جموں و کشمیر
سرینگر ایئرپورٹ کی توسیع نے سیاحتی معیشت کو نئی امیدیں دے دیں، لوگوں میں خوشی کی لہر
سری نگر، سری نگر کے شیخ العالم بین الاقوامی ہوائی اڈے کی توسیع کے سرکاری اعلان کے بعد کشمیر کی سیاحتی اور تجارتی برادری میں خوشی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ دو برس میں جدید ٹرمینل اور عالمی معیار کی سہولیات پر مشتمل نیا ایئرپورٹ وادی کے معاشی مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
سرینگر ایئرپورٹ کو 2005 میں بین الاقوامی درجہ ملا تھا اور گزشتہ برس تک یہ پیک ٹورسٹ سیزن میں روزانہ 110 سے زیادہ پروازیں ہینڈل کر رہا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ہوائی اڈے نے 28,500 پروازوں کے ذریعے 4.47 ملین مسافروں کی آمدورفت ریکارڈ کی تھی، لیکن اپریل 2025 کے حملے کے بعد روزانہ مسافروں کی تعداد 19 ہزار سے گھٹ کر صرف 6,500 رہ گئی۔ کئی ایئر لائنز نے بھی اپنا آپریشن کم کر دیا تھا، جس سے ہوائی اڈے کی سرگرمیاں کافی متاثر ہوئیں۔ تاہم شہری ہوابازی کی وزارت نے وادی کے مرکزی ہوائی اڈے کی توسیع کے جس بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے، وہ سیاحتی صنعت اور مقامی کاروباروں کے لیے نئی امید کا سبب بن گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمینل کی موجودہ گنجائش گزشتہ چند برسوں میں آنے والے بڑھتے ہوئے رش کے مقابلے میں ناکافی ہو چکی تھی، جس کے باعث توسیع ناگزیر ہوگئی تھی۔ نئے منصوبے کے تحت 73 ایکڑ سے زائد رقبے پر ایک جدید ترین ٹرمینل بنایا جائے گا جو 71 ہزار مربع میٹر پر محیط ہوگا اور پیک سیزن میں 2,900 مسافروں کو بیک وقت سنبھال سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈے کی سالانہ مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی ساڑھے 2 ملین سے بڑھا کر 10 ملین کر دی جائے گی۔
نئی عمارت کشمیری ثقافتی رنگوں اور جدید ڈیزائن کا امتزاج ہوگی جس میں توانائی کی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شامل ہوگا۔
سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سیاحت کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ایئرپورٹ کی توسیع سے سیاحوں کی آمد میں واضح اضافہ ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ مسافر اکثر چیک اِن، سیکورٹی اور پارکنگ کی ناکافی سہولیات کی شکایت کرتے تھے۔ نیا ٹرمینل وادی کی سیاحتی ساکھ کو مضبوط کرے گا اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ چند برسوں میں سیاحت دگنی ہوسکتی ہے۔
بڑھتے ہوئے ترقیاتی تناظر میں مقامی مسافروں نے بھی اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ سرینگر سے دہلی جانے والی ایک طالبہ فاطمہ جاوید نے بتایا کہ رش کے وقت ٹرمینل میں جگہ کم پڑ جاتی ہے اور لائنیں حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی سہولیات کے بعد سفر آسان اور تیز ہو جائے گا۔ اسی طرح ایک مسافر محمد نعیم کا خیال ہے کہ یہ توسیع کشمیر کی شناخت کو نئے درجہ تک پہنچائے گی۔
اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایئرپورٹ کی توسیع صرف سیاحت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ برآمدات، تجارت اور مقامی روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ کشمیری سیب، اخروٹ، زعفران اور دستکاری کی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ تک تیزی سے پہنچ سکیں گی۔ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ وادی میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی بہتر کرے گا، جس سے مجموعی طور پر ریاستی معیشت مستحکم ہوگی۔ سرکاری اندازوں کے مطابق یہ ترقی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار میں سیاحت کے حصے کو 7 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد تک لے جا سکتی ہے، جبکہ سالانہ سیاحوں کی تعداد 2030 تک 30 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے۔
