تازہ ترین
ترال تصادم،حزب کے 2 جنگجو جاں بحق، مکان زمین بھوس ، مکمل رپورٹ
خبراردو:
جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال کے ریشی محلہ ترال کو فوج کے42RRسی آر پی ایف180بٹالین اور ایس او جی ترا ل نے علاقے میں جنگجوؤں کے موجود گی کے حوالے سے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعدسوموار کی رات ساڑے آٹھ بجے کے قریب علاقے کو سخت محاصرے میں لیاجس دوران فورسزنے کسی کو بھی محلے کے اندر یا باہر جانے کی اجازت نہیں دی اور تمام راستوں کو سیل کیا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا فورسز نے محلے میں داخل ہوتے ہی چند ایک مکانوں کی تلاشی لینے کے بعد اُسی مکان کو سخت گیرے میں لیا جس میں انہیں جنگجووں کے موجود ہونے کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی ۔
ذرائع نے بتایااس دوران فورسز نے غلام قادر نایک نامی ایک شہری کے مکان میں رہائش پزیر افراد خانہ کو باہر نکال کر مکان کی تلاشی لینی شروع کر کے جنگجوؤں مخالف آپریشن کا آغاز کیاجس کے بعد مکان میں موجود جنگجوؤں نے منگل کی صبح 3بجے فرار ہونے کی کوشش کر کے فورسز پر شدید فائرنگ کی جس دوران یہاں موجود اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان ایک خون ریز معرکہ آرائی شروع ہوئی جس میں ابتدائی طور ایک جنگجوجس نے فرار ہونے کے کوشش کی تھی مکان کے صحن میں جان بحق ہوا جبکہ دوسرا جنگجومکان کے اند سے ہی فورسز پر صبح 7بجے تک وقفے وقفے سے فائرنگ کرتا رہا جس دوران فورسز نے مکان ماٹر شلوں کی بارش کی جس دوران مکان میں آگ لگ گئی ہے جس کے نتیجے میں مکان میں موجود دوسراجنگجو جاں بحق ہوا۔ادھر پولیس نے جائے جھڑپ سے2حزب جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کی ہیں ۔پولیس نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت ادفر فیاض ولد فیاض احمد پرے ساکنہ گلشن پورہ ترال اور 19سالہ عرفان احمد راتھر ولد غلام حسن راتھر ساکنہ شریف آباد ترال کے طور کی ہے جہاں قانونی لواز مات پورے کرنے کے لئے دونوں ی نعشوں کو پولیس انٹشن ترال منتقل کیا گیا جہاں سے بعد دوپہر دونوں کی نعشوں کو لواحقین کے سپرد کیا گیا ۔
ادھر ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ میں جاں بحق جنگجو ادفر فیاض اور عرفان احمد راتھر کی نعشیں جب ان کے گھروں کو پہنچائے گئے تو یہاں کہرام مچ گیا اور لوگوں نے اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔ جبکہ شام دیر گئے تک نماز جنازوں کا سلسلہ جاری تھا ۔ اس دوران جھڑپ میں طرفین کی فائرنگ میں ایک عام شہری فاروق احمد نائیک ولد عبد لرحمان نائیک ساکنہ ترال پائین بھی گولی لگنے کے نتیجے میں زخمی ہوا ۔پولیس نے بتایا زخمی شہری کو فوری طور اسپتال منتقل کیا جہاں بعد میں اس سے ایس ایم ایچ ایس سرینگر منتقل کیاگیا جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے ۔
ادھر علاقے میں جنگجوؤں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی ترال قصبے کے شریف آباد اور بس اسٹینڈ ترال میں نوجوانوں نے فورسز پر شدید پتھراو کیا جس دوران فورسز نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسوں گیس کے درجنوں گولے داغے جس کے نتیجے میں علاقے میں افرا تفری پھیل گئی۔ادھر علاقے میں جاں بحق جنگجوؤں کی یاد میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران قصبے میں تمام دکانین بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپوٹ غائب رہنے کے ساتھ ساتھ سرکاری و غیر سرکاری دفاتر بھی بند رہے۔جاں بحق جنگجووں میں سابق حز کمانڈربرہان مظفر وانی کا پڑوسی 19سالہ عرفان احمد راتھرعرف ابو طالب ولد غلام نبی راتھر بھی شامل ہے جس نے 2سال قبل عسکریت میں شمولیت کی تھی جبکہ دوسرے جنگجوادفر فیاض ولد فیاض احمد پرے عرف ابو زرار ساکنہ گلشن پورہ گزشتہ 7ماہ سے علاقے میں سرگم تھا۔
ادھر انتظامیہ نے علاقے میں پولیس ضلع اونتی پورہ کے تحت آنے والے علاقے میں سوموار رات محاصرہ شروع ہونے کے ساتھ ہی انٹر نیٹ سروس کو معطل کر رکھا۔ادھر پولیس نے بتایا جائے جھڑپ میں مارے گئے جنگجوؤں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود ضبط کیا گیا۔پولیس نے بتایا دونوں جنگجوؤں فورسز کو کئی جنگجوؤں حملوں میں مطلوب تھے جن کے خلاف پولیس اسٹیشن میں کیس بھی درج ہیں ۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ فلحال جھڑپ کی جگہ سے جانے سے پرہز کریں ۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر22 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا22 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
