اب ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔
معروف مصنفہ تسلیمہ نسرین نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا کہ سابق چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس اور ان جیسے افراد کو جیل میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان پر بغاوت، آزادی کی جنگ کی تاریخ مٹانے، 1971 کے دشمن پاکستان کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ اور “سیون سسٹرز” علاقوں پر قبضے کی دھمکیوں جیسے الزامات کے تحت مقدمات کیوں درج نہیں کیے جا رہے۔
یوں ڈاکٹر محمد یونس اب بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک متنازع باب بن چکے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان کے 18 ماہ کے دورِ اقتدار نے ریاستی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی “ری سیٹ بٹن” دبانے کی بات کی اور بنگلہ دیش کو دوبارہ مشرقی پاکستان کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں ہجوم کی سیاست کو فروغ ملا اور قانون کی حکمرانی کمزور پڑ گئی۔
ایک ڈھاکا کے اخبار کے مطابق یونس کے تین مشیروں نے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہجوم سازی کی حکمت عملی اختیار کی، مگر آخرکار یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔
سنہ 2024 میں یونس نے جان بوجھ کر اقتدار سنبھالنے میں تاخیر کی۔ 5 اگست کو ذمہ داری کا اعلان ہونے اور 8 اگست کو حلف لینے کے درمیان تین دن تک ملک میں عملی طور پر حکومت موجود نہیں تھی۔ اس دوران امن و امان کی صورتحال خراب ہو گئی اور لوٹ مار، قتل، آتش زنی اور مخالفین پر حملوں کے واقعات پیش آئے۔ بعض مبصرین کے مطابق عبوری قیادت کی تاخیر نے اس صورتحال کو مزید خراب کیا۔
ڈاکٹر یونس کو طلبہ کی تجویز پر چیف ایڈوائزر بنایا گیا تھا۔ ناقدین کے مطابق اسی وجہ سے انہوں نے طلبہ کی غلطیوں کو برداشت کیا اور تعلیمی اداروں میں معمول کی صورتحال بحال کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس دوران ہجوم کے ہاتھوں قتل اور منظم تشدد کے واقعات سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے 2024 سے 2026 کے درمیان ہجوم کے تشدد میں تشویشناک اضافہ رپورٹ کیا۔
ان کے اقتصادی فیصلوں پر بھی شدید تنقید ہوئی۔ ان کی طویل عرصے سے وابستہ تنظیم گرامین بینک کے لیے ٹیکس چھوٹ، ٹیکس ہالیڈے اور ملکیتی ڈھانچے میں تبدیلی جیسے اقدامات کو مفادات کے ٹکراؤ کے طور پر دیکھا گیا۔ اقتدار سنبھالتے ہی اپنی تنظیم کو مالی فائدہ پہنچانے کے الزامات نے عوام میں شکوک و شبہات پیدا کیے۔
الزام ہے کہ یونس نے اپنی ملکیت والی کمپنیوں کے نام پر افرادی قوت برآمد کرنے اور یونیورسٹیوں سمیت 20 تجارتی لائسنس حاصل کیے، جو ایک غیر معمولی اقدام تھا۔
ناقدین کے مطابق وہ قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے 18 ماہ کے دور میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل تشویشناک رہی۔ پولیس اہلکاروں پر حملے، تھانوں کو جلانا، اسلحہ لوٹنا اور سیاسی کارکنوں پر تشدد جیسے واقعات خبروں کی زینت بنتے رہے۔ اقلیتوں کے گھروں اور عبادت گاہوں پر حملوں کے الزامات نے عالمی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی۔
صحافیوں، ادیبوں، فنکاروں اور اساتذہ کو بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض حلقوں کے مطابق صحافی سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی سوالات اٹھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر یونس نے کئی معاملات میں من مانی کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ان کا دور ختم ہو چکا ہے، مگر تنازعات ختم نہیں ہوئے۔ ایک نوبل انعام یافتہ شخصیت کے اقتدار میں آنے کے بعد قانون کی حکمرانی، اقتصادی اخلاقیات، سیاسی برداشت اور ریاستی تسلسل جیسے معاملات مزید پیچیدہ ہو گئے۔ انہوں نے ایک انتظامی حکم کے ذریعے ملک کی بڑی سیاسی جماعت کو سیاست سے باہر کر دیا، جس کے باعث بنگلہ دیش طویل سیاسی بحران کا شکار ہو گیا۔
(مصنف: نعیم نظام، سابق مدیر بنگلہ دیش پرتیدن ۔ یہ ذاتی آراء ہیں۔)
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر6 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
