دنیا
بنگلہ دیش میں خسرہ سے اموات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی، متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ
ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں جاری خسرہ کی وبا اور خسرہ جیسی علامات والی بیماریوں سے ہونے والی سرکاری اموات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید تین افراد کی موت کے بعد مجموعی تعداد 1002 ہوگئی ہے۔
مجموعی اموات میں خسرہ سے ہونے والی 100 لیبارٹری سے تصدیق شدہ اموات اور خسرہ جیسی علامات والے مریضوں میں ہونے والی 902 اموات شامل ہیں۔
ڈی جی ایچ ایس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خسرہ یا خسرہ جیسی بیماری کے 1188 نئے کیسز سامنے آئے، جس کے بعد 15 مارچ سے اب تک رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد تقریباً ایک لاکھ 87 ہزار ہوگئی ہے۔
اسی عرصے کے دوران مجموعی طور پر 1034 مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا، جس کے بعد اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 47 ہزار 393 ہوگئی ہے۔ ان میں سے ایک لاکھ 41 ہزار 819 مریضوں کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کیا جاچکا ہے، جبکہ بدھ کی صبح تک 5574 مریض اسپتالوں میں زیر علاج تھے۔
بنگلہ دیش کو مارچ سے خسرہ کی ایک غیر معمولی وبا کا سامنا ہے۔ وبا پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے اپریل اور مئی میں ہنگامی ویکسینیشن مہم سمیت بڑے پیمانے پر اقدامات کے باوجود انفیکشن میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس سے ملک کا طبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
صحت کے حکام نے مارچ میں خسرہ سے متعلق اموات اور انفیکشن کے اعداد و شمار باقاعدہ طور پر جمع کرنا شروع کیے تھے اور اس کے بعد سے یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ڈی جی ایچ ایس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 15 مارچ سے اب تک خسرہ کے 19,904 کیسز کی لیبارٹری کے ذریعے تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ مشتبہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ 67 ہزار 580 تک پہنچ گئی ہے۔
وبا کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے اور مجموعی متاثرین میں 82 فیصد پانچ سال سے کم عمر بچے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق نو ماہ سے کم عمر شیر خوار بچوں میں، جو معمول کے مقررہ حفاظتی ٹیکوں کے لیے ابھی کم عمر ہوتے ہیں، تقریباً 33 فیصد کیسز سامنے آئے ہیں۔
ملک گیر ویکسینیشن مہم کے باوجود یہ وبا بنگلہ دیش میں کئی دہائیوں کی مہلک ترین خسرہ وبا بن چکی ہے اور ملک کے تمام اضلاع تک پھیل چکی ہے۔
صحت کے حکام کے مطابق کیسز میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں ویکسینیشن کوریج میں مسلسل خلا، ان بچوں میں قوت مدافعت میں کمی جنہیں ویکسین کی مکمل خوراکیں نہیں مل سکیں، ویکسین لگوانے والے بچوں میں غذائی قلت اور آبادی میں بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے درکار اجتماعی قوت مدافعت کی سطح حاصل نہ ہونا شامل ہیں۔
خسرہ کھانسی اور چھینک کے ذریعے آسانی سے پھیلتا ہے اور اس انفیکشن کے علاج کے لیے کوئی مخصوص دوا موجود نہیں۔ دماغ میں سوجن اور سانس لینے میں شدید دشواری سمیت سنگین پیچیدگیاں مریض کی حالت تیزی سے بگاڑ سکتی ہیں۔
اگرچہ کم عمر بچے اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپ میں شامل ہیں، تاہم کسی بھی عمر کے افراد خسرہ کا شکار ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
ریاض/واشنگٹن، 11 ستمبر (یو این آئی) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دو مرتبہ فون کرکے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف فضائی حملے کرے، کیونکہ حوثی جنگجو اسٹریٹجک باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔ یہ بات دو امریکی عہدیداروں نے بتائی۔
تاہم، ٹرمپ نے یہ درخواست مسترد کردی اور امریکی عہدیداروں نے واضح کیا کہ واشنگٹن فی الحال حوثیوں کے خلاف براہ راست مداخلت کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا، کیونکہ اس وقت اس کی توجہ ایران پر مرکوز ہے۔
ریاض کی اپیل ایسے وقت سامنے آئی جب یمن میں حوثی فورسز کے ایک اسٹریٹجک ساحلی شہر پر قبضے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس پیش رفت سے حوثی جنگجو باب المندب آبنائے کے مزید قریب پہنچ گئے ہیں، جو عالمی تجارت اور سعودی تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے ذریعے عالمی جہاز رانی کو متاثر کرچکا ہے۔ دونوں آبی گزرگاہوں پر کنٹرول تہران کو واشنگٹن اور خلیج میں اس کے اتحادیوں کے خلاف زبردست دباؤ حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔
