جموں و کشمیر
جموں کشمیر ہائی کورٹ کا 17 صفحات پر مشتمل فیصلہ،اپیل کندگان کادعویٰ غلط قرار
1988 میں پاکستانی پاسپورٹ پربھارت آئے ،37سال تک کشمیرمیں قیام
80سالہ شخص اور اسکی61سالہ بیوی کو ہندوستان چھوڑنا ہوگا
سرینگر:جے کے این ایس : جموں کشمیر و لداخ ہائی کورٹ نے1988 میں پاکستانی پاسپورٹ پر ہندوستان میں داخل ہونے والے اور اس کے بعد سے سری نگر میں رہنے والے ایک80 سالہ شخص اور اس کی بیوی کی دہائیوں سے جاری قانونی جنگ کو یہ کہتے ہوئے ختم کر دیا کہ جوڑے نے اپنے قیام کو طول دینے کےلئے حقائق کو چھپایا اور انہیں اب ملک چھوڑنا چاہیے۔ عدالت کا فیصلہ ک ±ل 17 صفحات پر مشتمل ہے۔جے کے این ایس کے مطابق چیف جسٹس ارون پلی اور جسٹس رجنیش اوسوال پر مشتمل جموں کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے80سالہ محمد خلیل قاضیکی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایک رٹ کورٹ کے مئی کے فیصلے کو برقرار رکھا۔80 سالہ محمد خلیل قاضی، 1945 میں سری نگر میں پیدا ہوئے تھے لیکن بچپن میں ہی پاکستان چلے گئے تھے۔ خلیل قاضی اور ان کی61 سالہ اہلیہ عارفہ قاضی نے 1989 کے ملک بدری کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ہندوستانی شہریت اور آبائی جائیداد کے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔
لیکن عدالت عالیہ نے کہا کہ ریکارڈ نے ان کے دلائل کو غلط ثابت کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ایک اسکول سر ٹیفکیٹ کا حوالہ دیا جس میں خلیل قاضی نے 1955 سے1957 تک سری نگر کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی، بنچ نے کہا کہ یہ اپیل کنندہ نمبر (محمد خلیل قاضی) کی پوری کہانی کو غلط ثابت کرتا ہے کہ سال 1948 میں پاک بھارت جنگ کی وجہ سے (وہ) پاکستان میں پھنس گئے اور 1988 تک ہندوستان واپس نہیں آ سکے۔فیصلے میں زور دیا گیا کہ یہ جوڑا قلیل مدتی ویزوں پر 1988میںہندوستان میں داخل ہوا تھا جس کی میعاد اسی سال ختم ہوگئی تھی۔ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے کہاکہ اپیل کرنے والے غیر ملکی ہیں اور درست ویزا یا دیگر درست دستاویزات کے بغیر ایک سیکنڈ کے لیے بھی ہندوستان میں نہیں رہ سکتے۔عدالت عالیہ نے اپیل کنندگان پر سسٹم میں ہیرا پھیری کرنے کا الزام لگایا۔ بنچ نے 17 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہاکہ ہمیں اپنے ذہنوں میں کوئی شک نہیں ہے کہ اپیل کنندگان نے نیک مقصد سے عدالت سے رجوع نہیں کیا ہے اور ہندوستان میں اپنے غیر قانونی قیام کو طول دینے کے لیے، ان کی طرف سے جھوٹی اور فضول کہانی گھڑائی گئی ہے۔ عدالت عالیہ کی ڈویژن بینچ نے سپریم کورٹ کے2010 کے فیصلے سمیت قانونی چارہ جوئی کے خلاف انتباہات کی حالیہ نظیروں پر بہت زیادہ جھکاو ¿ رکھا۔ بنچ نے کہاکہ اپنے مقاصد کے حصول کےلئے بے شرمی سے جھوٹ اور غیر اخلاقی ذرائع کا سہارا لیتے ہیں۔ بنچ نے کہاکہ گزشتہ 40 سالوں میں، قانونی چارہ جوئی کرنے والوں کا ایک نیا عقیدہ سامنے آیا ہے۔ اس مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو سچائی کا کوئی احترام نہیں ہے، وہ بے شرمی سے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں ، مدعی کے اس نئے عقیدے سے پیدا ہونے والے چیلنج سے نمٹنے کے لیے، عدالتوں نے نئے قوانین وضع کیے ہیں۔یہ مقدمہ 1990 سے زیر التوا ءرہا، جب جوڑے نے ایک عبوری حکم نامہ حاصل کیا جس نے مو ¿ثر طریقے سے انہیں 35 سال سے زیادہ عرصے تک سری نگر میں رہنے کی اجازت دی۔ عدالت عالیہ نے کہاکہ یہ واضح ہے کہ آج تک، اپیل کنندگان کے پاس ہندوستان میں رہنے کے لیے ویزایااجازت کی شکل میں کوئی درست دستاویز نہیں ہے۔ عدالت نے مزید کہاکہ ریکارڈ سے مزید انکشاف ہوا ہے کہ ان کی درخواست خارج ہونے کے بعد، 28 جون 2025 کے نوٹس کے ذریعے، اپیل کنندگان کو ہندوستان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔بنچ نے اپنا فیصلہ ہندوستان کے نئے نافذ کردہ امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ2025 کے تناظر میں بھی دیا، جو پرانے قوانین کو منسوخ کرتا ہے اور غیر ملکیوں کے داخلے اور قیام پر حکومتی اختیارات کو مستحکم کرتا ہے۔ بنچ نے مشاہدہ کیا کہ نئے قانون کا سیکشن 3 یہ واضح کرتا ہے کہ ہندوستان کے شہری کے علاوہ کوئی بھی شخص درست ویزا کے بغیر ہندوستان کی سرزمین میں داخل، قیام اور چھوڑ نہیں سکتا جب تک کہ اسے استثنیٰ نہ دیا جائے۔ججوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ غیر ملکیوں کو آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت صرف زندگی اور آزادی کا حق حاصل ہے، رہائش یا آباد ہونے کا حق نہیں۔ 1991 کی ایک مثال کا حوالہ دیتے ہوئے، عدالت نے کہاکہ غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کی ہندوستان میں حکومت کی طاقت مطلق اور لامحدود ہے اور آئین میں اس صوابدید پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہ اپیل کنندگان بدعنوانی کے فیصلے میں مداخلت کےلئے کوئی اچھی بنیاد بنانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں،اُن کی اپیل کوکسی بھی قابلیت سے محروم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر8 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا12 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان10 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا8 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا8 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا12 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا12 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
