دنیا
آبنائے ہرمز بند ہونے سے ایران کو روزانہ 50 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ اس کی بندش سے انہیں روزانہ 50 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا، “وہ (ایران) اسے کھلا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ یومیہ 50 کروڑ امریکی ڈالر کما سکیں۔” مسٹر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کہہ رہا ہے کہ وہ اسے بند کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ ‘اپنی ساکھ بچانا’ چاہتے ہیں، جب کہ امریکہ نے اس کی مکمل طور پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چار روز قبل کچھ لوگوں نے ان سے رابطہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ ایران اس آبنائے کو فوری طور پر کھولنا چاہتا ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے وارننگ دیتے ہوئے کہا، ’’لیکن اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ایران کے ساتھ کبھی کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا، جب تک کہ ہم ان کا بقیہ ملک اور ان کے لیڈروں کو بھی اڑا کر نہ رکھ دیں۔”
ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں اور امریکی میڈیا، خاص طور پر وال سٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ کو ’نیچا دکھانے‘ یا اس کی تنقید کرنے کی اجازت کبھی نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن نے جوہری مقامات کو اس حد تک مکمل تباہ کر دیا ہے کہ ’خون کے پیاسے ایران‘ ان تک پہنچنے یا کھود کر نکالنے سے قاصر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی خلائی فورس کے پاس پچھلے جون میں حملہ کیے گئے تینوں مقامات کے ہر انچ پر کیمرے کی نگرانی ہے۔
‘آپریشن مڈ نائٹ ہیمر’ 22 جون 2025 کو ایران کی اہم جوہری تنصیبات کے خلاف امریکی فوجی حملوں کا خفیہ نام ہے۔
ان حملوں کا بنیادی مرکز تین بنیادی جوہری انفراسٹرکچر سائٹس فورڈو یورینیم افزودگی پلانٹ، نتنز جوہری تنصیب اور اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر تھے۔
اس آپریشن میں امریکی فضائی اور بحری طاقت کا زبردست مظاہرہ پیش کیا گیا، جس میں 7 بی-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار شامل تھے، جنہوں نے براہ راست امریکہ سے 18 گھنٹے کا مشن چلایا۔ اس میں پہلی مرتبہ جنگ میں استعمال کیے گئے 30 ہزار پاؤنڈ کے ’بنکر بسٹر‘ بم، ایک امریکہ آبدوز سے داغے گئے 30 ٹومہوک میزائل اور ایرانی فضائی دفاع ہو تباہ کرنے کے لیے ایف-35 اور ایف-22 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں سمیت 125 سے زیادہ طیارے شامل تھے۔
امریکی حکام اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق، ان سائٹس کو “انتہائی شدید نقصان” پہنچا۔ پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو تقریباً دو سال پیچھے کر دیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا اتحاد رائے شماری میں آگے، مگر اکثریت سے بدستور دور
یروشلم، اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایک تازہ رائے شماری میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والا اتحاد سبقت میں دکھائی دیا ہے، تاہم نہ اسے اور نہ ہی اپوزیشن کو 120 رکنی کنیسٹ میں واضح اکثریت ملنے کا امکان ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی ذیلی ویب سائٹ ’زمان اسرائیل‘ کی جانب سے کرائی گئی رائے شماری کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اپوزیشن لیڈر گادی آئزن کوٹ کی ’یشار‘ پارٹی کو 21، 21 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
رائے شماری میں نیتن یاہو کی حامی جماعتوں کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ چار یہودی اپوزیشن جماعتیں 49 نشستیں حاصل کرسکتی ہیں۔ دونوں دھڑے حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں سے دور ہیں۔
نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والی عرب قیادت والی جماعتوں کو 13 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ یواز ہینڈل اور یارون زیلیخا کی قیادت والے غیر وابستہ دھڑے کو پانچ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
