ہندوستان
بی جے پی – آر ایس ایس کی نیت جان چکا ہے ملک کا نوجوان : پرینکا
نئی دہلی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کچھ بھی کوشش کر لیں، کوئی بھی طعنہ دیں، لیکن ملک کا نوجوان ان کا سچ اور ان کی نیت کو جان چکا ہے انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو پہلے بی جے پی – آر ایس ایس کی حقیقت کا پتہ نہیں تھا، انہیں اب ان کی سچائی سمجھ میں آ چکی ہے۔ ان کی نیت کو پورا ملک اور نوجوان سمجھ چکے ہیں۔
محترمہ واڈرا نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ ملک کی آزادی کی لڑائی، سچائی اور عدم تشدد کے اصولوں پر مبنی تھی لیکن اس میں آر ایس ایس کا کوئی تعاون نہیں تھا۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ چاہے کتنی بھی نفرت، تشدد اور پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر لیں، لیکن وہ ملک کی روح سے بھائی چارے اور اتحاد کے جذبے کو کبھی نہیں نکال سکتے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ابھیشیک بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے اور کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے بدھ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے فوری طور پر ہٹانے اور الیکشن کمیشن کے طرز عمل کی عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک خاص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے لاکھوں ووٹروں کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔
مسٹر بنرجی نے اپنے واٹس ایپ چینل پر ایک پوسٹ میں کہا، “چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے اور عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کے احکامات دیے جانے چاہئیں۔” انہوں نے الزام لگایا کہ کسی ایک سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے لاکھوں ووٹروں کے نام کاٹنا ہماری جمہوریت کی بنیاد پر حملہ ہے اور اس کے لیے ذمہ دار لوگوں کی جوابدہی طے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، “سپریم کورٹ اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ کیا ہندوستان کے چیف جسٹس کی قیادت والی بینچ اس پر کارروائی کرے گی؟” مسٹر بنرجی کا یہ تبصرہ ان میڈیا رپورٹوں کے بعد آیا ہے، جن میں انکشاف ہوا ہے کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی نے ووٹر فہرست کی نظر ثانی سے جڑے فیصلوں پر گزشتہ 10 مہینوں میں کم از کم 14 بار باضابطہ طور پر اعتراضات درج کرائے تھے۔ ان کمشنروں نے مبینہ طور پر کہا کہ کئی فیصلے ان کی معلومات کے بغیر کیئے گئے تھے۔
کمیشن کے اندر اندرونی اختلافات کی رپورٹوں نے ووٹر فہرست کی خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کےتعلق سے اپوزیشن کے حملوں کو اور تیز کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل سے اہل ووٹروں کے نام ہٹائے جا رہے ہیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایس آئی آر سے جڑے تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیئے گئے تھے۔
یہ تنازع اب سپریم کورٹ بھی پہنچ چکا ہے، جہاں ایس آئی آر کے عمل سے جڑی عرضیوں پر سماعت ہو رہی ہے۔ منگل کے روز عدالت نے “منطقی عدم مطابقت” کی بنیاد پر دہلی میں ووٹروں کو جاری کیے گئے نوٹسوں پر الیکشن کمیشن سے سوال پوچھے تھے اور پوچھا تھا کہ کیا یہ نوٹس بغیر سوچے سمجھے میکانکی انداز میں جاری کیے جا رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کے تعلق سے الگ سے قانونی اور سیاسی رسہ کشی چل رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اس عمل کے دوران ریاست کی ووٹر فہرست سے 27.16 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹائے گئے تھے، جن میں سے 22 لاکھ سے زائد لوگوں نے بعد میں نام دوبارہ شامل کرنے کے لیے اپیل دائر کی ہے۔ کمیشن نے غیر حاضر، منتقل شدہ، متوفی اور ڈپلیکیٹ اندراجات کے زمروں کا حوالہ دیتے ہوئے ان ناموں کو ہٹانے کا دفاع کیا ہے۔ مسٹر بنرجی نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ظاہر کی گئی تشویشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘انڈیا’ اتحاد کے اراکین نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کو خط لکھا تھا، لیکن ان تشویشات کی نہ تو تحقیقات کی گئی اور نہ ہی انہیں مناسب سنجیدگی سے لیا گیا۔ پارٹی کے راجیہ سبھا رہنما ڈیرک او برائن نے بھی گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے یاد دلایا کہ 60 سے زائد اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے پہلے ہی انہیں ہٹانے کے لیے ایک تجویز پیش کی تھی۔
