تجزیہ
اف ؛ مسلمانوں میں بڑھتا ہوا اختلاف!
( اللہ رحم کرے)
تحریر ۔۔جاوید بھارتی
آج مسلمانوں کے اندر انگنت و بے شمار اختلافات ہیں ،، محرم الحرام کے مہینے سے لے کر ذی الحجہ کے مہینے تک اختلاف ، عاشورہ سے لے کر شب برات تک اختلاف ، واقعہ کربلا پر اختلاف ، بارہ ربیع الاول کے موقع پر جشن عیدمیلادالنبی منانے اور نہ منانے پر اختلاف ، گیارہویں شریف آجائے تو اس پر بھی اختلاف ، شب برات کی فضیلت پر اختلاف ، رمضان کا مہینہ آجائے تو سحری و افطار کے اوقات پر دو چار منٹ کا معاملہ لے کر اس پر بھی اختلاف،، کچھ مواقع اور لمحات ایسے ہیں کہ جن کو انجام دینے پر اتفاق ہے تو اس کے طریقوں پر اختلاف ہے غرضیکہ مسلمانوں کی پہچان ہی بنتی جارہی ہے آپسی اختلافات کا شکار ہونے کی،، پھر بھی ایک طرف کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور دوسری طرف تعلیم یافتہ تو تعلیم یافتہ اور جو تعلیم سے کوسوں دور ہیں وہ بھی مسلکی اور فرقہ بندی کی بنیاد پر بحث و مباحثہ کرتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو ساتھ ہی ایک دوسرے فرقے کے علماء کو بھی برا بھلا کہا جاتا ہے پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ علماء کرام کا احترام لازمی ہے اور جو قوم علماء کرام کا احترام نہیں کرتی وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے اور جو حال ہے اس کے تناظر میں تو یہ کہا جانا چاہئے کہ اپنے اپنے مسلک اور اپنے اپنے فرقہ کے علماء کا احترام لازمی ہے ۔
نماز ہی کو لے لیں تو ہر مکتب فکر کا اتفاق ہے کہ نماز ہر حال میں ضروری ہے اور نماز ہی افضل العبادات ہے یعنی نماز ہی سب سے افضل عبادت ہے اور روز محشر سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں سوال ہوگا لیکن نماز کے طریقے پر بھی اختلاف ہے اقامت کہنے پر اتفاق تو ہے مگر اقامت کب کہا جائے سارے مقتدی کھڑے ہو جائیں تب اقامت کہا جائے یا تنہا ایک شخص کھڑا ہوکر اقامت کہے اور باقی سارے لوگ قد قامت الصلوٰۃ پر کھڑے ہوں اس پر بھی اختلاف ، تکبیر تحریمہ کہنے پر اتفاق ہے تو ہاتھ باندھنے اور نہ باندھنے پر اختلاف ہے ، کسی قدر ہاتھ باندھنے پر اتفاق ہے تو کہاں باندھیں سینے پر ، ناف کے نیچے یا ناف کے اوپر اس پر بھی اختلاف ہے۔
اب قیام پر اتفاق ہے تو حالت قیام پر اختلاف ، کسی کا کہنا ہے کہ پاؤں اتنا پھیلاؤ کہ دنبہ گزر جائے ، کسی کا کہنا ہے کہ کندھے سے کندھا ملا ہونا چاہئے ، کسی کا کہنا ہے کہ ٹخنے سے ٹخنہ ملاہونا چاہئے ، کسی کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے کے پاؤں کی چھوٹی انگلی ٹچ ہونا چاہئے اب بتائیے ساری باتیں یہ سارے طریقے کیسے ممکن ہو سکتے ہیں ۔
التحیات پڑھنے پر اتفاق ہے تو اشہد ان لا الہ الا اللہ پر انگلی اٹھا کر گرانے کے بعد کی حالت پر اختلاف ہے ، انگلی گراکر سیدھی رہے یا جھکی رہے یا مسلسل حرکت میں رہے اس پر بھی اختلاف ہے،
ایک طرف کہا جاتا ہے کہ منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک ، حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک ، ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک ، کچھ بڑی تھی ہوتے جو مُسلمان بھی ایک ،، یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو ،، تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو،، فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں ،، کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ۔
اب تو یہ اختلاف بہت ہی بھیانک رخ اختیار کرتا جارہا ہے،، یعنی مسلک ، مکتب فکر اور فرقہ بندی کی زنجیروں کو توڑتے ہوئے آپس میں ہی اختلاف ہونے لگا پیری مریدی کے نام پر اختلاف ، خانقاہوں کے نام پر اختلاف ، کرامات اولیاء کے نام پر اختلاف ، مدارس و مساجد کے نام پر اختلاف ، تعزیہ داری کے نام پر اختلاف ، نوحہ خوانی و ماتم کے نام پر اختلاف ، عرس کے اہتمام و اس کے طریقوں پر اختلاف حتیٰ کہ جس بنیاد پر اختلاف ختم ہونا چاہئے اور جس مقدس ہستی نے مدرسۃ النبی میں ایسی تعلیم دی ایسا درس دیا کہ ابو بکر صدیق اکبر ہوگئے، عمر بن خطاب فاروق اعظم ہوگئے، عثمان بن عفان کامل الحیا ولایقان ہو گئے اور علی بن ابی طالب باب العلم ہوگئے اس مقدس ہستی کے اسوۂ حسنہ کا کامیابی کی ضمانت قرار دینے پر اتفاق ہے تو ان کی تاریخ ولادت پر اختلاف ہے ، سفر معراج پر اتفاق ہے تو دیدار الہی پر اختلاف ہے۔