تازہ نتائج گزشتہ چند ہفتوں میں سامنے آنے والی ان متعدد رائے شماریوں کے بعد آئے ہیں جن میں کئی ماہ تک اپوزیشن سے پیچھے رہنے کے بعد نیتن یاہو کے اتحاد کی حمایت میں اضافہ دکھایا گیا تھا۔ سابقہ سروے میں ’یشار‘ کو لیکوڈ سے کئی نشستوں کی برتری حاصل تھی۔
دیگر جماعتوں میں اپوزیشن کی ’بیاخاد‘ اور ’یسرائیل بیتینو‘ کو 10، 10 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سیفرادی انتہائی قدامت پسند شاس کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔
بائیں بازو کی ’ڈیموکریٹس‘، عرب قیادت والی ’جوائنٹ لسٹ‘ اور اشکنازی انتہائی قدامت پسند ’یونائیٹڈ تورات یہودیت‘ کو آٹھ، آٹھ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
انتہائی دائیں بازو کی ’اوتزما یہودیت‘ کو چھ، جبکہ ’ریلیجس صہیونزم-زیہوت‘ اور عرب قیادت والی ’راعام‘ کو پانچ، پانچ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ ہینڈل-زیلیخا دھڑے کو بھی پانچ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اوفر ونٹر کی قیادت والی نیتن یاہو حامی ’پیپلز آف اسرائیل‘ پارٹی کو چار نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رائے شماری میں ووٹروں کے درمیان انتخابات کے نتائج کے حوالے سے وسیع تشویش بھی سامنے آئی۔ نیتن یاہو کے مخالفین میں 88 فیصد نے انتخابی نتائج پر تشویش ظاہر کی، جبکہ ان کے حامیوں میں تقریباً 70 فیصد نے ایسی تشویش کا اظہار کیا۔ مجموعی طور پر 80 فیصد سے زیادہ جواب دہندگان نے نتائج کے بارے میں فکرمندی ظاہر کی۔
یہ سروے 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کو یوسی تاتیکا کی ’تاتیکا ریسرچ اینڈ میڈیا‘ نے ’ایجنڈا پینل‘ کے تعاون سے کیا۔ اس میں 500 افراد نے حصہ لیا اور اس میں غلطی کا امکان ±4.4 فیصد بتایا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت، تقریباً 400 اسکول بند، پولیس سے جھڑپیں
پیرس، فرانس میں عملے کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور اسکولوں کی خراب حالت کے خلاف ہائی اسکول طلبہ کا ملک گیر احتجاج جمعہ کو مزید شدت اختیار کر گیا۔ اس دوران تقریباً 400 اسکول بند رہے اور کئی شہروں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 3,000 لائسِی طلبہ کو پولیس حراست میں لیا جا چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق صرف جمعرات کو 1,949 طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔
گزشتہ ہفتے پیرس کے علاقے سے شروع ہونے والا یہ احتجاج اب ملک بھر میں پھیل گیا ہے اور اس میں تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فرانس 24 کے مطابق وزیر تعلیم ایڈوارڈ گفری نے کہا کہ فرانس کے 3,700 ہائی اسکولوں میں سے تقریباً 400 جمعہ کو بند رہنے کی توقع ہے، جبکہ تقریباً 100 اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پیرس میں دو ہائی اسکولوں کے داخلی راستوں کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا، جبکہ بریسٹ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
اسٹراسبرگ، مارسی، نانٹ اور دیگر شہروں میں بھی پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
وزیر انصاف ژیرالڈ دارماناں نے پراسیکیوٹرز پر زور دیا ہے کہ مبینہ طور پر طلبہ کی جانب سے کیے گئے نقصانات کے سلسلے میں ان کے والدین کے خلاف دیوانی ذمہ داری کے دعوے دائر کیے جائیں۔
وزیر تعلیم گفری نے بتایا کہ کم از کم 65 ملازمین، جن میں 40 ہائی اسکولوں کے پرنسپل بھی شامل ہیں، زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 170 طلبہ بھی زخمی ہوئے۔ انہوں نے تشدد کو ’’انتہائی پرتشدد عناصر‘‘ کی جانب سے طلبہ تحریک پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔
طلبہ نے اسکولوں میں طویل اوقاتِ کار، گنجائش سے زیادہ کلاسیں، اساتذہ کی کمی، عملے کی غیر حاضری اور ناکافی سہولیات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان میں ہیٹ ویو کے دوران کلاس رومز کا حد سے زیادہ گرم ہو جانا بھی شامل ہے۔
طلبہ نے اسکولوں کی بندش کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے اور پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
فرانس کے 2027 کے صدارتی انتخابات سے قبل احتجاج نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ حکومت نے بائیں بازو کی جماعت ’’فرانس اَن بووڈ‘‘ (ایل ایف آئی) پر طلبہ تحریک کی حوصلہ افزائی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایل ایف آئی کے رہنما مینوئل بومپار نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ’’سازشی نظریات کی طرف جا رہی ہے‘‘۔
