تازہ ترین
اردو ادب کا شہزادہ
خبراردو:-
مصنف:الطاف جمیل ندوی
کچھ لوگ جنہیں انسان چاہتا ہے انجان ہوکر ان کی تحریری صلاحیتوں کو دیکھ کر اور پھر گر اچانک وہ لوگ مہربان ہوجائیں تو خوشیاں آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگتی ہیں جیسے کہ میرے ساتھ ہوا-
ایک ماہ قبل میں نے انہیں فیس بک پر دیکھا تو ایک مسیج کردی ان کو اپنی طرف سے اظہار محبت کے لئے کیوں کہ ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا پھر کچھ یوم بعد انہوں نے واپس مسیج کی اور مجھ سے میرا پتہ پوچھا انجانی سی خوشی ہوئی کہ اتنے بڑے صاحب قلم کا یہ بڑپن پوچھنے پر کہا کہ میری کچھ کتابیں ہیں وہ میں بھیج رہا ہوں پھر ایک روز وہ کتابیں بھی مل گئیں جن میں ان کے رشحات قلم کا کمال جمال یکساں دیکھنے کو ملا گرچہ ابھی تک انہیں پڑھنے کا وقت نہ ملا پر ہر دن ان پر نظر پڑے اس لئے اپنے سامنے ہی رکھ لیں ہیں
آج سے تقریبا بیس سال پہلے میں نے ان کے مضامین پڑھنا شروع کئے جو اکثر اس نام سے کشمیر عظمی کی زینت بنا کرتے ہیں ۔۔۔ چلتے چلتے ۔۔ اب انہوں نے ان مضامین کو کتابی شکل دی ہے اور ایک اچھی خاصی کتاب تیار ہوئی ہے ان کے جو مضامین میں نے پڑھے ہیں میں اپنی حد تک سمجھتا ہوں کہ یہ مضامین قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں پڑھنے کے دوران ایسا لگتا ہے کہ میں خیالوں ہی خیالوں میں اس تحریر کے کرداروں کو محسوس کررہا ہوں جیسے میرے سامنے ہی یہ سب ہو رہا ہو-
ان کی تخلیقات ادبی اصلاحی معاشرتی سماجی ہر طرح سے آتی رہتی ہیں ان کا نام ہے اردو ادب کی دنیا میں اور مجھ جیسے ہزاروں قاری ان کا مطالعہ کرتے ہوں گئے میں نہیں جانتا ان کے احساسات کیا ہوں گئے مگر مجھے ان کی تخلیقات سے والہانہ لگاؤ ہے میں ان کی اکثر تحریروں میں وہی چاشنی وہی سوز محسوس کرتا ہوں جو کبھی تجلی کے مشہور و معروف مسجد سے میخانے تک میں محسوس کرتا تھا وہاں کردار بھی ہوا کرتے تھے پر یہاں بنا کرداروں کے ہی کام کیا جارہا ہے اس کے پیش لفظ سہیل سالم لکھتے ہیں
بسمل صاحب کے کالموں کا مطالعہ کرتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے کالم نگار قاری کو لطیف اور لطیف تر رومانی ماحول اور فضا میں لے جانے کی کوشش کرتا ہے پھر اس کے بعد زندگی کی تلخ سچائیوں انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو ذہن میں نقش کرتا ہے
صاحب موضوف افسانہ نگار بھی ہیں جو میرا میدان نہیں ہے اس لئے اس پر بات کرنا میرے بس میں ہے ہی نہیں اس سلسلے میں بھی ایک کتاب خوشبو کی موت کے نام سے ملی جس کے پیش لفظ لکھنے والے مشہور و معروف معالج ڈاکٹر نذیر مشتاق لکھتے ہیں کہ جناب شہزادہ بسمل اپنے افسانوں میں واقعات کی جس فنی مہارت اور پُر اثر انداز میں منظر کشی کرتے ہیں اُس کا اندازہ افسانے پڑھنے کے بعد ہوتا ہے ۔
جملوں کی ساخت اور استعاروں کا استمال مصنف کو اتنا اچھا آتا ہے کہ افسانوں کا ہر جملہ قاری کے دل کے تا روں کو چھیڑ کر اس کے جذبات و احساسات اور امنگوں میں خاموش ارتعاش پیدا کرتا ہے ‘‘۔(خوشبو کی موت ص۱۳
اس کے علاوہ ایک کتابچہ جھیل ڈل کی فریاد جس کے ابتدائی اقتباس بنام یہ خوبصورت کتاب میں
‘‘ ڈاکٹر جوہر قدوسی یوں رقم طراز ہیں
’’صدیوں پرانی کہانی جو اس جھیل کی جیتی جاگتی اور چلتی پھرتی تصویر ہما رے سامنے پیش کرتی ہے ۔ڈل کی اس ایک کہانی میں صدیوں پر پھیلے ہوئے عہد بہ عہد کی تہہ درتہہ دسیوں کہانیاں جنم لیتی ہیں اور پڑھنے والے کے ذہن کو ایک نئے ہی عالم میں پہنچا دیتی ہیں ۔ایک ایسا عالم جہاں جھیل ڈل خود اپنی زبان میں ہماری کوتاہ اندیشیوں پر خندہ زن ہو کر کبھی ہنسنا شروع کردیتی ہے اور کبھی اپنے تئیں ہمارے نا روا سلوک پر ماتم کرنے لگتی ہے ۔کہیں یہ جھیل مسرور و مخمور ہو کر فخر کے ساتھ اپنے کارناموں کا ذکر کرنے لگتی ہے اور کہیں اپنے دامن کے چاک ہونے پر مغموم و مجروع ہو کر رونا شروع کر دیتی ہے ۔کہیں پر اپنے زیر سایہ ہو رہی سرگرمیوں کی چشم دید گواہ بن کر ان کی دلچسپ رودار سناتی ہے اور کسی جکہ تاریخ کے اتھاہ سمندر میں غوطہ لگا کر چند موتی نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے ‘‘۔