ائے مسلماں کبھی تو سینے پر ہاتھ رکھ کر غور کر کہ تو کس سمت اپنا قدم بڑھا رہا ہے ،، چوبیس اگست کو بعد نمازِ مغرب جہاں بہت سے اداروں نے اعلان کردیا کہ انتیس صفر المظفر کو ماہ ربیع الأول کا چاند نظر آگیا تو وہیں کچھ ادارے رات بھر خاموش رہے اور اپنے اپنے ذرائع سے اپنے اپنے مسلک اور مکتب فکر کی شناخت کے ساتھ معلومات کرتے رہے تو کچھ ادارے کہنے لگے کہ انتیس صفر المظفر کو ماہ ربیع الاول کا چاند نظر نہیں آیا چنانچہ پچیس اگست 2025 ماہ ربیع الاول کی پہلی تاریخ نہیں بلکہ صفر المظفر کی تیس تاریخ ہوگی ،، سوشل میڈیا پر لیٹر پیڈ دوڑتے رہے بھلے ہی اڑتالیس گھنٹے بعد شدت پسندی پر مبنی لیٹر پیڈ سوشل میڈیا سے غائب ہونے لگے ۔
چاند نظر آگیا ،، چاند نظر نہیں آیا ،، اس موضوع پر بحث و مباحثہ شروع ہوگیا یہ سلسلہ جب تھما تو دوسرا سلسلہ چل پڑا کہ میلادالنبی کا جشن منانا چاہئے نہیں منانا چاہئے اور اس بحث و مباحثے میں علماء و جہلا دونوں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اتنا حصہ لیتے ہیں کہ یہ بھی خیال نہیں رہتا ہے کہ غیر اقوام ، دوسرے مذہب کے لوگ ہماری تلخ کلامی ، ترش کلامی اور طنزیہ جملے کو قیچ کرکے ہم سے سوال کر بیٹھیں تو ہم کیا جواب دیں گے
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ ایسے اختلاف ہیں جو ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہیں جیسے محرم الحرام کے مہینے میں تعزیہ الم کے ساتھ ڈھول تاشہ بجانا جہاں ایک طرف علماء کرام اکثریت میں اسے ناجائز کہہ رہے ہیں وہیں کچھ علماء اسے جائز قرار دے رہے ہیں اس دلیل کے ساتھ کہ یزید کا نام مٹ گیا اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام باقی ہے ان کا مشن باقی ہے ان کی تحریک باقی ہے تو گویا جس کا مشن باقی ہو تو اس خوشی میں بالکل ڈھول تاشہ بجانا جائز ہے ،، اس ہٹ دھرمی کا جواب تو یہی ہوگا کہ باپ کے مرنے کے بعد اس کی اولاد باقی ہے ، اس کا کاروبار باقی ہے ، اس کا تعمیر کیا ہوا مکان باقی ہے تو ایسی صورت میں باپ کی میت کاندھوں پر اٹھا کر ڈھول تاشہ بجاتے ہوئے قبرستان جانا چاہئے ، ڈھول تاشہ کے ساتھ تجہیز وتکفین و تدفین کرنا چاہئے اور ہر سال وصال کی تاریخ کو قرآن خوانی و ایصال ثواب نہ کرکے دروازے پر ڈھول تاشہ بجانا چاہئے اور لوگوں کو بتانا چاہئے کہ آج ہی کے دن ہمارے باپ کا انتقال ہوا تھا اسی خوشی میں ڈھول تاشہ کا انتظام و اہتمام و انعقاد کیا گیا ہے ۔
ولادت سید الکونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مہینے و موقع پر جشن منانا خوشی منانا اس موضوع پر اختلاف کرنا یہ بھی ایک طرح سے ضد ہی نظر آتی ہے ،، روایات میں ملتا ہے کہ جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ماں کے شکم میں تھے تو فرشتے حضرت آمنہ کے لئے تحائف لے کر آیا کرتے تھے پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے ؟
حضرت آمنہ کے جسم سے خوشبو آتی تھی ، پورا گھر خوشبو سے معطر رہا کرتا تھا پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے
سید عرب و عجم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو حلیمہ سعدیہ جب قافلے کے ہمراہ چلیں عرب کے دستور کے مطابق بچے کی تلاش میں دودھ پلانے کے لئے تو ان کی اونٹنی بہت کمزور تھی ، قافلے میں سب سے پیچھے تھی تمام دائیاں بچے لے لے کر مطمئن ہوگئیں اور حلیمہ سعدیہ کی قسمت میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب نبی پاک کو لے کر دائی حلیمہ واپس چلیں تو اب وہی اونٹنی برق رفتاری کا اظہار کرنے لگی حلیمہ سعدیہ قافلے میں سب سے آگے نکل گئیں اور جب گھر آئیں تو ہریالی ہی ہریالی اور خوشحالی ہی خوشحالی تمام بکریاں بھی بحال اور خوشحال ہوگئیں بچپن ہی میں یہ معجزہ جھما جھم رحمتوں برکتوں کی بارش،، اب بتائیے یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے
