دنیا
ایران کے خلیجی ممالک پر 3133 سے زائد حملے، 17 امریکی تنصیبات کو نقصان
واشنگٹن، جنگ کے دوران ایران نے اب تک خلیجی ممالک پر 3133 سے زائد حملے کیے جن میں 17 امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ان نقصانات کی سیٹلائٹ تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق جنگ شروع ہونے کے 12 دن کے دوران ایران نے خلیجی ممالک پر 3 ہزار 133 سے زائد حملے کیے، جن میں 783 میزائل حملے اور 2 ہزار 350 ڈرون طیاروں سے کیے گئے حملے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے یو اے ای پر 270 میزائلوں سے اور ایک ہزار 475 ڈرون طیاروں سے سب سے زیادہ حملے کیے جبکہ کویت پر 239 میزائلوں اور 456 ڈرون طیاروں سے حملے کیے گئے۔
قطر پر 143 میزائل اور 78 ڈرون طیاروں سے حملے اور بحرین پر 106 میزائل اور 177 ڈرون طیاروں سے حملے کیے گئے۔
اس کے علاوہ ایران نے سعودی عرب پر 25 میزائل اور 151 ڈرون طیاروں سے حملے کیے جبکہ سلطنت عُمان پر 13 ڈرون طیاروں کے حملے ہوئے۔ سرکاری طور پر ایران پر الزام عائد نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایران کے مشرق وسطیٰ میں حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی سیٹلائٹ تصاویر شائع کی ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایران نے مشرق وسطیٰ امریکی اور اتحادی اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں میں مشرق وسطیٰ میں 17 امریکی مقامات کو نقصان پہنچا ہے جن میں گیارہ امریکی فوجی اڈے یا تنصیبات شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے امریکہ اور اسرائیل پر جوابی حملے ظاہر کرتےہیں کہ ایران کی تیاری امریکی اندازوں سے کہیں زیادہ تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے پاس پیٹریاٹ میزائل ختم، ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
کیف/واشنگٹن، یوکرین کے پاس امریکہ کے تیار کردہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے، جس سے ملک روس کے بیلسٹک میزائل حملوں کے مقابلے میں مزید غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ یہ صورت حال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ صورت حال سے واقف ایک ذریعے نے یہ اطلاع دی۔
سی این این نے مذکورہ ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ میزائلوں کی قلت بدھ کی رات روس کے حملے کے دوران خاص طور پر نمایاں ہوئی، جب ضروری انٹرسیپٹر میزائل دستیاب نہ ہونے کے باعث روس کے داغے گئے بیشتر بیلسٹک میزائلوں کو روکا نہیں جا سکا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے کہا، ”گزشتہ حملے میں داغے گئے تقریباً تمام بیلسٹک میزائلوں کو انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کے باعث روکا نہیں جا سکا۔”
روسی حملوں میں کیف کے تین بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ خارکیف کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں چار افراد ہلاک اور کم از کم 25 زخمی ہو گئے۔ موسم سرما کی آمد کے پیش نظر ان حملوں نے یوکرین کے فضائی دفاع کو درپیش چیلنجوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
پیٹریاٹ دفاعی نظام ان چند ہتھیاروں میں شامل ہے جو روس کے بیلسٹک میزائلوں، بشمول اسکندر-ایم، کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، انٹرسیپٹر میزائل مہنگے ہیں اور عالمی سطح پر ان کی فراہمی محدود ہے، جس کے باعث کیف کے لیے اپنے ذخائر کو فوری طور پر دوبارہ بھرنا مشکل ہو رہا ہے۔
ان میزائلوں کی امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن تیار کرتی ہے۔ کمپنی نے جولائی میں کم لاگت والے پی اے سی-3 اے سی ای میزائل کا نیا ورژن متعارف کرایا تھا، جس کی ابتدائی پیداوار اگلے 36 ماہ کے اندر شروع ہونے کی توقع ہے۔ موجودہ پی اے سی-3 انٹرسیپٹر میزائلوں کی قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر فی میزائل ہے، جس سے روس کے مسلسل حملوں کے دوران فضائی دفاعی کارروائیوں کو برقرار رکھنے کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔
زیلنسکی مغربی اتحادیوں سے اضافی فضائی دفاعی نظام اور گولہ بارود فراہم کرنے کی بارہا اپیل کر چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما سے قبل یوکرین کے شہروں اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے زیادہ مضبوط دفاعی انتظامات ضروری ہیں۔
جمعہ کو ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کے ساتھ ملاقات کے دوران زیلنسکی نے روسی حملوں کے خلاف یوکرین کے دفاع کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، ”فضائی دفاع ہماری اولین ترجیح ہے، خصوصاً بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاع اور ان تمام وسائل کی فراہمی جو جیٹ انجن سے چلنے والے شاہد ڈرونوں کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔” روس ان ایرانی ساختہ حملہ آور ڈرونوں کا استعمال کرتا ہے۔