مجموعی طور پر ایئرپورٹ کی توسیع کو وادی کی ترقی کا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاحتی صنعت، مقامی کاروبار، چھوٹے دکاندار، ٹریول ایجنٹس اور مسافر سب ایک بار پھر پرامید نظر آ رہے ہیں کہ یہ منصوبہ صرف ہوائی اڈے کی وسعت نہیں بلکہ کشمیر کے معاشی مستقبل کی نئی بنیاد ثابت ہوگا۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
سری نگر، حکام نے منگل کو جموں و کشمیر کے بارہمولہ قصبے میں پارلیمنٹ حملہ کیس کے مجرم محمد افضل گورو کے رشتہ داروں کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری زمین پر تعمیر کیے گئے ڈیری فارم کے شیڈ کو منہدم کر دیا۔
حکام نے بتایا کہ بارہمولہ قصبے کے گلنار پارک کے قریب سیلابی بیسن میں واقع اس ڈھانچے کو محکمہ مال کی جانب سے تجاوزات کے خلاف چلائی گئی مہم کے دوران منہدم کیا گیا۔ کارروائی کے وقت موقع پر پولیس اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق یہ ڈھانچہ سرکاری زمین پر تعمیر کرکے اس پر قبضہ کیا گیا تھا۔
تاہم، خاندان کا دعویٰ ہے کہ انہدام سے قبل انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔
خاندان کے ایک رکن نے کہاکہ ’’حکام آئے اور دو مرلہ زمین پر پھیلے اس ڈھانچے کو منہدم کر دیا۔ انہدام کی کارروائی دوپہر کے قریب کی گئی۔‘‘
حکام نے بتایا کہ یہ شیڈ مبینہ طور پر گورو کی اہلیہ سے وابستہ تھا اور تقریباً ایک دہائی سے گائے کے باڑے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
گورو کو 2001 کے پارلیمنٹ حملہ کیس میں قصوروار قرار دیا گیا تھا اور فروری 2013 میں اسے پھانسی دی گئی تھی۔
بارہمولہ کے ایک افسر نے بتایا کہ منگل کو ضلع بارہمولہ میں غیر قانونی قبضے میں موجود کئی کنال قیمتی سرکاری زمین کو واگزار کرایا گیا۔
کروڑوں روپے مالیت کی اس زمین کو حکام کی جانب سے وہاں موجود ڈھانچوں اور غیر قانونی قبضے کو ہٹانے کے بعد دوبارہ حکومت کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔
حکام نے مبینہ تجاوزات کرنے والوں میں سے ایک کی شناخت پارلیمنٹ حملہ کیس کے مجرم محمد افضل گورو کی اہلیہ تبسم گورو کے طور پر کی ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ ضلع بھر میں تجاوزات کے خلاف مزید کارروائیاں کی جائیں گی اور سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
دریں اثنا، پی ڈی پی لیڈر زہیب یوسف میر نے تجاوزات کے خلاف مہم پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی کشمیر سے متعلق ایک ’’بیانیہ‘‘ درآمد کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اور لداخ کے برف پوش علاقوں میں مردم شماری کا عمل کامیابی سے مکمل، 5,292 بلاکس کا احاطہ: امیت
جموں، چیف پرنسپل مردم شماری افسر (سی پی سی او) اور جموں و کشمیر و لداخ کے ڈائریکٹر مردم شماری آپریشنز (ڈی سی او) امیت شرما نے منگل کو کہا کہ دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مقررہ برف پوش علاقوں میں آبادی کی گنتی کا عمل کامیابی سے مکمل ہونا مردم شماری 2027 کے لیے ایک اہم عملی سنگ میل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مہم کے تحت مجموعی طور پر 5,292 مردم شماری بلاکس (ای بی) کا احاطہ کیا گیا، جن میں 4,597 جموں و کشمیر اور 695 لداخ میں ہیں۔ اس کے لیے وسیع پیمانے پر تیاری، خصوصی میدانی انتظامات اور ضلعی انتظامیہ و خصوصی چارجز کے ساتھ قریبی تال میل ضروری تھا۔
