جموں و کشمیر
لداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ: آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں اس سال سیاحوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سال 2026 کے پہلے 8 ماہ (جنوری سے اگست) میں ہی 4.05 لاکھ سے زیادہ سیاح لداخ پہنچ چکے ہیں۔ ان 8 ماہ کے اعداد و شمار نے سال 2025 کے پورے سال کے مجموعی سیاحتی اعداد و شمار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ کے ذریعے شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، جنوری اور اگست 2026 کے درمیان 4.05 لاکھ سیاح پہنچے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ تعداد 2.69 لاکھ تھی۔ یہ سالانہ بنیاد پر 50.37 فیصد کا اضافہ ہے۔ سال 2025 میں مجموعی سیاحوں کی آمد صرف 3.35 لاکھ تھی۔
علاقے میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد و رفت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس سال جنوری سے اگست کے درمیان لداخ میں 33,346 غیر ملکی سیاح آئے، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں یہ تعداد 25,082 تھی۔
صرف اگست کے مہینے میں 2026 میں 74,753 سیاحوں نے لداخ کا دورہ کیا، جو گزشتہ سال اگست کے مہینے میں آنے والے 45,201 سیاحوں کے مقابلے میں 65.38 فیصد زیادہ ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر سکسینہ نے اس اضافے کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کے ملکی سیاحت کو فروغ دینے کے نظریے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر مرکزی حکومت کی مسلسل توجہ اور لداخ کی سیاحت دوست پالیسی کے خاکے کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس علاقے میں پائیدار، ذمہ دار اور پورے سال جاری رہنے والی سیاحتی معیشت قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیاحتی موسم سے باہر ہونے والی تقریبات اور پروگراموں کو فروغ دے کر مقامی نوجوانوں، کاریگروں اور ہوم اسٹے چلانے والوں کے لیے روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں، تاکہ سیاحوں کو پرسکون اور سستا تجربہ حاصل ہو سکے۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
بڈگام میں رشوت لیتے پٹواری کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا
سری نگر، جموں و کشمیر میں انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے جمعہ کو بڈگام ضلع میں ایک پٹواری کو محصولاتی ریکارڈ کی تفصیل ’فرد‘ جاری کرنے کے بدلے شکایت کنندہ سے 10 ہزار روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔
ملزم کی شناخت بشیر احمد ڈار کے طور پر ہوئی ہے، جو تحصیل خانصاحب کے واٹر ہیل علاقے میں حلقہ گنڈ علی نائک کا پٹواری ہے۔
اے سی بی ذرائع کے مطابق ایک تحریری شکایت موصول ہوئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ پٹواری نے ’فرد‘ جاری کرنے کے لیے شکایت کنندہ سے رشوت طلب کی تھی۔ شکایت کنندہ نے اپنے دادا کی جانب سے 21 جولائی، 2026 کو محصولاتی دستاویز کے لیے آن لائن درخواست دی تھی۔ اس کے بعد درخواست کی صورتحال جاننے کے لیے پٹواری سے رابطہ کیا۔
الزام ہے کہ ملزم نے محکمہ محصولات کے آن لائن پورٹل میں تکنیکی خرابی کا حوالہ دیا اور بعد میں مختلف بہانے بنا کر معاملے میں تاخیر کرتا رہا۔ ذرائع نے بتایا کہ پٹواری نے ابتدا میں 12000 روپے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر بات چیت کے بعد معاملہ 10000 روپے میں طے ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ جانچ میں الزام پہلی نظر میں درست پایا گیا۔ اس کے بعد بیورو نے اے سی بی پولیس اسٹیشن سری نگر میں بدعنوانی کی روک تھام کے قانون، 1988 کی دفعہ 7 کے تحت ایف آئی آر درج کی اور جانچ شروع کی۔ ایک جال بچھانے والی ٹیم تشکیل دی گئی، جس کے بعد ملزم کو شکایت کنندہ سے 10 ہزار روپے کی رشوت مانگتے اور لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔
آزاد گواہوں کی موجودگی میں اس کے پاس سے رشوت کی رقم برآمد کی گئی اور ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کولگام میں پولیس نے پانچ سال سے گرفتاری سے بچنے والے مفرور کو گرفتار کرلیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے کولگام ضلع میں پولیس نے جمعہ کو ایک ایسے مفرور شخص کو گرفتار کرلیا جو گزشتہ پانچ برس سے گرفتاری سے بچ رہا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ کولگام کے اوکے علاقے کے رہنے والے محمد اسحاق شیخ کو پولیس اسٹیشن کولگام میں درج کیس ایف آئی آر نمبر 152/2021، این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/15 اور 29 کے تحت مطلوب تھا۔