جمعہ کی صبح اطلاعات تھیں کہ حوثیوں نے آبنائے میں واقع ایک اہم جزیرے پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ سعودی عرب کی اہم مشرق-مغرب تیل پائپ لائن کے اوپر دھواں بھی دیکھے جانے کی اطلاع ملی، تاہم دھویں کے ماخذ کا فوری طور پر پتہ نہیں چل سکا۔
امریکہ یمن میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کے اظہار اور ریاض کے لیے اپنی حمایت مضبوط کرنے کے باوجود سعودی عرب کی ایران نواز گروپ کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی براہ راست مداخلت سے گریز کر رہا ہے۔
دو باخبر ذرائع کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعرات کو فوری رابطہ کاری کے اجلاسوں کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ تاہم سعودی سفارتخانے اور وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ محاذ آرائی جولائی میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب ریاض نے سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد اعلیٰ حوثی عہدیداروں کو لے جانے والے ایرانی طیارے کو صنعا میں اترنے سے روک دیا تھا۔
اس کے بعد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کے لیے سیاسی حمایت طلب کی تھی اور واضح کیا تھا کہ سعودی عرب کو براہ راست امریکی فوجی مدد درکار نہیں۔ ٹرمپ نے اس اقدام کی حمایت کی تھی۔
حوثیوں نے اس کے جواب میں بحیرہ احمر میں سعودی ٹینکروں پر حملے کیے، جس سے مملکت کی تیل برآمدات کے ایک اہم راستے کو خطرہ لاحق ہوگیا، اور بعد میں اپنے حملوں کا دائرہ سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک بڑھا دیا۔
سعودی عرب اور اس کے یمنی اتحادیوں نے حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کا جواب دیا۔
براہ راست امریکی فوجی کارروائی کی تازہ درخواست جولائی کے مقابلے میں سعودی پالیسی میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جب ریاض نے واشنگٹن کو بتایا تھا کہ وہ امریکی فوجی مداخلت کے بغیر حوثیوں سے نمٹ سکتا ہے۔تاہم لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ سعودی عرب نے امریکہ سے مزید حمایت طلب کی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق امریکی فوجی اور سول عہدیداروں نے حالیہ ہفتوں میں اپنے سعودی ہم منصبوں کو بتایا ہے کہ ٹرمپ کی ہدایت ہے کہ امریکی افواج ایران اور آبنائے ہرمز پر توجہ مرکوز رکھیں اور ایک اور محاذ کھولنے سے گریز کریں۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق جمعرات کو حوثی فورسز ساحلی شہر المخا کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز پسپائی اختیار کر رہی تھیں، اسی دوران محمد بن سلمان نے ٹرمپ کو فون کرکے بگڑتی ہوئی صورت حال سے آگاہ کیا۔
کئی گھنٹے بعد انہوں نے دوبارہ فون کیا اور ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں کا حکم دینے کی اپیل کی۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر درخواست مسترد کردی، تاہم ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن سعودی عرب کو حوثیوں کے ٹھکانوں سے متعلق انٹیلی جنس اور اہداف کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔
عہدیدار نے بتایا کہ تقریباً 200 امریکی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اور وہ غیر جنگی نوعیت کی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن کی ترجیح بحیرہ احمر کو کھلا رکھنا ہے، جبکہ وسیع تر تنازع سے نمٹنے کی ذمہ داری علاقائی شراکت داروں پر چھوڑ دی گئی ہے۔
عہدیدار نے کہا، ”امریکہ اپنے بنیادی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جن میں بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا شامل ہے، جبکہ ہم اپنے علاقائی شراکت داروں کو علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے اور انہیں حل کرنے میں قیادت کا کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنا رہے ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا، ”ہم علاقائی استحکام کے حوالے سے سعودی عرب اور جمہوریہ یمن کی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔“
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ نے ’اقتصادی آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت ایران سے منسلک ملیشیاؤں اور مالیاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنا لیا
واشنگٹن، امریکہ نے ایران سے منسلک کتائب حزب اللہ (کے ایچ)، لبنانی حزب اللہ اور دہشت گردی کی مالی معاونت، فوجی سازوسامان کی خریداری اور تہران کو بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے کے الزام میں متعدد افراد اور کمپنیوں کے ایک نیٹ ورک پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔
