دنیا
جنگ کے آغاز سے اب تک ایران پر 9 ہزار سے زائد حملے کیے: امریکی فوج
واشنگٹن، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اب تک 9 ہزار سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 140 ایرانی بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا گیا ہے، یہ کارروائیاں اس وقت سے جاری ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو جنگ کا آغاز ہوا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہونے کے دعوؤں کے باوجود سینٹ کام کا کہنا ہے کہ حملے بدستور جاری ہیں۔ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج جدید اسلحے کے ذریعے ایرانی فوجی اہداف کو مسلسل اور بھرپور طریقے سے نشانہ بنا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صورتحال تاحال انتہائی سنگین ہے جبکہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثی باغیوں کا ریاض اور ابہا کے ہوائی اڈوں اور سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ
صنعاء، یمن کے انصار اللہ تحرک (جسے حوثی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) نے سعودی عرب کے ریاض اور جنوبی شہر ابہا کے ہوائی اڈے کے ساتھ ساتھ جدہ میں سعودی آرامکو کی سرکاری تیل اور گیس کمپنی کی تیل ریفائنری پر حملہ کیا ہے۔ حوثی ملٹری ترجمان یحییٰ سریع نے پیر کے روز یہ معلومات فراہم کیں۔
سریع نے ایک بیان میں کہا، “یمنی افواج نے بڑی تعداد میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے تین اہم فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ ان میں سے پہلی کارروائی ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنا کر کی گئی… دوسری کارروائی رابغ میں آرامکو ریفائنری کو نشانہ بنا کر کی گئی… تیسری کارروائی میں ابہا ایئرپورٹ، خمیس مشیط ایئر بیس، عسیر میں عقیفہ کیمپ اور نجران و جازان میں دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔”
سریع نے مزید کہا کہ حوثیوں نے مکہ اور مدینہ کے اوپر کی فضائی حدود کو چھوڑ کر سعودی عرب کی تمام فضائی حدود کو فوجی کارروائی کے لیے ایک زون قرار دے دیا ہے۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
دنیا
یمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
صنعا، یمنی فوج نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے خلاف جاری بڑے فوجی حملے کے دوران اہم بحری گزرگاہ باب المندب کے قریب ذباب علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یمنی فوجی حکام اور علاقائی ذرائع نے یہ اطلاع دی۔
یمن کے صدر اور صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے اتوار کو ’’ڈان آف یمن‘‘ کے نام سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد حوثیوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا اور ریاستی اداروں کی بحالی ہے۔
صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد ریاستی اداروں کو بحال کرنا، صنعا کو آزاد کرانا اور بغاوت کا خاتمہ کرنا ہے۔
العلیمی نے پیر کو کہا، ’’اپنی قوم کی قوت ارادی، اپنی فوج کی بہادری اور اپنے بھائیوں کی حمایت سے یمن ایک نئی صبح کی جانب بڑھے گا۔‘‘سرکاری فوج ذباب کی جانب کہبُوب کے پہاڑی علاقے سے فوجی نقل و حرکت کے ذریعے پیش قدمی کر رہی ہے۔
سرکاری فوجی دستے مغربی ساحل کے ساتھ شمال کی جانب المخا کی طرف بھی پیش قدمی کر رہے ہیں، جبکہ اطلاعات کے مطابق باب المندب اور میون جزیرے کے اطراف حوثی فورسز پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ تازہ حملے ملک کی سیاسی قیادت کی ہدایات پر کیے گئے۔
الجزیرہ کے مطابق یمنی مسلح افواج نے حوثیوں کے قبضے سے ریاستی اداروں کو واپس لینے اور ان کی بغاوت ختم کرنے کے لیے ’’آزادی کی جنگ‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
النزیلی نے کہا، ’’ہماری مسلح افواج منظور شدہ منصوبوں کے مطابق مختلف جنگی محوروں اور محاذوں پر اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری مسلح افواج نے صعدہ، الجوف اور تعز میں حوثی ملیشیا کے بنیادی ڈھانچے کے 1,122 اہداف کو نشانہ بنایا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’میدانی اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں ملیشیا کے 1,747 عناصر کو غیر مؤثر بنایا گیا جبکہ 364 فوجی گاڑیوں، سازوسامان اور رسد کی نقل و حمل کے یونٹس کو تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا۔‘‘
اس فوجی حملے کے باعث تعز میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تعز ایک اہم صوبہ ہے جو یمن کے حوثیوں کے زیر قبضہ شمالی علاقوں کو جنوب میں حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے ملاتا ہے۔
اس خطے میں بندرگاہی شہر المخا بھی واقع ہے اور یہ باب المندب کے قریب ہے، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
العلیمی نے اتوار کو فوجی مہم کا اعلان کرتے ہوئے اسے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی حکومتی کوششوں کا نیا مرحلہ قرار دیا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
تہران، ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد سرکاری ملکیت والی نیشنل ایرانی آئل کمپنی (این آئی او سی) کے چیف ایگزیکٹو حمید بورد کو قائم مقام وزیر تیل مقرر کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ تہران کی پٹرولیم برآمدات پر سخت بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاک نژاد کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے این آئی او سی کے سربراہ حمید بورد کو قائم مقام وزیر تیل مقرر کیا ہے۔ سرکاری میڈیا ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے نشر کیے گئے ایک بیان میں یہ اطلاع دی گئی۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان کا ایک انٹرویو نشر کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ پاک نژاد نے اس سے قبل ’’ذاتی مسائل‘‘ کی وجہ سے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی، تاہم ان کی ابتدائی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
صدر پزشکیان نے وزیر تیل سے عہدے پر برقرار رہنے کی اپیل کی تھی، تاہم پاک نژاد کے اپنے فیصلے پر قائم رہنے کے بعد صدر نے بالآخر ان کا استعفیٰ منظور کر لیا۔ صدر نے ان کے عہدہ چھوڑنے کے بعد ’’ان کی کوششوں اور مخلصانہ خدمات کو سراہا‘‘۔
جاری مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران آبنائے ہرمز ایک اہم کشیدگی کے مرکز کے طور پر ابھری ہے۔
فروری کے اواخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے قبل اس اہم بحری گزرگاہ سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔
تہران کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر پابندیاں عائد کرنے اور ان جہازوں پر فائرنگ کیے جانے کے بعد، جن کے بارے میں ایران کا کہنا تھا کہ انہوں نے بغیر اجازت اس کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، واشنگٹن نے جوابی بحری ناکہ بندی نافذ کر دی، جس کا مقصد ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی پٹرولیم برآمدات روکنا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ مہم کے تحت ایران کے آٹو موبائل اور ریلوے شعبوں کو نشانہ بناتے ہوئے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ نئی پابندیوں کا مقصد جنگ کے لیے تہران کی مالی اعانت کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ’’حکومت کی آمدنی کے ذرائع کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے‘‘ کے لیے کام کر رہا ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ امریکی دباؤ ایران کے باقی ماندہ پٹرولیم آمدنی کے ذرائع پر بھی مرکوز ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کا مقصد تہران کو خام تیل فروخت کرنے اور غیر ملکی کرنسی تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں اور دعویٰ کیا کہ ایران نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے اپنے عزائم سے ’’تقریباً دستبرداری‘‘ اختیار کر لی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب تنازع اپنے آٹھویں ماہ میں داخل ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا7 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا7 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا7 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا6 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
-
دنیا7 days agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
