ہندوستان
پی ایم مودی نے 19ویں روزگار میلے میں 51,000 تقررنامے تقسیم کیے، کہا کہ دنیا ہندوستان کے ترقیاتی سفر میں شامل ہونا چاہتی ہے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو 19ویں روزگار میلے کے تحت مختلف سرکاری محکموں اور اداروں میں نئے بھرتی ہونے والے نوجوانوں کو 51,000 سے زیادہ تقررنامے تقسیم کیے اور اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی نوجوان آبادی ملک کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کی سمت میں آگے لے جا رہی ہے۔
ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نئے بھرتی ہونے والے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ روزگار میلہ نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے اور ملک کی تعمیر میں ان کے کردار کو مضبوط کرنے کے تئیں حکومت کے عزم کا عکاس ہے۔
وزیر اعظم نے کہا، “ہندوستان کے نوجوان وکست بھارت کی جانب سفر کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ روزگار میلہ ہماری حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت یووا شکتی کو نئے مواقع کے ساتھ بااختیار بنایا جا رہا ہے۔”
ہندوستان پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کو اجاگر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ دنیا ملک کے نوجوان ٹیلنٹ اور تیز رفتار تکنیکی ترقی کی وجہ سے ہندوستان کے ساتھ شراکت داری کے لیے بے تاب ہے۔ انہوں نے کہا، “دنیا ہندوستان کے نوجوانوں اور ہندوستان کی تکنیکی ترقی کے بارے میں بہت پرجوش ہے۔ آج دنیا ہندوستان کے ترقیاتی سفر کا حصہ بننا چاہتی ہے۔”
وزیر اعظم نے کہا کہ کلین انرجی ، اہم معدنیات، گرین ہائیڈروجن اور پائیدار مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں تیزی سے توسیع ہو رہی ہے، جس سے نوجوان ہندوستانیوں کے لیے نئے معاشی مواقع اور روزگار کی راہیں کھل رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا، “ان شعبوں میں شراکت داری ایک نئی معیشت اور نئے مواقع کے دروازے کھول رہی ہے۔”
حکومت کے طویل مدتی وژن کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ہر بھارتی 2047 تک ایک وکست بھارت بنانے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے نوجوانوں کے لیے لاکھوں ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، “آج ہر ہندوستانی ایک عظیم عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ عزم 2047 تک ایک وکست بھارت بنانا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور ابھرتی ہوئی صنعتوں میں سرمایہ کاری روزگار کی پیداوار میں تعاون دے رہی ہے۔
وزیر اعظم نے دیہی ہندوستان میں آنے والی واضح تبدیلی کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ بہتر رابطے (کنیکٹیویٹی) سے کسانوں، چھوٹے تاجروں اور طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “آج گاؤں والوں میں بھی تیز رفتار تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے رابطے کے ساتھ کسانوں، چھوٹے تاجروں اور طلبہ کے لیے نئی راہیں کھلی ہیں۔”
نئے بھرتی ہونے والے نوجوانوں سے پبلک سروس (عوامی خدمت) کو قومی خدمت کا ذریعہ سمجھنے کی اپیل کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستانی نوجوان دنیا بھر میں ہر شعبے میں اپنی شناخت بنا رہے ہیں اور اسی جذبے اور توانائی کو گورننس میں بھی لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “آج ہندوستان کے نوجوان دنیا بھر میں ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ یہی جذبہ اور یہی توانائی عوامی خدمت میں بھی نظر آنی چاہیے۔”
وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی سمیت دیگر ممالک کے اپنے حالیہ دوروں کے دوران دستخط کیے گئے معاہدوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایسی شراکت داریاں براہ راست ہندوستانی نوجوانوں کو فائدہ پہنچائیں گی اور ملک کی مستقبل کی ترقی کے امکانات کو مضبوط کریں گی۔ انہوں نے کہا، “یہ تمام معاہدے ایک روشن اور قابل ہندوستان کی ضمانت کے ساتھ آتے ہیں۔”
19واں روزگار میلہ ملک بھر میں 47 مقامات پر منعقد کیا گیا۔ نئے بھرتی ہونے والے امیدوار مختلف وزارتوں اور محکموں میں شامل ہوں گے، جن میں وزارت ریلوے، وزارت داخلہ، وزارت صحت اور خاندانی بہبود، محکمہ مالیاتی خدمات اور محکمہ اعلیٰ تعلیم شامل ہیں۔ حکومت کے مطابق، اس اقدام کے آغاز کے بعد سے اب تک منعقد کیے گئے 18 روزگار میلوں کے ذریعے تقریباً 12 لاکھ تقررنامے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
روزگار میلہ سرکاری محکموں میں اسامیوں کو مقررہ وقت پر پُرکرنے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے مقصد سے مرکز کے فلیگ شپ بھرتی مہم میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔ بھرتی کا یہ تازہ ترین دور عوامی شعبے میں بھرتیوں، ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر حکومت کے مسلسل زور دینے کا حصہ ہے، جو کہ اس کے وسیع تر معاشی اور گورننس ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