یہ کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کی ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت کی گئی ہے۔ اس میں عراق، لبنان، متحدہ عرب امارات اور ترکی میں سرگرم ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے علاقائی اتحادی گروہوں کو مالی اور رسدی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان تھامس ’’ٹومی‘‘ پگٹ نے کہا کہ کتائب حزب اللہ اور حزب اللہ مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر ’’تشدد اور تخریبی سرگرمیوں‘‘ کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے تہران کے آلہ کار کے طور پر کام کرتے ہیں، جس سے عراق، لبنان، امریکی اہلکاروں اور سفارتی تنصیبات کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی ترسیل کو خطرہ لاحق ہے۔
وزارت خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول (او ایف اے سی) نے کہا کہ تازہ اقدامات میں کتائب حزب اللہ اور حزب اللہ کی حمایت کرنے والے افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ایران سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں ایک شخص کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا، ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ ان لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو ناکام ہوتے ایرانی نظام کے ساتھ اب بھی کھڑے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’چاہے وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کریں، رقم کو غیر قانونی طریقے سے منتقل کریں یا ایران کو پابندیوں سے بچنے میں مدد دیں، ہم انہیں تلاش کریں گے، امریکی مالیاتی نظام سے الگ کریں گے اور ان نیٹ ورکس کو ختم کریں گے جو اس نظام کو قائم رکھنے میں مدد دے رہے ہیں۔‘‘
امریکہ نے کہا کہ ان اقدامات سے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور-قدس فورس (آئی آر جی سی۔ کیو ایف) کا ایران نواز ملیشیاؤں کی حمایت اور اپنی سرگرمیوں کی مالی معاونت اور پابندیوں سے بچنے کے لیے تجارتی نیٹ ورکس کے استعمال میں کردار واضح ہوتا ہے۔
او ایف اے سی نے کتائب حزب اللہ کے چار کمانڈروں اور ارکان، علی حسن فرحان اللامی، حسین احمد حسین الضحیباوی، محمد امین فاضل علی الشیخلی اور کرار محمد قاسم الحریشاوی کو گروپ کی جانب سے کام کرنے کے الزام میں ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت نامزد کیا ہے۔
واشنگٹن نے کہا کہ محکمہ خارجہ نے 2009 میں کتائب حزب اللہ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا اور اسےآئی آر جی سی۔ کیو ایف کی جانب سے تربیت، ہتھیار، مالی امداد، انٹیلی جنس اور رسدی تعاون حاصل رہا ہے۔
امریکہ نے کتائب حزب اللہ پر عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم سی ) اور اس کے انتظامی ادارے پاپولر موبلائزیشن کمیشن (پی ایم سی) میں نمایاں اثر و رسوخ رکھنے کا بھی الزام عائد کیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق کتائب حزب اللہ کے ارکان انٹیلی جنس، میزائل، اینٹی آرمر صلاحیتوں اور اسپیشل فورسز سمیت مختلف شعبوں کی نگرانی کرنے والے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
جاری ۔ ع ا۔
دنیا
اگر ریپبلیکنز کو ووٹ نہیں دیا تو جہنم مقدر ہوگا:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے پولنگ اسٹیشن جانے کا حلف لیا اور خبردار کیا کہ ڈیموکریٹس کی جیت ان کی انتظامیہ کے ایجنڈے کے لیے خطرہ بن جائے گی۔
گزشتہ رات ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں منعقدہ ریپبلکن مڈ ٹرم کنونشن کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے شرکاء سے کہا کہ وہ 3 نومبر کو یا قبل از وقت ووٹنگ کے عمل کے دوران ووٹ ڈالنے اور اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو بھی ساتھ لانے کے حلف کو دہرائیں۔
ڈیموکریٹس پر انتخابی دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے ٹرمپ نے مجمعے سے حلف لیا: کہ”میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ کے عظیم ترین صدر سے وفاداری کا عہد کرتا ہوں… میں اپنے دوستوں، اپنے خاندان کو اپنے ساتھ لاؤں گا اور ہم 3 نومبر کو یا اس سے پہلے ووٹ دیں گے۔
حلف کے بعد ٹرمپ نے مزید کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ ووٹ نہیں دیں گے تو کیا ہوگا؟ آپ جہنم میں جائیں گے۔”
ٹرمپ نے ایک برسرِ اقتدار صدر کی پارٹی کے مڈ ٹرم انتخابات میں سیٹیں ہارنے کے تاریخی رجحان کو چیلنج کرتے ہوئے، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن کنٹرول کو برقرار رکھنے کا وعدہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ڈیموکریٹس دوبارہ اقتدار میں آئے تو وہ لوگوں کی دولت ضبط کر لیں گے… ٹیکساس کے تیل اور گیس کو تباہ کر دیں گے اور مجرموں کو ڈکیتی، عصمت دری اور قتل کی وارداتیں کرنے کے لیے رہا کر دیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر7 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان7 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی
-
دنیا1 week agoتہران کی گوتریس کے بیان پر تنقید، سپر پاورز کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا الزام
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
