ہندوستان
اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کے آغاز پر کانگریس کا مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال
نئی دہلی،اسلام آباد میں ہفتہ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی بات چیت کے موقع پر کانگریس پارٹی نے قیامِ امن کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کیا ہے، تاہم ساتھ ہی مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پرسخت تنقید کرتے ہوئے تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں ہندوستان کی اسٹریٹجک پوزیشننگ پر “سنجیدہ سوالات” اٹھائے ہیں۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس بات چیت کے تعلق سے عالمی سطح پر، بشمول ہندوستان، یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ یہ “پائیدار امن کے عمل کا آغاز” ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کوششوں کو “پڑوس میں اسرائیل کی مسلسل جارحیت” کی وجہ سے پٹری سے نہیں اترنا چاہیے۔ رمیش نے اس موقع کا استعمال حکومت کے سفارتی نقطہ نظر میں تضادات اور ضائع شدہ مواقع پر سوال اٹھانے کے لیے کیا، اور وزیر اعظم نریندر مودی کی رسائی کی حکمت عملیوں کو نشانہ بنایا۔
وزیر اعظم کی ماضی کی ہائی پروفائل مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ریمارکس دیے کہ حالیہ پیش رفت کی روشنی میں “خود ساختہ وشو گرو کی ‘ہگلومیسی’ (گلے ملنے کی سفارت کاری) کے جوہر اور انداز پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں”۔
کانگریس رہنما نے ان مذاکرات کی میزبانی میں پاکستان کے کردار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گردانہ حملے میں مبینہ ملوث ہونے اور ہندوستان کی جانب سے اسے تنہا کرنے کی سفارتی کوششوں کے باوجود اسلام آباد اپنے لیے یہ “نیا کردار” حاصل کرنے میں کیسے کامیاب رہا
انہوں نے موجودہ صورتحال کا موازنہ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد کے دور سے کرتے ہوئے کہا کہ منموہن سنگھ کی قیادت میں اس وقت کی حکومت نے “پاکستان کو انتہائی مؤثر طریقے سے تنہا کر دیا تھا”۔ جے رام رمیش نے امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پر بھی سوال اٹھایا اور دلیل دی کہ عوامی سفارت کاری کی وسیع کوششوں—بشمول بڑے ایونٹس اور سیاسی پیغامات—کے باوجود حکومت اسٹریٹجک فائدہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان نے ایک “واضح طور پر یکطرفہ تجارتی معاہدے” پر اتفاق کیا جبکہ بدلے میں اسے بہت کم حاصل ہوا، یہاں تک کہ واشنگٹن نے پاکستان کو ایک بار پھر سفارتی اہمیت دے دی۔ مزید برآں، انہوں نے برکس میں ہندوستان کی موجودہ قیادت کی پوزیشن کو امن یا ثالثی کی کوششوں کے لیے استعمال نہ کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایران، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے اہم علاقائی ممالک اس گروپ کے رکن ہیں۔
“ہندوستان نے کوئی امن اقدام کیوں شروع نہیں کیا؟” انہوں نے سوال کیا کہ نئی دہلی نے سفارتی قیادت منوانے کا موقع گنوا دیا۔
رمیش نے چین کے حوالے سے ہندوستان کے رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے گزشتہ اٹھارہ مہینوں کے دوران “منظم ہتھیار ڈالنے” سے تعبیر کیا۔ انہوں نے اسے پاکستان کے لیے بیجنگ کی مسلسل حمایت سے جوڑا، خاص طور پر حالیہ علاقائی کشیدگی اور ‘آپریشن سندور’ پر اسلام آباد کے ردعمل کے تناظر میں۔
مغربی ایشیا کے وسیع تر مفادات پر زور دیتے ہوئے کانگریس رہنما نے وہاں استحکام کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ “مغربی ایشیا میں امن جلد واپس آنا چاہیے،” اور مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کو معمول پر آنا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے حالیہ دورہ اسرائیل کے وقت پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے اس کے فوراً بعد بڑھنے والی کشیدگی کے تناظر میں “غیر دانشمندانہ اور غلط وقت پر کیا گیا” قرار دیا۔ یہ بیان حکومت کے خارجہ پالیسی بیانیے کو چیلنج کرنے کی کانگریس کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا اسلام آباد مذاکرات دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم خطوں میں سے ایک میں تناؤ کو کم کر پاتے ہیں۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر11 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا15 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا15 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا15 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا11 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا11 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا14 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