وزیر تعلیم گفری جمعہ کو تعلیمی شعبے کی یونینوں اور ہائی اسکول طلبہ کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ بات چیت کا آغاز کیا جا سکے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
پوتن کا عالمی عدم استحکام طویل ہونے کا انتباہ، کثیر قطبی عالمی نظام پر زور
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بین الاقوامی قوانین کے کمزور ہونے، ادارہ جاتی بحران اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث ’’انتہائی غیر مستحکم اور مسلسل تبدیل ہوتے‘‘ دور میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے ایک زیادہ مستحکم کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام پر زور دیا۔
والڈائی ڈسکشن کلب کے 23ویں سالانہ اجلاس کے مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ دنیا ’’فیصلہ کن موڑ‘‘ پر پہنچ چکی ہے، جہاں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، طب، عسکری سائنس، آبادیاتی تبدیلیوں اور عالمی معیشت میں تیز رفتار پیش رفت معاشروں اور بین الاقوامی تعلقات کو نئی شکل دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’دنیا اپنی ترقی میں ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے‘‘ اور انسانیت ’’بالکل نئی اور بے مثال حقیقت‘‘ میں داخل ہو رہی ہے، جہاں خطرات اور مواقع ایک دوسرے سے تیزی سے جڑتے جا رہے ہیں۔
پوتن نے کہا کہ جاری تبدیلیوں کا پیمانہ بہت وسیع ہے اور ٹیکنالوجی کی ترقی انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ایسے نئے خطرات بھی پیدا کر رہی ہے جو پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ٹیکنالوجی لفظی طور پر انسانی عمر میں اضافے اور معیار زندگی بہتر بنانے کے شاندار امکانات پیدا کر رہی
ہے، تاہم یہ پوری انسانیت کی تباہی کے امکانات کو بھی ایک نئی سطح تک لے جا رہی ہے۔‘‘
روسی صدر کے مطابق یہ گہری تبدیلیاں ممالک کے اندر سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ کر رہی ہیں کیونکہ روایتی سیاسی نظام بدلتے ہوئے معاشروں اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورت حال کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اس کے ایک نتیجے میں کئی ممالک میں داخلی سیاسی ’بخار‘ بھی شامل ہے، خاص طور پر اس لیے کہ روایتی جماعتی نظام تیزی سے تبدیل ہونے والے سماجی ڈھانچوں کی عکاسی کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے خبردار کیا کہ حکومتیں داخلی عدم استحکام کے جواب میں اپنی سرحدوں سے باہر اقدامات کر سکتی ہیں، جس سے بین الاقوامی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
پوتن نے کہا، ’’دوسرے لفظوں میں، وہ بدقسمتی سے عدم استحکام کو برآمد کر سکتی ہیں، جس سے کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔‘‘
روسی صدر نے کہا کہ بڑی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں کے باعث ممالک اپنے تزویراتی مفادات کے حصول کے لیے زیادہ خطرات مول لے سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی تنازعات جاری رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا، ’’کاش میں اس تجزیے میں غلط ثابت ہوں، لیکن بدقسمتی سے جن مستقل رجحانات کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں، وہ اس کے برعکس اشارہ دیتے ہیں۔‘‘
تاہم پوتن نے اعتماد ظاہر کیا کہ دنیا بالآخر ان کے بقول مغربی بالادستی سے دور ہو کر کثیر قطبی بین الاقوامی نظام کی طرف بڑھے گی۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں یقین ہے کہ طویل مدت میں دنیا جیسے جیسے مغربی بالادستی سے دور ہوگی، بین الاقوامی صورت حال بتدریج بہتر ہوگی اور ایک زیادہ مستحکم، جمہوری اور آزاد کثیر قطبی عالمی نظام وجود میں آئے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس منتقلی میں اگرچہ بڑے خطرات موجود ہوں گے، تاہم پالیسی سازوں کی فوری ترجیح ان خطرات کو کم سے کم کرنا ہونی چاہیے۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoامریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
