تازہ ترین
تحریک کسی کی حمایت یافتہ نہیں؛ کشمیری اپنا حق مانگ رہے ہیں: میر واعظ
خبراردو:
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے مرکزی جامع مسجد میں مسلسل دو ہفتوں کے وقفے کے بعد نماز جمعہ سے قبل بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری اوراقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے قدیم حل طلب مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے آج سے نہیں بلکہ 1931 سے یہاں کے عوام مال و جان کی قربانیاں پیش کررہے ہیں اور1947 کے بعد سے جب بھارت اور پاکستان کی صورت میں دو الگ الگ مملکتیں وجود میں آئیں تب سے جموں وکشمیر کے عوام دونوں ممالک سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے ۔ حریت(ع) چیرمین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جتنا پرانا مسئلہ ہے تب سے لوگ آتے گئے لیکن جامع مسجد کے منبر و محراب ، یہاں کے عوام کی حق و انصاف سے عبارت موقف کی بھر پور ترجمانی کا فریضہ ادا کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جامع مسجد کے منبر و محراب نے 1931سے لیکر آج تک ہر مرحلے پر یہاں کے عوام کے حقوق کی ترجمانی کی بات کی ہے ۔70 سال کا عرصہ گذر گیا ہماری تنظیم کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور وہ یہ کہ مسئلہ کشمیر کو یہاں کے عوام کی رائے کے مطابق حل کیا جائے۔ یہاں کی قیادت اقتدار کی خواہاں نہیں اور ہماری لڑائی اقتدار کیلئے نہیں ، میرواعظ کا منصب ایک اسلامی اور دعوتی منصب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس منصب کا تقاضا ہے کہ حق کی بات بہ بانگ دہل کی جائے یہی وجہ ہے کہ جامع مسجد کے منبر ومحراب آج سے نہیں صدیوں سے حق کی بات کرتا رہا ہے ۔ ہماری سیاست اصولی سیاست ہے، ہماری سیاست یہاں کے عوام کے جذبات، احساسات اور امنگوں کی ترجمانی کی سیاست ہے ۔
یہاں کے عوام نے 1947 سے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور جہاں عوام نے اپنے حق کیلئے قربانی پیش کی ہے وہاں قیادت بھی قربانی پیش کرنے سے پیچھے نہیں رہی اور نہ رہے گی ۔ہم نے بار بار اس منبر و محراب سے یہ بات کہی ہے کہ ہماری لڑائی کسی مذہب یا ملک کیخلاف نہیں ، ہماری لڑائی حکومت ہندوستان کی اُن غلط پالیسیوں کیخلاف ہے جو 1947ء سے آج تک انہوں نے اس مسئلہ کو دبانے کے حوالے سے ملٹری مائٹ سے عبارت طریق کار اختیارکررکھا ہے ۔70 سال گذر گئے آج کشمیریوں کی چوتھی نسل سڑکوں پر ہے ۔ ہم1947 میں بھی یہی بات کہتے تھے آج بھی دہرا رہے ہیں۔ مہاجر ملت مولانا محمد یوسف شاہ ؒ نے بھی یہی بات کہی ، پھر میرے والد شہید ملت مولانا محمد فاروق صاحبؒ نے بھی یہی بات کہی اور 17 سال کی عمر سے جب میں نے بحیثیت میرواعظ یہ منبر و محراب سنبھالا تب سے آج تک میں بھی یہی بات دہرا رہا ہوں کیونکہ یہ بات حق و صداقت کی ہے۔میرواعظ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا یہ کہنا کہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کا مطالبہ کیا کوئی جرم ہے۔ کیا یہ بات کہنا کسی ملک کیخلاف اعلان جنگ ہے ؟ کیا یہ کہنا کہ کشمیریوں کے ساتھ بھارت اور پاکستان نے جو وعدے کئے ہیں ان کو پورا کیا جائے دہشت گردی ہے؟ 1993 میں ہم نے کل جماعتی حریت کانفرنس کی بنیاد ڈالی تاکہ مسئلہ کشمیرکا سیاسی سطح پر حل نکالنے کیلئے کوشش کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اقوام متحدہ میں او آئی سی میں غیر جانبدارتحریک (NAM) اور دیگر بین الاقوامی فورموں میں یہ بات کہی کہ مسئلہ کشمیر کو سیاسی طور حل کیا جائے ۔لیکن آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایسا ماحول تیار کیا جارہا ہے اور بدقسمتی سے بھارت کے الیکٹرانک میڈیا کا ایک حصہ یہ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ جو کوئی مسئلہ کشمیر کی بات کرے گا وہ دہشت گرد ہے یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ ہم انصاف پسند لوگ ہیں، ہم وہ لوگ ہیں جو بھارت کو ان کے وعدے یاد دلارہے ہیں ۔ وہ وعدے جو کشمیری عوام سے بھارتی پارلیمنٹ میں کئے گئے ان کی قیادت نے سرینگر کے لالچوک میں آکر کئے ، اگر ان وعدوں کی یاد دلانا دہشت گردی ہے تو میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہندوستان کی سیاست کہاں جارہی ہے، بھارت کے لوگ کہاں جارہے ہیں۔ آج ہر طرف یہ کوشش کی جارہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ختم کیا جائے ، ہندوستان کی حکومت اس مسئلہ کے حوالے سے ملٹری مائٹ ے عبارت اپروچ اختیار کئے ہوئے ہیں، لاکھوں کی تعداد میں افواج کے بل پر یہاں کے عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے پھرقانونیl اپروچ سے کوشش کی جارہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم کیا جائے، آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی بات کی گئی، فوجی کالونیاں تعمیر کرنے کی بات کی گئی اور پچھلے ایک مہینے سے یہاں کی دینی، سیاسی، سماجی تنظیموں اور شخصیات کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔ محمد یاسین ملک اور دینی مبلغ مولانا مشتاق ویری کو پبلک سیفٹی ایکٹکے تحت پابند سلاسل کیا گیا ، جماعت اسلامی کی پوری قیادت کو گرفتار کیا گیا ،اور یہ سب اس لئے کیا جارہا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر کو دبایا جائے ۔ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جو سارا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، قیادت کو دبانے کیلئے، پرانے مقدمات کے تحت گرفتاریاں کرنے کیلئے این آئی اے کے ذریعے نوٹس اجرا کرکے قیادت کو ہراساں کرنے کیلئے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ میں نے اور میرے والد نے یہ چیزیں دیکھی ہیں۔ مہاجر ملت مولانا محمد یوسف شاہ ؒ کو حق بات کہنے کی پاداش میں جلاء وطن کیا گیا ۔میرے والد کو حق کی پاداش میں شہید کیا گیا ۔تاریخی اسلامیہ سکول کو جلایا گیا، میرے چچا کو مسجد میں شہید کیا گیا ۔ اس کے بعد قدغنیں ، گرفتاریاں، نظربندیاں، جامع مسجد پر پابندیاں یہ سب حربے اور ہتھکنڈے اس لئے استعمال کئے گئے تاکہ یہاں کے عوام کی جائز آواز کو دبایا جائے۔میں حکومت ہندوستان سے کہنا چاہتا ہوں کہ میرا سب سے بڑا ا ثاثہ کشمیری عوام کی پرخلوص محبت اور حمایت ہے اور یہی میری سب سے بڑی طاقت ہے ۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ تحریک کسی ایک فرد یا جماعت کی تحریک نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کی تحریک ہے اور اس تحریک کیلئے کشمیری عوام اپنی جان، اپنی عزت اور اپنا گھر بار لٹا رہے ہیں۔
میرواعظ نے اپنے خطاب میں عوام خاص طور پر نوجوانوں سے اپیل کی کہ تاریخ کے اس نازک مرحلے پر اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور ایسی کوئی حرکت کرنے سے گریز کریں جس سے حالات کے مزید بگڑنے کا اندیشہ پیدا ہو جائے۔ ہم کو متحد رہ کر اور اتفاق و اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہے ۔ ہمارا موقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے میں نے جو بات اٹل بہاری واجپائی سے کی ،ایڈوانی سے کی ، منموہن سنگھ سے کی ، جنر ل پرویز مشرف سے کی اور پوری دنیا کی قیادت کے سامنے کی اور وہ یہ کہ مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں یا اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے یا پھر مسئلہ سے جڑے تینوں فریقوں کے درمیان ایک بامعنی مذاکراتی عمل کے ذریعے اس مسئلہ کا کوئی قابل قبول حل تلاش کیا جائے ۔میں بھارت کے ارباب اقتدار سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ سیاسی جماعتوں کے مفاد کیلئے کشمیرکو بھینٹ نہ چڑھائیں ، آج کشمیر کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ بھارت کی ظلم و جبر کی پالیسیاں ہی ہیں کہ یہاں کا نوجوان عسکریت کے راستے پر چل نکلا ہے ۔نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کیا جارہا ہے اور سیاسی مکانیت ختم کردی گئی ہے۔ تجارتی انجمنوں، سٹوڈنٹس تنظیموں، دانشوروں، سول سوسائٹی غرض ہر کسی پر پابندی ہے کہ وہ کوئی بات نہ کریں۔ آپ جمہوریت کی بات کررہے ہیں ، میں یہ کہتا ہوں کہ یہ fascism ہے، یہ مطلق العنانیت کی حد ہے کہ یہاں کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج نہیں تو کل بھارت اور پاکستان کو یہ مسئلہ حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ہم نے انتہائی نامساعد حالات اور خطرات میں بھارت اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بات چیت کے ادوار کئے اور آج عالمی برادری بھی دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل پر بات کریں ، جنگ کے بجائے میز پر آکر مسائل کا حل تلاش کریں، کشمیر کے لوگ اپنا حق مانگ رہے ہیں ، ہماری تحریک کسی کی حمایت یافتہ نہیں بلکہ یہاں کے عوام کی تحریک ہے اور جو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہاں کے نوجوان پیسوں کیلئے سڑکوں کا رخ کررہے ہیں تو میں بھارت کہتا ہوں کہ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے کروڑوں ، اربوں ر وپے کے پیکیج دیئے لیکن اس کے باوجود یہ تحریک زندہ ہے کیونکہ یہ تحریک اقتدار کی نہیں بلکہ حق و انصاف سے عبارت تحریک ہے اور آج یہاں کی پوری سیاسی ، ملی، دینی قیادت ایک ہی صف میں کھڑی ہے ۔
میرواعظ نے زندگی کے تمام مکاتب فکر سے وابستہ افراد دینی، سیاسی، تجارتی تنظیموں ، شخصیات، علمائے کرام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے ساتھ اس مرحلے پر بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا۔اس موقعے پر انہوں نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائس چرچ کی مسجدوں میں پیش آئے دہشت گردانہ واقعات جن میں درجنوں مسلمانوں کو شہیداور زخمی کیا گیا کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی سازشیں کی جارہی ہیں ۔ جناب میرواعظ نے شہید ہوئے افراد کے درجات کی بلندی اور زخمی افراد کی صحتیابی کیلئے دعا کی جبکہ اس موقعہ پر جامع مسجد کے امام حی جناب سید احمد سعید نقشبندی نے متحدہ مجلس علماء کی 12 مارچ کی پاس شدہ قرارداد کی عوام سے تائید کرائی۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا10 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا10 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان8 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
