دنیا
امریکی سینیٹر کا بیان، ہرمز میں مکمل بحری ناکہ بندی کا منصوبہ، چین کو بھی وارننگ
واشنگٹن، امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحری ناکہ بندی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ایران کو امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔فاکس نیوز کے پروگرام “فاکس اینڈ فرینڈز” میں گفتگو کرتے ہوئے ٹام کاٹن نے کہا کہ یہ ناکہ بندی پیر کی صبح 10 بجے سے شروع کی جا سکتی ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کو فضائی دفاعی نظام یا کندھے پر چلنے والے میزائل فراہم کیے تو اسے 50 فیصد کسٹم ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹام کاٹن نے کہا کہ وہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کی بحالی میں چین کے کردار کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے، تاہم امریکہ اس طرح کے اقدامات کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ چین اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ اسی خطے سے حاصل کرتا ہے، اس لیے اگر وہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا تو ناکہ بندی اس پر بھی اثر انداز ہوگی۔
سینیٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ تمام بحری جہازوں پر ناکہ بندی نافذ کرے گا، یعنی یا تو تمام جہاز باہر نکلیں گے یا کوئی بھی اندر داخل نہیں ہو سکے گا، اور امریکی فوج اس حکمت عملی کو نافذ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو ایران پر فوجی اور معاشی دوہرا دباؤ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی فوج اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی مالی معاونت کیلئے آبنائے ہرمز پر انحصار کرتا ہے، اور ناکہ بندی اس کی آمدنی کے اہم ذریعے کو متاثر کرے گی۔
جنگ بندی کے حوالے سے ٹام کاٹن نیواین آئی۔ م س ے کہا کہ یہ ابھی برقرار ہے، تاہم دباؤ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک تہران امریکی شرائط تسلیم نہیں کرتا، جن میں جوہری مواد کی حوالگی، جوہری ڈھانچے کی بندش اور دہشت گردی کی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس اب بھی تقریباً ایک ہزار بیلسٹک میزائل اور سو کے قریب لانچنگ پیڈ موجود ہیں، تاہم امریکی فوجی کارروائیاں منصوبہ بندی کے مطابق یا اس سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ حقیقی پیش رفت اسی وقت ممکن ہے جب ایران مزید دباؤ محسوس کرے اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
ماسکو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نجی طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کو جوہری معاہدے کے بغیر بھی ختم کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ کئی ہفتوں سے اس بات کی راہ ہموار کر رہے ہیں کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیتا ہے تو ایران کے ساتھ جنگ میں فتح کا اعلان کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ مشیروں کے سامنے نجی طور پر یہ بھی کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے بغیر بھی کسی سمجھوتے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔
امریکی ایوانِ صدر کے ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ایران کے حوالے سے امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ کی اب توجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانے پر ہے۔ اگر ایران بحری جہازوں پر حملے جاری رکھتا ہے تو صدر کے پاس فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار برقرار رہے گا۔
امریکی حکام نے مزید بتایا کہ صدر نے اپنے اعلیٰ مشیروں سے نجی گفتگو میں کہا ہے کہ ان کے اقتدار میں رہتے ہوئے ایران کے دوبارہ جوہری سرگرمیاں شروع کرنے کا امکان کم ہے، کیونکہ امریکہ 2025 تک ایران کی 3 اہم جوہری تنصیبات کو تباہ کر چکا تھا۔ حالیہ ملاقاتوں میں ٹرمپ نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران پر امریکی حملوں کا خطرہ ایک قابلِ اعتماد بازدار قوت کے طور پر کام کرے گا۔
حکام کے مطابق اگر امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ٹرمپ موجودہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے پر زیادہ آمادہ ہوں گے۔ توقع ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیتا ہے تو امریکی صدر ایرانی بندرگاہوں پر عائد فوجی ناکہ بندی بھی ختم کر دیں گے۔
امریکی صدر نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملے اس لیے روک دیے ہیں کیونکہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس معاہدے کی ابتدائی شرائط میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سمجھوتے شامل ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مقررہ بحری راستے کی جغرافیائی تفصیلات پر اتفاق کر لیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ
تہران، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت میں واقع احمد الجابر امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملہ کرکے اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جسے حالیہ امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی فوج کے مطابق کویت میں واقع احمد الجابر فضائی اڈہ خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور عسکری کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے حملے کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ تاہم اس دعوے پر امریکہ یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ م س