(خدا کے لئے مجھے بچائوص۷)
ایک اور کتاب رقص بسمل کے نام سے ملی یہ بھی ایک افسانوی مجموعہ ہے جس میں سات افسانوں کا مجموعہ ہے جس کے بارے میں پروفیسر ظہور الدین لکھتے ہیں کہ ان کہانیوں کے موضوعات دیکھتے ہوئے ایک بات جو محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ ان میں اکثر خواتین پر ہونے والے مظالم کو پیش کیا گیا ہے
اس میں مجھے جو کاوش ان کی سب سے اچھی لگی جس پر انہیں جتنی بھی مبارکباد دی جائے کم ہے اور ان کا حق بھی بنتا ہے کہ انہوں نے یہ خدمت انجام دی ہے کتاب مختصر ہے کچھ ہی اوراق پر مشتمل پر دل سوزی عیاں ہے محبت عقیدت ادب نمایاں ہے کتاب کا تصور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہندو ازم کی کتب میں اس میں مختلف ابواب انہوں نے قائم کئے ہیں جہاں یہ وید وغیرہ کے حوالہ جات نقل کرکے یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ ہندو ازم کے بانی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف کئے بنا نہ رہ سکے اور انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پیغمبر آخر زاماں ھادی بر حق تسلیم کیا ہے یہ کتاب ایک بہترین اور قابل داد کوشش ہے دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہے حضرات کے لئے ایک گراں قدر تحفہ ہے جو ہندوستان میں غیر مسلموں میں دعوت کا کام کر رہے ہوں اس کتاب میں دو باتیں نام سے انہوں نے تمہید میں لکھا ہے کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عالمین کے سردار ہادی و رحمت ابتداء آفرینش سے لیکر اپنی بعثت تک تمام انبیاء کرام کے امام بورئے پر سوتے تھے فاقہ کرتے پیوند کپڑے پہنتے راتوں کو صرف امت کے لئے روتے کاش ہم آپ کو جانتے پہچھانتے تب آج ساری دنیا میں ہماری یہ حالت نہ ہوتی اس اقتباس کو پڑھ کر اک ہوک سی اٹھی میرے دل میں شہزادہ بسمل کا حال اس کے برعکس نہ ہوگا حب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوکر لکھتے ہیں یہ ہدیہ عقیدت لے کر میں رب کے سامنے سربسجود ہوں کہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان اوراق کو شرف قبولیت بخش کر مجھے میری کوتاہیوں پر بخش دے حب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوکر رہنا کمال ہے اور جب میں اس اقتباس یا تمہید کو پڑھ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ اک فدائی جھالیوں کو پکڑ کر یہ سب کہہ رہا ہے اور آنکھوں کے کونے سے دو آنسو پورے چہرے کا کہتے ہوئے طواف کر رہے تھے میرے یہ میرے لئے بھی سعادت سے کم نہیں
بات ہورہی ہے معروف صاحب قلم شہزادہ بسمل کی جن کا اصل نام غلام قادر خان ہے محترم ریاست کے معروف ادیب اور کالم نویس ہیں۔ان کے ادبی کالم تقریبا چالیس پنتالیس سالوں سے مقامی اخباروں اردو رسالوں میں متواتر شائع ہوتے رہے ہیں جن میں ہفتہ وار ”قلم “، ماہنامہ ”الحیات“،ہفتہ روزہ ” احتساب “ اور روز نامہ ” کشمیر عظمیٰ “ قابل ذکر ہیں
شہزادہ بسمل جموں اینڈ کشمیر فکشن رائٹرس گلڈ کے دیرینہ کارکن ہیں اور آجکل گلڈ کے نائب صدر اول ہیں
موصوف کے لئے یہ الفاظ کم ہیں کوشش کروں گا کہ ان کی تخلیقات پر ایک جاندار تبصرہ کر سکوں صاحب کے اخلاقیات کے لئے شاید اتنا کافی ہو کہ شریف النفس سادہ مزاج اسلامی شعائر کے پابند اور انتہائی کلمات انسان ہیں میں انکی محبتوں کا مشکور ہوں کہ چچا جان کی وفات پر جو فون مجھے موصول ہوئے ان میں شہزادہ بسمل کا فون بھی میرے لئے قابل تعریف ہے کہ بنا جانے موضوف مجھے فون کرتے ہیں اور دعائیہ کلمات کہنے کے ساتھ ساتھ تلقین صبر کرنا نہیں بھولتے میں ان کا بے حد ممنون ہوں کہ انہوں نے اپنی تخلیقات کا تحفہ دیا اور ساتھ میں دعائیں بھی اللہ تعالی اپنے حفظ و امان میں رکھے
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا13 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر9 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا13 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا12 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان11 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا9 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
