دنیا
نیتن یاہو نے امریکہ کے 7 دورے کر کے صدر ٹرمپ کو جنگ پر آمادہ کیا: سابق سعودی انٹیلی جنس چیف
ریاض، سابق سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے انکشاف کیا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکہ کے 7 دورے کرکے صدر ٹرمپ کو جنگ پر آمادہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر لب کشائی کرتے ہوئے اسے اسرائیلی وزیراعظم کی ذاتی جنگ قرار دے دیا ہے۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو نے امریکہ کے سات دورے کیے تاکہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو اسرائیل کا آئین تبدیل کرکے ایک مطلق العنان حکمران بننا چاہتے ہیں تاکہ وہ بلا روک ٹوک فیصلے کر سکیں اور قانون انہیں تحفظ فراہم کرے۔
سابق انٹیلی جنس چیف نے بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام خلیجی سربراہان صدر ٹرمپ کو مسلسل مشورہ دیتے رہے کہ ایران پر حملہ نہ کیا جائے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ایران جوابی کارروائی میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے ان مشوروں کے برعکس ایران پر حملہ آور ہونے کا فیصلہ کیا۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی کارروائیوں پر حیرت کے اظہار کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ “مجھے صدر ٹرمپ کے حیرت زدہ ہونے پر بڑی حیرت ہے”۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر حملوں کے منفی اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ امریکا بھی ان کے نتائج سے نہیں بچ سکے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی نائب صدر؛ جنگ کے خاتمے کے لئے ایران کو یورینیم افزودگی کی سطح کو کم کرنا ہوگا
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے، واشنگٹن مذاکرات میں تہران کے فیصلے کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں غیر یقینی کی صورتحال جاری ہونے کے باوجود کہا ہے کہ امریکی مطالبات کو پورا کرنے اور ملک کی سات ماہ طویل جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو اپنے جوہری افزودگی کے حجم میں ‘معنی خیز’ کمی لانی ہوگی۔
وینس، جو طویل عرصے سے بیرونی جنگوں میں امریکی مداخلت کے حوالے سے تذبذب سے کام لیتے ہیں، نے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا اور ستمبر میں ایک عارضی امن معاہدہ کروایا جو قلیل مدت میں ہی کالعدم ہو گیا۔
رائٹرز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں وینس نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ایران کو اپنے جوہری افزودگی کے حجم میں کمی لانا ہوگی، اور مستقبل میں نام نہاد ایٹمی کمی کے وعدے کرنا نا کافی ہوگا۔
وینس نے کہا” اگر آپ ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے تو آپ کو 60% تک افزودہ ایندھن کیوں چاہیے؟ اور اگر آپ ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اس حد تک افزودہ ایندھن نہ بنائیں۔ یہ ایک بڑا بنیادی معیار کا معاملہ ہے۔”
“میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنی افزودگی کی صلاحیت پر کوئی معنی خیز قدم اٹھائیں گے۔”
وینس نے کہا کہ امریکہ معاہدے کے لیے کھلا ہے مگر اس کے لیے ایران کی جانب سے ٹھوس جوہری رعایتیں درکار ہوں گی۔ ‘ہم محض باتوں کے بدلے عملی اقدامات نہیں اٹھائیں گے۔’
وینس نے کہا کہ واشنگٹن کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ تہران میں کون فیصلے کرتا ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ وائٹ ہاؤس ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا۔ لیکن ان کے مطابق یہ واضح نہیں تھا کہ جنگ کے آغاز میں مشترکہ امریکی-اسرائیلی حملوں کے بعد، جنہوں نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا، وہ ایران کی طاقت کے ڈھانچے میں کتنی اتھارٹی رکھتے ہیں۔
وینس نے کہا”ایک بات جو ہمیں نظر آئی وہ یہ ہے کہ یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ ان کا ملک کیسے فیصلے کرتا ہے،” دوسری جناب ٹرمپ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ان کا ‘سب سے بڑا مسئلہ’ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ایران کے ملکی نظام کو کون چلارہا ہے۔
ایران کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو کہا کہ امریکی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ایرانی ہم منصب کون ہیں اور ایران کے فیصلہ سازی نظام کا طریقہ کار کیا ہے۔
وینس نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے میدانِ جنگ کی صورتحال جاننے کے لیے جنگی کمانڈروں سے ذاتی بات چیت کی ہے۔
انہوں نے گولہ بارود کے ذخائر میں نمایاں سطح کی کمی کے بارے میں خدشات کومسترد کیا اور کہا کہ اگرچہ ایرانی فوجی وقتی طور پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں، وہ بڑی حد تک اس آبی راستے کے ذریعے توانائی کی برآمدات کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔
یہ جنگ – اور اس کی ماہانہ 3 ارب ڈالر لاگت – انتخابی مہم میں اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ توانائی کی بلند قیمتوں متحرک ریاستوں میں ٹرمپ اور ریپبلکنز کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا ہے جو کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ کریں گی۔
وینس کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے جانشین کے طور پر ایک اہم ریپبلکن امیدوار سمجھا جاتا ہے۔
