کھیل
بنگلہ دیشی نژاد باکسر رخسانہ بیگم : کک باکسنگ کی واریئر شہزادی
نئی دہلی،
کھیلوں کی دنیا میں مسلم مرد و خواتین دونوں نے، وہ جہاں کہیں کے بھی باشندے ہوں ،اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے نام روشن کیا ہے۔ ایسے بہت سے مسلم کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین کے علاوہ غیر ملکی سرزمین پر ملک کا نام روشن کیا ہے اور ملک کے وقار کو چار چاند لگائے ہیں۔ ایسی ہی ایک متاثر کن شخصیت خاتون باکسر رخسانہ بیگم کی ہے ۔ رخسانہ بیگم برٹش اور یورپیئن موتھائی چیمپئن ہیں ، انہوں نے ورلڈ کک باکسنگ ایسوسی ایشن کا ٹائٹل بھی جیت رکھا ہے۔
رخسانہ بیگم کی پیدائش 15 اکتوبر 1983کو ایک بنگالی خاندان میں ہوئی۔ وہ ایک انگلش پروفیشنل کک باکسر ہیں۔ رخسانہ بیگم کی پیدائش اور پرورش لندن، انگلینڈ میں ہوئی۔ رخسانہ بنگلہ دیشی نژاد خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی تربیت ایک روایتی، مذہبی مسلم گھرانے میں ہوئی ۔ان کے دادا دوسری جنگ عظیم میں انگریزوں کے لیے لڑنے کے لیے بنگلہ دیش کے سلہٹ ڈویژن سے برطانیہ ہجرت کر گئے تھے۔ ان کے والدایک فیشن اسٹورز کے لیے چمڑے کی جیکٹس بنانے والی ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے اور والدہ ایک گھریلو خاتون تھیں۔ رخسانہ نے مقامی پرائمری اسکول اور پھر سوانلی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے آرٹ، ہسٹری، بنگالی، میڈیا اسٹڈیز میں اے لیول کی تعلیم حاصل کی۔ تاشقند، ازبکستان میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے بعد، رخسانہ نے 2006 میں یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر سے آرکیٹیکچر میں ڈگری حاصل کی۔ وہ ایک ٹرینی آرکیٹیکٹ تھی.۔بچپن میں رخسانہ بیگم کو فٹ بال، بیڈمنٹن اور تیراکی جیسے کھیلوں میں بہت دلچسپی لیتی تھیں۔ وہ پانچ یا چھ سال کی عمر سے ہی مارشل آرٹس میں بھی دلچسپی رکھتی تھیں ۔ رخسانہ معروف باکسر محمد علی اور مارشل آرٹ کے مایہ ناز ہستی بروس لی سے بہت متاثر تھیں۔
اپنا کیریئر بنانے کے لئے رخسانہ نے کالج کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کک باکسنگ کی کلاسیں لینا شروع کیں۔انہوں نے اسے ابتدائی طور پر یہ ایک شوق کے طور پر حصہ لیا۔
انہیں اس بات کا خوف تھا کہ ان کا خاندان انہیں اس پیشہ میں نہیں جانے دے گا۔ انہوں نے تعلیم اور جز وقتی ملازمت کے ساتھ ساتھ باکسنگ کی بھی تربیت حاصل کی۔ اس امر کو انہوں نے اپنے خاندان والوں سے تقریباً پانچ برسوں تک چھپائے رکھا۔ رخسانہ بیگم نے لڑنے کے اپنے جذبے کو قائم رکھا اور اس بات پر یقین رکھا کہ وہ اپنے خلاف آنے والی تمام مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔رخسانہ جب بھی رنگ میں اترتیں، ان کےدماغ میں صرف یہ ہی خیال رہتا تھا کہ رنگ سے جیت کر ہی باہر آنا ہے۔ رخسانہ کے خیالات بھی بہت اونچے رہے۔
ان کا ماننا تھا کہ اگر آپ گولڈ جیتنے کے خواہش مند ہیں تو آپ کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اپنی لگن ، محنت اور مشقت کئے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔
بنگلادیشی نژاد برطانوی موتھائی اور کک باکسنگ چیمپئن رخسانہ بیگم نے باکسنگ کی دُنیا میں قدم رکھا ۔ پانچ فٹ تین انچ قامت والی رُخسانہ بیگم نے پروفیشنل باکسنگ کی پہلی فائٹ کے لیے زبردست ٹریننگ لی۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
آئیچی-ناگویا (جاپان)، ہندوستان کی سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ کی جوڑی نے جمعہ کو ایشیائی کھیلوں کے نشانہ بازی مقابلے میں 10 میٹر ایئر پسٹل مکسڈ مقابلے میں جنوبی کوریا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کا دوسرا تمغہ ہے۔
آج یہاں ہوئے مقابلے میں ہندوستانی جوڑی نے مجموعی طور پر 484.6 اسکور کے ساتھ سرفہرست مقام حاصل کیا۔ کمل جیت اور سروچی نے شروعات سے ہی اچھی برتری بنا لی تھی، لیکن جنوبی کوریا مسلسل ہندوستانی نشانہ بازوں پر دباؤ بنائے ہوئے تھا۔ تاہم ہندوستانی جوڑی نے دباؤ میں کوئی غلطی نہیں کی اور جنوبی کوریا کو 6.6 پوائنٹس کے فرق سے شکست دے کر طلائی تمغہ اپنے نام کرلیا۔ جنوبی کوریا 478 اسکور کے ساتھ دوسرے جبکہ ایران 415.8 اسکور کے ساتھ تیسرے مقام پر رہا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ کا خطاب جیت لیا
سری نگر، سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ (سی پی ایل) کرکٹ ٹورنامنٹ 2026 کا خطاب جیت لیا۔ اس نے بارہمولہ کے جنرل بپن راوت اسٹیڈیم میں کھیلے گئے شاندار فائنل میں رمزی اسپورٹس سری نگر کو شکست دی۔
