تازہ ترین
تری پورہ میں عیسیٰ چڑھا مسجدتعمیر نوکے بعد نمازیوں کے حوالے، شرپسندوں کے خلاف کسی قانونی کارروائی کانہ ہونا انتہائی افسوسناک: مولانا ارشد مدنی
National
Posted at: Apr 4 2022 6:00PM
تری پورہ میں عیسیٰ چڑھا مسجدتعمیر نوکے بعد نمازیوں کے حوالے، شرپسندوں کے خلاف کسی قانونی کارروائی کانہ ہونا انتہائی افسوسناک: مولانا ارشد مدنی
تری پورہ میں عیسیٰ چڑھا مسجدتعمیر نوکے بعد نمازیوں کے حوالے، شرپسندوں کے خلاف کسی قانونی کارروائی کانہ ہونا انتہائی افسوسناک: مولانا ارشد مدنی
نئی دہلی 4 اپریل (یو این آئی)تری پورہ میں فساد کے دوران شرپسندوں کے ذریعہ جلائی گئی عیسی چڑھا مسجد جمعیۃ علمائے ہند کی طرف سے تعمیر نو کے بعد نمازیوں کے حوالے کردی گئی ہے اور اب وہاں نماز اور تراویح کا اہتمام کیا جارہا ہے وہیں دوسری طرف مولانا ارشد مدنی نے شرپسندوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ ہونے پر افسوس کااظہار کیا ہے۔ یہ اطلاع جمعیۃ نے آج یہاں جاری ایک ریلیز دی ہے۔
جمعیۃ علمائے ہند نے تری پورہ میں نہ صرف فساد متاثرین کی دادرسی کی بلکہ جو وعدہ یا یقین دہانی کرائی گئی تھی اس کی تکمیل میں سرگرمی کے ساتھ مصروف ہے، اسی ضمن میں پنچایت درگاہ بازار کے پاس واقع عیسی چڑھا مسجدکی تعمیر نو کا کام مکمل ہو چکا ہے، اور آج اسے پنجگانہ نماز کی ادائیگی کے لئے نمازیوں کے سپرد بھی کر دیا گیا۔
اس موقع پر اپنے روعمل کا اظہارکرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ شر پسندوں کے ہاتھوں تری پورہ کی مسلم اقلیت کو جو زخم پہنچے ہیں وہ بہت گہرے ہیں یہ اسی وقت بھر سکتے ہیں کہ جب خاطیوں کو ان کے کئے کی سزامل جائے مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ تری پورہ میں خاطیوں کو سزانہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے تری پورہ کی حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ریاست کے مسلمانوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور خاطیوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرے مگر اس سلسلہ میں اب تک مایوسی ہی ہا تھ لگی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ایسے لوگوں کو اگر کھلا چھوڑ دیا گیا اور انہیں سیاسی تحفظ فراہم کیا گیا تو ان کے حوصلے مزید پڑھ سکتے ہیں اور وہ آئندہ بھی اس طرح کی مذموم حرکتوں سے ریاست میں امن و قانون کے لئے ایک مستقل خطر ہ بن سکتے ہیں۔
خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دینے کا اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک تب تک ترقی نہیں کر سکتا ہے جب تک کہ وہاں کی اقلیت کے ساتھ انصاف نہ کیا جائے کسی بھی قوم یا برادری کے خلاف امتیازی رویہ اپنا کر ملک کو ترقی کے راستہ پرنہیں ڈالا جا سکتا،انصاف کے دو پیمانے ہرگز نہیں ہو سکتے قانون سب کے لئے یکساں ہونا چاہئے، لیکن افسوس انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کر کے ملک کے امن وامان کو تباہ کرنے والے شر پسندوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے بلکہ ملک کی اقلیتوں میں مسلسل ڈرا ورخوف کا ماحول پیدا کیا جار ہا ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کے امن واستحکام کے لئے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے، تری پورہ میں جو کچھ ہوا اس کی سچائی سامنے آ چکی ہے اب تر ی پورہ سرکار کو انصاف کے تقاضوں کو پوراکرتے ہوئے ان خاطیوں کوقرارواقعی سزادینی چاہئے جنہوں نے تریپورہ کے امن وچین میں نہ صرف خلل ڈالابلکہ وہاں رہ رہے مسلمانوں کو اپنی حیوانیت اوربربریت کانشانہ بنایا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض سیاست دان اکثریت کو اقلیت کے خلاف صف آراء کرنے کے لیے مذہبی شدت پسندی کا سہارا لینے لگے ہیں تاکہ آسانی سے اقتدار حاصل کر سکیں۔مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ ہمارا اختلاف اور ہماری لڑائی کسی سیاسی پارٹی سے نہیں صرف ان طاقتوں سے ہے جنہوں نے ملک کے سیکولر قدروں کو پامال کرکے ظلم و جارحیت کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔ عوام کے ذہنوں میں طرح طرح کے غیر ضروری ایشوز اٹھا کر مذہبی جنون پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے چند برسوں کے دوران اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا آ رہا ہے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، نئے نئے تنازعہ کھڑا کر کے مسلمانوں کو نہ صرف اکسانے کی کوششیں ہورہی ہیں بلکہ انہیں کنارے لگا دینے کی منصوبہ بند شا زشیں ہو رہی ہیں، لیکن ان سب کے باوجود مسلمانوں نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ مثال ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں آگے بھی اسی طرح کا صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ 19 اکتوبر 2021 کی شب میں شر پسند عناصر نے مسلمانوں کے گھروں اور دوکانوں کو نذرآتش کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی مسجدوں میں بھی آ گ لگا دی تھیں، جس کے نتیجہ میں یہ مسجد یں پوری طرح جل کر خاکستر ہو گئی تھیں، ان میں عیسیٰ چڑھا مسجد بھی شامل تھی۔ جمعیۃ علماء ہند کا ایک نمائندہ وفدمولانا معصوم ثاقب جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء ہندکی قیادت میں جب وہاں گیا تھا تو مسلمانوں کے ساتھ مقامی ہندو برادری کے لوگوں نے بھی وفدکا گرم جوشی سے استقبال کیا تھا، پر دھان اور ممبران نے وفد کو بتایا تھا کہ مسجد کوجلانے والے باہر کے لوگ تھے اس وقت مسجد کے متولی نے وفد سے اس کی تعمیر نو کی درخواست کی تھی، اور آج خدا کا شکر ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی کوشش اور تعاون سے کچھ مزید سہولتوں کے ساتھ یہ مسجد دوبارہ تعمیر ہوچکی ہے۔ ریاست کی دیگر متاثرہ مسجدوں کی تعمیر نو یا مرمت کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی، لیکن کاغذات کی کمی اور بعض قانونی پیچیدگیوں سے یہ کام ابھی شروع نہیں ہو پایا ہے، لیکن یقین ہے کہ جلد ہی ان تمام مسجدوں کی مرمت اور تعمیر نو کا کام بھی شروع ہو جائے گا۔ جمعیۃ علماء ہند نے فساد متاثرین کو مالی مدد دینے کا اعلان بھی کیا تھا تا کہ وہ اپنا کاروبار پھر سے شروع کرسکیں، اس ضمن میں آج ساگر علاقہ میں دس دوکانداروں کو فی دوکان پچاس ہزار روپے کی مالی مددبذریعہ چیک کی شکل میں تقسیم کی گئی۔
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا5 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان1 week agoملن پردھان کی گرفتاری جمہوریت کا قتل: راہل ، کھرگے، نندی گرام میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا الزام
