جموں و کشمیر
جموں و کشمیر الیکشن: شام کے 5 بجے تک مجموعی طور پر 65.48 فیصد ووٹنگ ریکارڈ
سری نگر، جموں وکشمیر اسمبلی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے کے لئے سات اضلاع پر محیط چالیس سیٹوں پر پولنگ پر امن اور خوشگوار طریقے سے جاری ہے انہوں نے بتایا کہ پولنگ صبح کے ٹھیک سات بجے تمام 5 ہزار 60 پولنگ مراکز شروع ہوئی انہوں نے کہا کہ پولنگ مراکز پر صبح سے ہی ووٹروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئیں اسمبلی انتخابات کے اس آخری مرحلے کے لئے رائے دہندگان کی کل تعداد 39 لاکھ 18 ہزار2 سو22 ہےجن میں سے 20 لاکھ9 سو33 مرد جبکہ19 لاکھ9 ہزار1 سو30 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
حکام نے رائے دہندگان کے لئے سات اضلاع میں کل 5 ہزار 60 پولنگ مراکز قائم کئے ہیں اور ہر پولنگ مرکز پر پرزائڈنگ افسر سمیت چار اہلکاروں پر مشتمل الیکشن عملہ تعینات ہوگا اور مجموعی طور پر اس مرحلے کے لئے 20 ہزار سے زیادہ اہلکاروں پر مشتمل الیکشن عملے کو تعینات کیا گیا ہے۔
اس مرحلے میں وادی کشمیر کی جن16 نشستوں کی پولنگ ہو رہی ہے ان میں کرناہ، ترہگام، کپوارہ، لولاب، ہندوارہ، لنگیٹ، سوپور، رفیع آباد،اوڑی، بارہمولہ، گلمرگ، واگورہ – کریری، پٹن، سونہ واری، بانڈی پورہ اور گریز (ایس ٹی) شامل جبکہ صوبہ جموں میں جن 24 سیٹوں کی پولنگ ہو رہی ہے ان میں اودھم پور ویسٹ، اودھم پور ایسٹ، چنی، رام نگر (ایس سی)، بنی، بلاور، بسولی، جسروٹہ، کٹھوعہ (ایس سی)، ہیرا نگر، رام گڑھ (ایس سی)، سانبہ، وجے پور،بشنا (ایس سی)، سچیت گڑھ (ایس سی)، آر ایس پورہ، جموں سوتھ، باہو،جموں ایسٹ، نگروٹہ، جموں ویسٹ،جموں نارتھ،اکھنور (ایس سی) اور چھمب شامل ہیں۔
وادی کشمیر کی سولہ سیٹوں پر جو نمایاں امید وار قسمت آزمائی کر رہے ہیں ان میں سابق نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ، سابق وزیر تاج محی الدین، سابق وزیر اور پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون، پیپلز کانفرنس کے جنرل سکریٹری اور سابق وزیر عمران انصاری، اپنی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر غلام حسن میر، پی ڈی پی لیڈر اور سابق وزیر سید بشارت بخاری، سابق وزیر اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر چودھری محمد رمضان اور سابق رکن پارلیمان اور پی ڈی پی لیڈر فیاض احمد میر شامل ہیں۔
حکام نے جہاں پولنگ کے لئے تمام تر تیاریوں کو حتمی شکل دی ہے اور پولنگ مراکز پر ووٹروں اور الیکشن عملے کے لئے تمام تر سہولیات کو دستیاب رکھا ہے وہیں ہموار اور خوشگوار پولنگ کو یقینی بنانے کے لئے بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے کی پولنگ یکم اکتوبر کو ہو رہی ہے جبکہ پہلے اور دوسرے مرحلے کی پولنگ بالترتیب 18 اور 25 ستمبر کو ہوئی۔ ووٹوں کی گنتی 8 اکتوبر کو ہوگی۔یہ دفعہ370 کی تنسیخ کے بعد جموں و کشمیر میں ہو رہے پہلے اسمبلی انتخابات ہیں۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