دوسری طرف، الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے فیصلوں میں کسی بھی قسم کی تقسیم سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ پورا عمل تینوں الیکشن کمشنروں کی دیکھ بھال میں منعقد کیا گیا ہے۔ تاہم، سامنے آنے والے اندرونی اعتراضات نے انتخابی ادارے کے طرز عمل، شفافیت اور آئینی خودمختاری پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
نئی دہلی، ہندوستان نے جموں و کشمیر پر نام نہاد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) رابطہ گروپ کے مشترکہ بیان میں ہندوستان کے بارے میں کیے گئے غیر ضروری اور حقائق کے برعکس حوالہ جات کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
وزارت خارجہ نے بدھ کے روز اس سلسلے میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ او آئی سی کو ان امور پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے جو مکمل طور پر ہندوستان کے اندرونی معاملات ہیں۔ وزارت نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام مرکز کے زیر انتظام علاقے ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہیں اور سیاسی مقاصد کے تحت کیے جانے والے پروپیگنڈے کو بار بار دہرانے سے اس حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے جانبدارانہ بیانات کی بار بار حمایت او آئی سی کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
وزارت نے کہا ہے کہ او آئی سی کو پاکستان کو اپنا من گھڑت پروپیگنڈا کرنے کے لیے پلیٹ فارم دینے کے بجائے اسے مشورہ دینا چاہیے کہ دہشت گردی کی حمایت اور اس کی حوصلہ افزائی کا ریکارڈ رکھنے والے پاکستان کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے مسلسل خطرے کے حل کی سمت میں اقدامات کرنے چاہئیں۔
رپورٹوں کے مطابق او آئی سی کے رابطہ گروپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والے ایک اجلاس میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے تنازع کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہونا چاہیے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
لیہ کے افسوسناک واقعے کی سچائی سامنے آنی چاہیے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے گزشتہ سال 24 ستمبر کو لیہ میں تحریک کے دوران مارے گئے چار نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے واقعے کی عدالتی تحقیقات کر کے پوری سچائی سامنے لانے، جواب دہی طے کرنے اور بغیر کسی خوف یا جانب داری کے انصاف یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا ایکس پر بدھ کے روز مسٹر کھرگے نے کہا کہ ایک سال پہلے لداخ کے جمہوری اور آئینی حقوق کے لیے چلی تحریک کے دوران لیہ میں چار نوجوانوں کو گولی ماری گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یوم شہداء پر وہ انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لداخ کے لوگوں نے اپنی جائز خواہشات کی تکمیل کے لیے طویل عرصے تک انتظار کیا ہے۔ کانگریس زمین، روزگار، نازک ماحولیات، ثقافت اور شناخت کے تحفظ کے لیے چھٹے شیڈول سمیت بامعنی آئینی تحفظ کے ان کے مطالبے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ جمہوریت اور نمائندہ اداروں کو مکمل طور پر بحال کیا جانا چاہیے اور لوگوں کو اپنے مستقبل کے تعین میں موثر آواز ملنی چاہیے۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
ہندوستان6 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر4 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر4 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا5 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا5 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
ہندوستان1 week agoصرف انعام کا اعلان نہیں، مسعود اظہر کو گرفتار کرے پاکستان: ہندوستان
-
جموں و کشمیر5 days agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا4 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