میزائلوں کی قلت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین کی فوجی حکمت عملی اور جنگ کے خاتمے کے امکانات کے معاملے پر ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے زیلنسکی کو ایسا شخص قرار دیا جس کے ساتھ امریکہ کے لیے معاملات طے کرنا مناسب نہیں اور کہا کہ انہیں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مقابلے میں یوکرینی صدر کے ساتھ مذاکرات کرنا زیادہ مشکل لگتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ”میرے خیال میں زیلنسکی کے ساتھ معاملات طے کرنا پوتن کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے۔”
ٹرمپ نے ماسکو کے ساتھ سمجھوتے کے لیے زیلنسکی کی آمادگی پر سوال اٹھائے ہیں اور کیف پر زور دیا ہے کہ وہ روسی تیل کی ریفائنریوں پر حملے روک دے۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثی حملوں کی مذمت پر سعودی عرب کا سلامتی کونسل سے اظہارِ تشکر
ریاض، سعودی عرب نے مملکت کے خلاف حوثی باغیوں کے حملوں، جن میں شہری تنصیبات، ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا اور بحیرۂ احمر و آبنائے باب المندب میں بحری جہازوں کو دھمکیاں دینا شامل ہے، کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے مذمت کا خیرمقدم کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ حوثیوں کو ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تعاون کی سلامتی کونسل کی اپیل کا خیرمقدم کرتی ہے۔
وزارت نے کہا، ”ہم شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مقابلہ کرنے میں سلامتی کونسل کی یکجہتی کو سراہتے ہیں۔”
سلامتی کونسل کے ارکان نے جمعرات کو سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی ”سخت ترین الفاظ میں” مذمت کی اور مملکت کے ”فطری حقِ دفاع” کی توثیق کی۔
کونسل کے صدارتی بیان میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 10 اور 11 اکتوبر کو ہونے والے مہلک حملوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا، جن میں بیان کے مطابق 14 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو بتایا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی یکم اکتوبر سے اب تک ہوائی اڈے پر 20 حملے کر چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے مملکت کے دیگر ہوائی اڈوں اور سعودی آرامکو کی تنصیبات پر متعدد حملوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں شہری ہوابازی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔
سلامتی کونسل کا یہ بیان بڑھتے ہوئے بحران پر اس کے پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ صدارتی بیانات کے لیے کونسل کے تمام 15 ارکان کا اتفاقِ رائے ضروری ہوتا ہے اور انہیں عوامی اجلاس میں باضابطہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
سلامتی کونسل کے تازہ بیان میں 7 اگست اور 18 ستمبر کو جاری کیے گئے سابقہ بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں حوثیوں سے فوجی کشیدگی اور شہریوں و شہری تنصیبات پر حملے فوری طور پر روکنے کی اپیل کی گئی تھی۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
واشنگٹن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے۔ ان سے ان خبروں کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن وسط مدتی انتخابات کے بعد روایتی بموں میں سب سے طاقتور بم ”مدر آف آل بمز” استعمال کر سکتا ہے۔
جب مسٹر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا اس اختیار میں کوئی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بھی شامل ہے تو انہوں نے زور دے کر کہا، ”مدر آف آل بمز جوہری بم نہیں ہے۔”
انہوں نے کہا، ”یہ بالکل بھی جوہری بم نہیں ہے۔ یہ صرف ایک بہت بڑا بم ہے۔ یہ ایک چھوٹے جوہری بم جیسا ہے۔”
اس کے بعد صدر ٹرمپ نے حقیقی جوہری حملے کی ضرورت کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، ”مدر آف آل بمز ایک بہت بڑا بم ہے، لیکن یہ جوہری بم نہیں ہے۔ میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں کروں گا۔ ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
دنیا1 week agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا1 week agoروس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
-
ہندوستان6 days agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoفورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے شخص کی لاش نیوزی لینڈ سے واپس لانے کی کوششیں جاری: جتیندرسنگھ
-
فن و ادب1 week agoنانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
-
جموں و کشمیر6 days agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
جموں و کشمیر6 days agoسی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
-
ہندوستان1 week agoجنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