پولیس کے مطابق مخصوص اطلاع ملنے کے بعد مفرور شخص کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس نے کہاکہ ’’مخصوص اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن کولگام کی ایک ٹیم نے سخت کوششوں کے بعد مذکورہ مفرور کو کولگام سے گرفتار کرلیا۔ تمام قانونی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد ملزم کو سیشن کورٹ کولگام میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے سینٹرل جیل کوٹ بلوال، جموں بھیج دیا گیا ہے۔‘‘
پولیس نے کہا کہ وہ تمام مفرور افراد اور جرائم میں ملوث لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ کوئی بھی قانون سے بچ نہ سکے۔
یواین آئی۔ طا
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس (این سی) کے ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق کے کشمیر کے لوگوں کی غربت سے متعلق بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنما کے بیان میں تاریخی اعتبار سے کوئی غلطی نہیں ہے اور انہیں نہ معافی مانگنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت دینے کی۔
تنویر صادق نے 8 ستمبر کو نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک وقت کشمیر کے لوگ اتنے غریب تھے کہ ’’پورا محلہ ایک ہی پاجامہ (پتلون) بانٹ کر پہنتا تھا۔‘‘
اس بیان پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تنقید کی تھی۔ دونوں جماعتوں نے نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کیا کہ وہ شیخ عبداللہ اور لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے میں ان کے کردار کو نمایاں کرنے کے لیے کشمیریوں کو انتہائی غریب کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
تنویر صادق کا دفاع کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ غربت کا حوالہ تاریخی بیانات اور ریکارڈ پر مبنی تھا اور این سی کے ترجمان نے اسے خود سے ایجاد نہیں کیا تھا۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں صحافیوں سے کہاکہ ’’تنویر نے ایسی کون سی بات کہی جو تاریخی طور پر درست نہیں ہے؟ والٹر لارنس نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے۔ بہت سے دیگر مورخین نے بھی جموں و کشمیر اور خاص طور پر کشمیریوں کی غربت کے بارے میں لکھا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے تاریخی طور پر زائل داروں، چک داروں اور زمینداروں پر مشتمل نظام کے تحت مشکلات برداشت کیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کے پاس مناسب مالی وسائل نہیں تھے۔
انہوں نے کہاکہ ’’لوگوں کے پاس پیسہ نہیں تھا۔ اور تنویر نے یہ بات پہلی مرتبہ نہیں کہی۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ این سی کے سینئر رہنماؤں، بشمول پارٹی صدر اور جنرل سکریٹری، نے بھی ماضی میں کشمیر میں موجود انتہائی غربت کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنویر صادق کے بیان کا مقصد کشمیر میں آنے والی تبدیلی کو اجاگر کرنا تھا، جہاں اب خاندان اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکتے ہیں اور انہیں ڈاکٹر اور انجینئر بنتے دیکھ سکتے ہیں۔
عمر نے کہاکہ ’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے،‘‘ اور مزید کہا کہ تنویر صادق نے کچھ غلط نہیں کہا۔
عمر عبداللہ نے اس تنازع پر بی جے پی اور پی ڈی پی پر سیاسی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’تو بی جے پی اور پی ڈی پی مل کر میچ کھیل رہے ہیں۔ آپ دیکھیں، ان کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ ان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے تنویر صادق یا نیشنل کانفرنس کی جانب سے معافی یا وضاحت پیش کرنے کے امکان کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ’’تنویر کو اس معاملے پر معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
بی جے پی نے بدھ کو تنویر صادق کے بیان کے خلاف کشمیر کے کئی مقامات پر احتجاج بھی کیا تھا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر7 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان7 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی
-
دنیا1 week agoتہران کی گوتریس کے بیان پر تنقید، سپر پاورز کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا الزام
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
کھیل1 week agoورلڈ کپ کے حوالے سے شکوک و شبہات کے درمیان بی سی سی آئی نے روہت شرما کی حمایت کی
