ہندوستان
ٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بھی ٹرمپ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے ایکس پر لکھا، ’’صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ بالکل درست ہیں!ہندوستان کے گزشتہ انتخابات میں 646 ملین ووٹرز تھے اور ہر ایک کے لیے شناختی دستاویز لازمی تھی۔
کانگریس کو سیو امریکہ ایکٹ منظور کرنا چاہیے۔‘‘مجوزہ قانون میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے لیے مزید سخت ضوابط، ووٹرز کی اہلیت کی مضبوط جانچ اور انتخابی فہرستوں سے نااہل افراد کی شناخت کرکے انہیں خارج کرنے کے لیے اختیارات میں توسیع بھی شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کی ضرورت غیر شہریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے اور انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ بارہا ہندوستان اور برازیل کو ایسے ممالک کی مثال کے طور پر پیش کر چکی ہے جہاں ووٹر شناخت کو بایومیٹرک نظام سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں امریکہ میں شہریت کے خود اقراری نظام پر زیادہ انحصار کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
مارچ 2025 میں ٹرمپ کے دستخط کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر میں بھی ہندوستان اور برازیل کو ایسے ممالک کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا تھا جہاں ووٹر شناخت بایومیٹرک نظام سے منسلک ہے۔ حکم نامے میں امریکی انتخابات کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات، بشمول ووٹر کے ذریعے قابل تصدیق کاغذی ریکارڈ اور ڈاک و غیرحاضری کے بیلٹ کی مزید سخت جانچ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ٹرمپ یہ مؤقف بھی بارہا اختیار کر چکے ہیں کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے دھوکہ دہی اور غلطیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انتظامیہ نے ووٹر شناخت اور شہریت کے ثبوت کی لازمی شرط کے لیے حمایت بڑھانے کی غرض سے ان رائے عامہ کے جائزوں کا بھی حوالہ دیا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں عوام کی بڑی تعداد ان تقاضوں کی حمایت کرتی ہے۔
ٹرمپ نے مارچ 2026 میں ایک اور ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت وفاقی انتخابات کے لیے شہریت کی تصدیق کو مضبوط بنانے اور ڈاک و غیرحاضری کے بیلٹ سے متعلق طریقہ کار کو مزید سخت کرنے کی ہدایت دی گئی۔
سیو ایکٹ کیپٹل ہل پر بدستور سیاسی تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ ڈیموکریٹس اس کی متعدد شقوں کی سخت مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکنز کے درمیان بھی بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ سینیٹ نے اس ماہ کے آغاز میں قانون پر فیصلہ کن کارروائی کیے بغیر پانچ ہفتوں کی تعطیلات شروع کر دی تھیں۔
اس کے باوجود ٹرمپ نے اس بل کو اپنے انتخابی سالمیت کے ایجنڈے کا اہم حصہ بنائے رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات کے تحفظ کے لیے ووٹر کی لازمی شناخت اور شہریت کی تصدیق ضروری ہے۔
ہندوستان کے بڑے پیمانے پر انتخابی عمل اور ووٹر شناخت کی لازمی شرائط کا حوالہ دے کر ٹرمپ امریکہ کے انتخابی قوانین میں تبدیلی کی اپنی مہم میں ہندوستانی نظام کو ایک اہم مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
زیادہ سخت پابندیوں کے حامی طویل عرصے سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی شفافیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ کمیشن آن فیڈرل الیکشن نے خبردار کیا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے دھوکہ دہی اور متنازع انتخابات کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، تاہم کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ غیرحاضری کے بیلٹ میں ووٹوں کی خرید و فروخت کی اسکیموں کا پتہ لگانے میں خاص مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
2012 میں نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیق میں بھی ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے بیلٹ سے متعلق خدشات کا جائزہ لیا گیا تھا، جن میں یہ امکان بھی شامل تھا کہ ذاتی طور پر ڈالے گئے ووٹوں کے مقابلے میں ایسے بیلٹ کو چیلنج یا متاثر کیے جانے کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
حال ہی میں ہاوس ری پبلکن پالیسی کمیٹی نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے غلطیوں اور دھوکہ دہی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں ووٹر فہرستوں کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں کیا جاتا اور اس سے انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