آمد رسول سے قبل لڑکیاں زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھیں،، جس دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اس دن جتنی بھی ولادت ہوئی ان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی،، اس لئے کہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں ہوا کہ جس دن میرے محبوب کی دنیا میں آمد ہو اس دن پیدا ہونے والی لڑکی زندہ دفن ہو،، یہ بات بارہا علماء کرام سے سنا گیا ہے ،، پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے
وہ آتش کدہ بجھ گیا جو ایک مدت سے جل رہا تھا جسے دیکھ کر لوگوں کے اندر گھمنڈ پیدا ہوتا تھا اور لوگ ظالم بن جایا کرتے تھے ،، آمد رسول کے موقع پر آتش کدہ کا بجھنا یہ جشن آمد رسول و خوشی نہیں تو اور کیا ہے ؟
آمد رسول سے قبل جہالت کی انتہا تھی ، عرب کے لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے قتل وغارت گری کیا کرتے تھے ، جوا اور شراب عام تھی دسترخوان پر کھانے کے ساتھ پانی نہیں شراب رکھا کرتے تھے ، جوا کھیلنے میں اپنی بیویاں تک ہار جایا کرتے تھے ، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کو بیوی بنا لیا کرتا تھا ، بیوہ عورت کو منحوس مانا جاتا تھا ، بچی پیدا ہوتی تو زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا،، محمد سے پہلے تھا عالم نرالا، لگایا تھا شیطاں نے ظلمت کا تالا، کہیں تیر و نشتر کہیں تیغ و بھالا، دوشنبہ کا دن تھا سحر کا اجالا ، کہ مکے میں پیدا ہوا کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم)
سعودی عرب میں سعود خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو 23 ستمبر کو نیشنل ڈے منایا جانے لگا ، یوم سعودیہ منایا جانے لگا جبکہ نبی پاک کی ولادت کا دن انسان کی آزادی کا دن ہے ، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آزادی کا دن ہے ،، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم انسانیت کے لئے رب کائنات کا عظیم تحفہ ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر خوشی ہوتی ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر یقیناً خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے ۔
ہاں جشن عیدمیلادالنبی و جلوس محمدی کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے نماز چھوٹنی نہیں چاہئے ، کوئی بھی خلاف شرع کام نہیں ہونا چاہئے ، باجا نہیں بجنا چاہئے ، کیک نہیں کاٹا جانا چاہئے ، کسی کی دلآزاری نہیں ہونا چاہئے اور نعرہ بھی ایساہی لگایا جانا چاہئے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت کا اعلان ہو ، اسلامی تعلیمات کا اعلان ہو ، سیرت النبی کا اعلان ہو ،، اس لئے کہ ہم اس مقدس ہستی کا جشن منارہے ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں ۔
راقم الحروف کے اس مضمون کو مسلکی نظر سے نہ دیکھا جائے جو جس مسلک کا ماننے والا ہے وہ اس پر قائم رہے یا نہ رہے یہ اس کی مرضی لیکن خدا کے واسطے اختلافات کی زنجیروں کو توڑئیے کم از کم ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جشن و خوشی کو اختلافات کا رنگ نہ دیجیے ، جس کا کا کلمہ پڑھتے ہیں اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیجئیے ،، ہاں اسے سیر وتفریح کا ذریعہ ہرگز ہرگز نہیں بنائیے ، غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں کے لئے سہارا بنئیے، نزدیکی اسپتالوں میں پہنچ کر ذات برادری اور مسلک و مذہب پوچھے بغیر مریضوں کی عیادت کیجئیے، انہیں پھل فروٹ دیجئے ، غریب مریضوں کا مالی تعاؤن کیجیئے ، لوگوں کو پانی پلائیے یہ سب کچھ کرکے اچھا انسان بننے کا ثبوت پیش کیجئے ا نسانیت کو فروغ دیجئیے اور مسلمان ہونے کا حق ادا کیجئیے۔
جاوید اختر بھارتی ( سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر19 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا19 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا23 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا23 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا23 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان21 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا19 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