پہلے بلے بازی کرتے ہوئے سلطان واریئرز نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے، جس کے جواب میں رمزی اسپورٹس سری نگر کی پوری ٹیم 142 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح سلطان واریئرز نے شاندار کامیابی کے ساتھ خطاب اپنے نام کر لیا۔
سلطان واریئرز کے عاقب کھانڈے کو میچ جیتنے والی کارکردگی پر ’مین آف دی میچ‘ قرار دیا گیا، جبکہ ان کے ساتھی کھلاڑی عاصم بشیر کو پورے ٹورنامنٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی پر ’مین آف دی سیریز‘ کا اعزاز دیا گیا۔
فوج کی سری نگر چنار کور کی جانب سے منعقد کیے گئے اس ٹورنامنٹ میں ریکارڈ تعداد میں ٹیموں نے شرکت کی۔ مقابلے کے لیے 130 ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں سے کشمیر وادی کے مختلف علاقوں سے 79 ٹیموں کا انتخاب کیا گیا۔
تقریب میں جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اتل ڈلو کے علاوہ بارہمولہ میں تعینات ڈیگر ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اور مقامی برادری کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
منتظمین نے کہا کہ سی پی ایل 2026 نے پوری کشمیر وادی کے کرکٹ ٹیلنٹ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا اور خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان ہندوستانی فوج اور مقامی برادری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔
دفاعی ترجمان نے کہا کہ سی پی ایل 2026 کا کامیاب انعقاد خطے کے کھیلوں کے کیلنڈر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے ذریعے وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
بابر اعظم کی سات سال بعد ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی
اسلام آباد، پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم موجودہ پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی نمائندگی کریں گے۔ انہیں ٹیم نے بطور گیسٹ کھلاڑی شامل کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بابر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے درخواست کی تھی کہ انہیں کسی ٹیم میں شامل کیا جائے تاکہ وہ طویل فارمیٹ میں اپنی فارم بہتر کرسکیں۔ اس کے بعد بورڈ نے انہیں او جی ڈی سی ایل کے ساتھ جوڑ دیا۔ بابر نے دسمبر 2022 کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی سنچری نہیں بنائی۔ اس کے بعد سے 39 اننگز میں وہ صرف آٹھ نصف سنچریاں بناسکے ہیں، جبکہ 2023 کے آغاز سے ٹیسٹ میں ان کی اوسط 30.43 رہی ہے۔
ان کی خراب فارم پاکستان کرکٹ میں مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ حالیہ انگلینڈ دورے میں پاکستان کو تین ٹیسٹ کی سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی، جبکہ لارڈز اور ایجبسٹن ٹیسٹ میں انگلینڈ کے تیز گیندبازوں نے شارٹ گیند کے خلاف بابر کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ تاہم گزشتہ پانچ ٹیسٹ میں وہ چار نصف سنچریاں بناچکے ہیں اور گزشتہ ماہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ان کا اسکور 88 رنز رہا، جس سے پاکستان نے جولائی 2023 کے بعد پہلی بار بیرون ملک ٹیسٹ جیتا۔
بابر نے آخری بار 2019 میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کھیلا تھا، جب انہوں نے سینٹرل پنجاب کی کپتانی کرتے ہوئے فائنل میں ناردرن کو شکست دے کر قائداعظم ٹرافی جیتی تھی۔ حالیہ برسوں میں ٹیسٹ اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں پاکستان کی خراب کارکردگی کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں زیادہ حصہ لینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اس سیزن میں شاہین شاہ آفریدی اور سلمان آغا سمیت کئی دیگر بین الاقوامی کھلاڑی بھی پریذیڈنٹس ٹرافی میں حصہ لے رہے ہیں۔
پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت اے کیٹیگری کے ٹیسٹ ماہر کھلاڑیوں کے لیے سالانہ کم از کم چھ، اے بی کیٹیگری کے ٹیسٹ اور ون ڈے ماہر کھلاڑیوں کے لیے چار، جبکہ بی سی کیٹیگری کے وائٹ بال ماہر کھلاڑیوں کے لیے کم از کم دو فرسٹ کلاس میچ کھیلنا ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی نو ٹیموں کی جدول میں آخری مقام پر ہے۔ وہ گزشتہ چار آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ناک آؤٹ مرحلے تک بھی نہیں پہنچ سکا ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا5 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان1 week agoملن پردھان کی گرفتاری جمہوریت کا قتل: راہل ، کھرگے، نندی گرام میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا الزام