وینس نے بعد میں رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ 2028 میں صدارت کی دوڑ میں حصہ لیں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا ‘میں فطری طور پر ایک ٹال مٹول کرنے والا آدمی ہوں’ ‘میں نے اس بارے میں واقعی زیادہ نہیں سوچا۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ اگر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر کا منافع دیا جائے گا۔
مسٹر ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا، “ڈیموکریٹ ایسا نہیں کر سکتے، کیونکہ وہ محصولات عائد نہیں کرتے اور اس لیے ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔”
اس سے قبل منگل کو بالٹی مور میں ایک الگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی انتخابات جیت جاتی ہے تو امریکی معیشت کو 1929 جیسی شدید کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے۔ اس روز سینیٹ کے 33 ارکان اور ایوان نمائندگان کے تمام 435 ارکان منتخب کیے جائیں گے۔ کئی ریاستوں میں قانون ساز اداروں کے انتخابات بھی اسی روز ہوں گے۔
یو این آئی، ایم جے
دنیا
ٹرمپ کے گولڈن ڈوم دفاعی منصوبے کے لیے فنڈنگ پر سوالات، کانگریس سے منظوری مشکل
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کے لیے پیش کردہ گولڈن ڈوم منصوبے کو فنڈنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، کیونکہ مالی سال 2027 کے لیے منصوبے کی زیادہ تر فنڈنگ ایک ایسے مفاہمتی پیکیج سے منسلک ہے جسے کانگریس سے منظور کرانا مشکل نظر آرہا ہے۔
کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کے مطابق میزائل دفاعی پروگرام کی ترقی اور آپریشن پر 20 برسوں کے دوران تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آنے کا اندازہ ہے۔
پینٹاگون نے 350 ارب ڈالر کے مجوزہ مفاہمتی پیکیج کے ذریعے گولڈن ڈوم کے لیے 17 ارب ڈالر طلب کیے ہیں، جبکہ اس کے 1.15 ٹریلین ڈالر کے بنیادی بجٹ میں اس پروگرام کے لیے صرف 40 کروڑ ڈالر مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے میزائل ڈیفنس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر تھامس کاراکو نے کہا کہ جمعرات کو نئے مالی سال کے آغاز کے وقت پروگرام کے لیے کوئی فنڈنگ موجود نہیں تھی۔
انہوں نے ’دی ہل‘ سے کہا، ’’یہ مالی سال 2027 کی تخصیصات سے بنے گا یا ختم ہوجائے گا، اور میں نے کہا تھا کہ گولڈن ڈوم کے لیے یہی سب سے فوری ضرورت ہے۔ یہ اس نقطۂ نظر سے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ رقم کے بغیر کوئی پروگرام نہیں، صرف پاورپوائنٹ سلائیڈز ہیں۔‘‘
فنڈنگ کی حکمت عملی پر 29 ستمبر کو سینیٹ کی آرمڈ سروسز ذیلی کمیٹی کی سماعت میں بھی سوالات اٹھائے گئے، جہاں کاراکو نے گواہی دی۔
دریں اثنا، ساؤتھ ڈکوٹا سے ریپبلکن سینیٹر مائیک راؤنڈز نے سوال اٹھایا کہ پروگرام کو دو طرفہ تخصیصات کے بجائے مفاہمتی عمل پر انحصار کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔ جبکہ مین سے آزاد سینیٹر اینگس کنگ نے کہا کہ یہ منصوبہ ’’امریکی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اب تک کے سب سے مہنگے اور بڑے منصوبوں‘‘ میں سے ایک ہے، اس لیے یہ بات ’’بہت تشویش ناک‘‘ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے روایتی بجٹ مختص کرنے کے عمل کے ذریعے اسے فنڈز فراہم نہیں کیے۔
ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اعلان کیا تھا کہ پینٹاگون خلا میں نصب انٹرسیپٹرز اور میزائلوں کا سراغ لگانے اور انہیں راستے میں روکنے کے لیے سیٹلائٹس پر مشتمل ایک وسیع ملکی میزائل دفاعی نظام تیار کرے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق اس نظام کا مقصد بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائلوں، جدید کروز میزائلوں اور دیگر نئی نسل کے فضائی خطرات سے دفاع کرنا ہے۔
سی بی او نے مئی میں اندازہ لگایا تھا کہ گولڈن ڈوم پر 20 برسوں میں تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آئے گی، جس میں خلا پر مبنی میزائل وارننگ اور ٹریکنگ نظام کے لیے 740 ارب ڈالر، زمینی دفاعی نظام کی مختلف تہوں کے لیے 270 ارب ڈالر، جبکہ سینسرز، تحقیق و ترقی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے 180 ارب ڈالر شامل ہیں۔
پروگرام کی نگرانی کرنے والے اسپیس فورس کے جنرل مائیکل گوئٹلین نے مارچ میں اس کی تخمینی لاگت 185 ارب ڈالر بتائی تھی۔
کانگریس نے اس سے قبل جولائی 2025 میں ٹرمپ کے دستخط سے نافذ ہونے والے ’ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ‘ (او بی بی بی اے) کے ذریعے گولڈن ڈوم کے لیے 24.4 ارب ڈالر مختص کیے تھے۔
مارچ میں ایک مزید مفاہمتی بل کے ذریعے تعمیرات شروع کرنے کے لیے 22.5 ارب ڈالر فراہم کیے گئے تھے، تاہم گوئٹلین نے رواں موسم گرما میں کہا تھا کہ چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں اس رقم کا 90 فیصد حصہ مختص کیا جاچکا ہے۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
دنیا1 week agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
-
دنیا1 week agoصدر ایردوان کی نے انڈونیشیا کے صدر سوبیانتو سے ٹیلیفونک بات چیت
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز پر امریکہ کے جواب کا انتظار ہے: ایران
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
دنیا5 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoبرطانیہ کے فئیر فورڈ فوجی ہوائی اڈے کے واقعے میں ’’غیر ملکی طاقت‘‘ کا ہاتھ: روبیو
