تازہ ترین
ایک سال کے دوران کشمیر کے سیاسی منظرنامہ میں کیا بدلا؟
گزشتہ برس پانچ اگست کے دن ہی جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ ختم کیا گیا اور دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کر دیا گیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی والی مرکزی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کو ریاستی درجے سے ہٹا کر یوٹی میں ضم کیے جانے کے اُس تاریخی فیصلے کا آج پہلا سال ہے۔
پانچ اگست 2019 کو لیے گئے غیر معمولی فیصلے کے بعد جموں و کشمیر کی ہند نواز سیاست کے ساتھ ساتھ علیحدگی پسند سیاست پر بھی خاصا اثر دیکھنے کو ملا۔
دفعہ 370 کی منسوخی کے اعلان سے قبل ہی یہاں کے ہند نواز سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہنماؤں کے علاوہ علیحدگی قیادت کو بھی یا تو جیلوں میں بند رکھا گیا یا تو انہیں گھروں میں ہی نظر بند کیا گیا۔ حکومت نے کئی طرح کی بندشیں اور قدغنیں عائد کر کے سیاسی سرگرمیوں کو مسدود کر دیا جبکہ عوامی مزاحمت کو روکنے کے لیے کئی سخت گیر اقدامات اٹھائے جن میں مکمل مواصلاتی لاک ڈاؤن بھی شامل ہے۔
8 سے 10 ہزار تک لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ مختلف جماعتوں کے تمام چھوٹے بڑے رہنماؤں سمیت تین سابق وزارئے اعلی کو گرفتار کیا گیا۔ کئی مہینوں کے بعد اگرچہ دو وزیر اعلی فاروق عبدللہ اور عمر عبدللہ کے علاوہ سبھی مین اسٹریم جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان کی رہائی عمل میں لائی گئی لیکن سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ابھی بھی خانہ نظر بند ہیں۔
ادھر متعدد علیحدگی پسند رہنما بھی یا تو قید میں ہیں یا طویل عرصہ گزرجانے کے بعد بھی گھروں میں ہی نظر بند ہیں۔5 اگست کے بعد جموں و کشمیر کی مین اسٹریم سیاست میں اس وقت اچانک ہلچل دیکھنے کو ملی۔ جب محبوبہ مفتی کی سیاسی جماعت پی ڈی پی کے برطرف رہنما الطاف بخاری نے کئی پی ڈی پی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ساتھ میں لے کر اپنی پارٹی کا اعلان کیا۔
پارٹی کے اعلان سے قبل بخاری نے دہلی میں بی جے پی کے کئی سرکردہ رہنماؤں سے بھی ملاقات کی تھی۔ اپنی پارٹی کے نام پر نئی سیاسی جماعت کے معرض وجود میں آنے کے بعد اگرچہ بیشتر سیاسی رہنماؤں نے اسے بی جے پی کی بی پارٹی مانتے ہوئے الطاف بخاری پر کئی سوالات اٹھائے لیکن بخاری کا کہنا ہے کہ پارٹی دہلی اور کشمیری عوام کے درمیان عدم اعتمادی کے خاتمے اور روزمرہ عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے کام کرنا چاہتی ہے۔
گزشتہ برس 4 اگست کی رات سے لے کر اگلے تقریباً 7ماہ تک کسی بھی ہند نواز یا ہند مخالف سیاسی جماعت کی جانب سے کوئی بھی بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم گزشتہ چند ماہ سے لگ بھگ تمام مین اسٹریم سیاسی رہنماؤں کی رہائی کے بعد اب بیانات آنا شروع ہو گئے ہیں لیکن سیاست ابھی بھی بیانات سے آگے بڑھ نہیں پائی ہے۔ یہاں کی بڑی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، کانگریس یا نئی معرض وجود میں آئی اپنی پارٹی کی جانب سے بھی کوئی سیاسی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی۔
سابق وزرائے اعلی فاروق عبدللہ اور عمر عبدللہ کی رہائی کے بعد این سی کے علاوہ پی ڈی پی اور کئی دیگر جماعتوں کے رہنما، 5 اگست 2019 کو لیے گئے فیصلے کی اپنے بیانات کے زریعے نہ صرف سخت مخالفت کر رہے ہیں بلکہ جموں و کشمیر تنظیم نو اور آئے روز متنازعہ فیصلوں پر بھی مسلسل نکتہ چینی کر رہے ہیں۔
اگرچہ بی جے پی دفعہ 370 کو ہٹانے کے اپنے فیصلے کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہے لیکن نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کرنے کی اپنی مانگ کو بار بار دہرا رہی ہے۔ادھر علیحدگی پسند رہنماؤں کے اعتدال دھڑے نے بھی 11 ماہ کی خاموشی توڑ کر 2 جولائی کو اپنے ایک بیان میں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا اپنا مطالبہ دہرایا۔ وہیں بھارت اور پاکستان کی حکومتوں پر زور دیا کہ بات چیت کے ذریعے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اس کا حل نکالا جائے۔
دراصل میر وعظ محمد عمر فاروق کی قیادت والے علیحدگی پسند دھڑے کا یہ بیان بزرگ رہنما سید علی گیلانی کُل جماعتی حریت کانفرنس سے خیر باد کہنے کے بعد سامنے آیا۔بہرحال دفعہ 370 کی منسوخی کو ایک برس کا عرصہ ہو چکا۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا جموں و کشمیر میں سیاست بیان بازی تک ہی محدود رہے گی یا آنے والے وقت میں یہاں پھر سے سیاسی سرگرمیاں دیکھنے کو ملیں گی۔(ای ٹی وی)
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