برف پوش علاقوں میں آبادی کی گنتی سے قبل 17 سے 31 اگست 2026 تک سیلف اینیومریشن (خود شماری) کا مرحلہ مکمل کیا گیا، جس کے بعد یکم سے 30 ستمبر 2026 تک میدانی کارروائی انجام دی گئی۔
یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ لداخ میں ستمبر کی مہم کے دوران پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے کا احاطہ کیا گیا اور مجموعی طور پر 695 مردم شماری بلاکس مکمل کیے گئے، جن میں 367 لیہ اور 328 کرگل میں تھے۔ لداخ میں آبادی کی گنتی مکمل ہونے کے ساتھ ہی یہ مردم شماری 2027 کے لیے آبادی کی گنتی مکمل کرنے والا ملک کا پہلا مرکز کے زیر انتظام علاقہ بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں برف پوش علاقوں کے لیے چلائی گئی مہم کے تحت 16 اضلاع اور 95 چارجز کا احاطہ کیا گیا۔ ڈوڈہ میں سب سے زیادہ 798 مردم شماری بلاکس مکمل کیے گئے، اس کے بعد کشتواڑ میں 602، رام بن میں 418، اننت ناگ میں 377 اور بارہمولہ میں 359 بلاکس مکمل ہوئے۔
شرما نے بتایا کہ ریاسی میں 345 اور ادھم پور میں 313 مردم شماری بلاکس مکمل کیے گئے، جبکہ کشتواڑ ضلع کو مکمل طور پر برف پوش قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح کشتواڑ مردم شماری 2027 کے لیے آبادی کی گنتی مکمل کرنے والا ملک کا پہلا ضلع بھی بن گیا ہے۔
سی پی سی او شرما نے ضلعی انتظامیہ، مردم شماری عملے، خصوصی چارجز، شمار کنندگان اور سپروائزرز کی مشترکہ کوششوں اور مقامی باشندوں کی جانب سے فراہم کیے گئے تعاون کی ستائش کی۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے کہا، الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا بلاک کی مہم جاری رہے گی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ انتخابی فہرستوں سے مبینہ طور پر نام حذف کیے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کے انڈیا بلاک کی مہم جاری رہے گی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے اکتوبر کے لیے پروگراموں کا کیلنڈر طے کیا ہے، جس کے تحت اپوزیشن اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کرنا تھا۔
یہ مارچ انتخابی فہرستوں کی جاری نظرثانی اور ووٹروں کے نام مبینہ طور پر حذف کیے جانے کے معاملے پر تشویش ظاہر کرنے کے لیے منعقد کیا گیا۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’چند روز قبل دہلی میں انڈیا بلاک کے رہنماؤں کی میٹنگ ہوئی تھی۔ اس ماہ کے لیے ایک کیلنڈر طے کیا گیا تھا۔ اس کے تحت انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرنا تھا۔ یہ عمل جاری رہے گا، جیسا کہ میڈیا نے بھی ثابت کیا ہے۔ ہم بار بار یہ بات کہتے رہے ہیں، لیکن کچھ لوگوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ اب میڈیا نے بھی اس بارے میں کہنا شروع کر دیا ہے۔‘‘
ووٹرفہرستوں کی نظرثانی سے متعلق قانونی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے عمر نے کہا کہ سپریم کورٹ بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’سپریم کورٹ بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور حکومت ہند سے جواب بھی طلب کیا ہے۔ ہم عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔‘‘
سپریم کورٹ نے پیر کو خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کی مشق اور ووٹر رجسٹریشن سے متعلق تبدیلیوں کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر الیکشن کمیشن اور اس کے عہدیداروں سے جواب طلب کیا تھا۔
یواین آئی۔ط ا
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا1 week agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا6 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا1 week agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
