دنیا
ایران جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے، ملک جلد ہی فتح کا جشن منائے گا: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے اور امید ہے کہ ملک جلد ہی فتح کا جشن منائے گا۔
مسٹر عراقچی نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے اپنے مخالفین کو کوئی پیغام نہیں بھیجا ہے اور نہ ہی جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازع اس طرح ختم ہونا چاہئے کہ مستقبل میں دشمن دوبارہ اس قسم کی جارحانہ کارروائی کرنے کی ہمت نہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے، لیکن وہ چاہتا ہے کہ موجودہ تنازع کا اختتام اس طرح ہو کہ آئندہ ایسی واقعات کے دوبارہ ہونے کا امکان ہی ختم ہو جائے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ ماہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی کارروائی کے جواب میں ایران نے فوری طور پر کئی مراحل میں جوابی حملے کیے اور امریکی و اسرائیلی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھی جب ایران کے خلاف جارحانہ کارروائی ہوئی تھی، تب مخالف فریق ایران سے بلا شرط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا تھا، لیکن بعد میں انہوں نے ہی جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔
مسٹر عراقچی نے تنازع کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت پورے قوم کے لیے وقار کی علامت ہے۔ انہوں نے اس تنازع میں کئی سینئر حکام، عام شہریوں اور بچوں کے مارے جانے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دور ملک کے لیے مشکل رہا ہے، لیکن ایران کی ثابت قدمی، دفاع اور جوابی کارروائی پورے قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔
مسٹر عراقچی نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے سوال پر کہا کہ یہ راستہ ایران کے دشمنوں اور حملہ آور ممالک کو چھوڑ کر دیگر ممالک کے لیے کھلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک مخالف فریق کو واضح پیغام مل چکا ہے کہ ایران اپنی دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر جنگ جاری رکھے گا۔
دوسری جانب، امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے پیش نظر چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک سے اس اہم سمندری راستے کی حفاظت کے لیے جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر اتحادی ممالک مدد نہیں کرتے تو نیٹو کے لیے مستقبل “بہت خراب” ہو سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک آسٹریلیا اور جاپان نے واضح کیا ہے کہ وہ فی الحال اپنے جہاز بھیجنے کا منصوبہ نہیں بنا رہے ہیں۔ برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ اختیارات پر غور کر رہا ہے، جبکہ چین نے تنازع کو فوری طور پر ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر عراقچی نے صاف کیا ہے کہ جو ممالک آبنائے ہرمز کے محفوظ استعمال کے حوالے سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں، ایران ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک دارالحکومت تہران میں کم از کم 500 افراد ہلاک اور 5,700 زخمی ہوئے ہیں۔ ایران کے مرکزئی صوبے میں پیر کو کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ سات دیگر زخمی ہو گئے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملے مختلف مقامات پر کیے گئے۔
وہیں مغربی ایشیا میں آج پیر کو بھی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے فجیرہ میں ایک پٹرولیم مرکز پر ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی، تاہم وقت پر قابو پا لیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
ماسکو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نجی طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کو جوہری معاہدے کے بغیر بھی ختم کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ کئی ہفتوں سے اس بات کی راہ ہموار کر رہے ہیں کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیتا ہے تو ایران کے ساتھ جنگ میں فتح کا اعلان کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ مشیروں کے سامنے نجی طور پر یہ بھی کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے بغیر بھی کسی سمجھوتے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔
امریکی ایوانِ صدر کے ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ایران کے حوالے سے امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ کی اب توجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانے پر ہے۔ اگر ایران بحری جہازوں پر حملے جاری رکھتا ہے تو صدر کے پاس فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار برقرار رہے گا۔
امریکی حکام نے مزید بتایا کہ صدر نے اپنے اعلیٰ مشیروں سے نجی گفتگو میں کہا ہے کہ ان کے اقتدار میں رہتے ہوئے ایران کے دوبارہ جوہری سرگرمیاں شروع کرنے کا امکان کم ہے، کیونکہ امریکہ 2025 تک ایران کی 3 اہم جوہری تنصیبات کو تباہ کر چکا تھا۔ حالیہ ملاقاتوں میں ٹرمپ نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران پر امریکی حملوں کا خطرہ ایک قابلِ اعتماد بازدار قوت کے طور پر کام کرے گا۔
حکام کے مطابق اگر امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ٹرمپ موجودہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے پر زیادہ آمادہ ہوں گے۔ توقع ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیتا ہے تو امریکی صدر ایرانی بندرگاہوں پر عائد فوجی ناکہ بندی بھی ختم کر دیں گے۔
امریکی صدر نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملے اس لیے روک دیے ہیں کیونکہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس معاہدے کی ابتدائی شرائط میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سمجھوتے شامل ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مقررہ بحری راستے کی جغرافیائی تفصیلات پر اتفاق کر لیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ
تہران، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت میں واقع احمد الجابر امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملہ کرکے اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جسے حالیہ امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی فوج کے مطابق کویت میں واقع احمد الجابر فضائی اڈہ خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور عسکری کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے حملے کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ تاہم اس دعوے پر امریکہ یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ م س
