جموں و کشمیر
حریت نے ہمیشہ بات چیت کی وکالت کی، تشدد سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا : میر واعظ
سری نگر، میرواعظ مولوی عمر فاروق نے جمعے کے روز کشمیر کے مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ حریت نے آنجہانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی، ڈاکٹر منموہن سنگھ اور ایل کے ایڈوانی کے ساتھ بات چیت کی اور یہ ہماری اصولی موقف رہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
میرواعظ نے امید ظاہر کی کہ انتخابات کے نتائج کے بعد یہاں کی سیاسی جماعتیں متحد ہوکر عوامی مفادات اوریہاں کے عوام کے بچے کچھے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔
ان باتوں کا اظہار میر واعظ نے نماز جمعہ سے قبل تاریخی جامع مسجد میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد ہی ریاستی حکام نے انہیں چار جمعہ کے وقفے کے بعد مرکزی جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی اور وعظ و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے کیلئے رہا کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ حکام اپنی مرضی سے انکو حراست میں رکھتے ہیں اور پھر اپنے اقدام سے مکر بھی جاتے ہیں جبکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جموںوکشمیر میں بڑے پیمانے پر سیاسی اور مذہبی رہنماوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اس خطے کیلئے امن کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور یہ ہماری کمزور ی نہیں بلکہ یہ ہمارا موقف ہے اور کشمیر ی عوام کے جذبا ت اور احساسات کی ترجمانی کے حوالے سے حریت کانفرنس نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک جموں وکشمیر کا ایک حصہ ہندوستان ، ایک حصہ پاکستان اور کچھ حصہ چین کے پاس ہے خاص طور پر 2019 کے بعد جس طرح دونوں ممالک اس ریاست پر اپنا حق جتلا رہے ہیں تب تک اس خطے کا سیاسی مستقبل غیر یقینیت کا شکار رہے گا۔ ہم اس صورتحال کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
میر واعظ مولوی عمر فاروق نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں آج کل جو ہو رہا ہے اور فلسطینی تنازع کس طرح ایک پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بن رہا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہاں کے عوام کے حقوق کو تسلیم کئے جانے کے بجائے ان کو طاقت اور فوجی قوت کے بل پر دبایا جارہا ہے جس سے ہزاروں افراد جن میں بچے ، عورتیں شامل ہیں۔
ان کے مطابق اگرچہ کشمیری عوام خود مظلومیت اور محکومیت کے شکار ہیں تاہم فلسطین اور لبنان کے عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ مصیبت اور آزمائش کی اس گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں۔
میرواعظ نے عالمی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کے دہرے معیار کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف وہاں جنگ بندی اور قیام امن کی بات کرتا ہے تو دوسری طرف تباہ کن ہتھیاروں اور دوسرے ذرائع سے اسرائیل کی بھر پور مد کررہا ہے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھ سکے۔
میرواعظ نے کہا کہ ہم اس خطے میں فلسطین جیسی صورتحال نہیں چاہتے بلکہ ہم نے بار بار ذرائع ابلاغ کے ذریعے اور دیگر ذرائع سے مسئلہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی وکالت کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ مسلم اکثریتی ریاست میں ایسے قوانین کو لایا جارہا ہے جن سے یہاں کے عوام کی مذہبی آزادی کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ربیع الاول کے مقدس مہینے میں میلاد النبی (ص) کی چھٹی کو منسوخ کرنا اور دوسرے دن چھٹی دینا اور یہاں کے عوام کے مذہبی حقوق کو طاقت اور قوت کے بل پر دبانا کسی بھی طور قبول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ رویت ہلال کا تعلق ایک دینی اور جغرافیائی مسئلہ ہے اور اس کو ہندوستان اور پاکستان کا مسئلہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ 2019 کے بعد تنظیم نو ایکٹ لاگو ہونے کے بعد یہاں کے عوام خود کو بے بس اور خوفزدہ محسوس کررہے ہیں ، انکے اختیارات کو سلب کیا گیا ہے۔ زمینوں ، نوکریوں اور جائیداد اور انکے وسائل کو چھینا جارہا ہے جس سے کہ ایک خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ لوگ بات کرنے سے بھی ڈر محسوس کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے اور ہم نے ہمیشہ اس مسئلہ کو انسانی نقطہ نظر سے دیکھنے پر زور دیا ہے۔ ہم کشمیری پنڈتوں کے مسئلہ کو بھی ایک انسانی مسئلہ سمجھتے ہیں اور ان کی باعزت واپسی کے خواہاں ہےں اور بدقسمتی سے کچھ لوگ اس انسانی مسئلہ پر بھی اپنی سیاست کے ذریعے اس مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ کشمیر میں ہو رہے حالیہ انتخابات کا مسئلہ کشمیر کے حل سے جوڑنا حقائق سے بعید ہے کیونکہ انتخابات مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یہاں کے عوام کے جذبات اور امنگوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ جموںوکشمیر میں تنظیم نو قانون کے تحت قائم ہونے والی اسمبلی کو پہلے ہی بے اختیار کردیا گیا ہے اور یو ٹی کے لیفٹیننٹ گورنر کو مزید وسیع اختیارات دیئے گئے ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ اس اہم مرحلے پر یہاں کی سیاسی تنظیموں نے جنہوں نے انتخابات میں حصہ لیا خود متحد نہیں ہوسکے اور انہوں نے قومی مفاد پر ذاتی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دی ہے جس کی وجہ سے وہ متوقع چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
میرواعظ نے امید ظاہر کی کہ انتخابات کے نتائج کے بعد یہاں کی سیاسی جماعتیں متحد ہوکر عوامی مفادات اوریہاں کے عوام کے بچے کچھے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔
یو این آئی-ارشید بٹ
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے: سنہا
سری نگر، ترنگے کو ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت بتاتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ کشمیر میں ترنگا یاترا واضح پیغام دیتی ہے کہ ملک کو کبھی نہیں رکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔
مسٹر سنہا نے قومی فخر اور اتحاد کا جشن منانے کے لیے سری نگر میں ترنگا یاترا کی قیادت کی۔ یہ یاترا دو بڑے واقعات کا سنگم تھی: ‘ہر گھر ترنگا’ عوامی تحریک اور قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی 150 ویں سالگرہ۔
اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہا کہ ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پیغام واضح ہے کہ ہندستان کو کبھی نہیں روکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “جب ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے تحت 2022 میں ‘ہر گھر ترنگا’ مہم شروع کی گئی تھی تو اس کا مقصد ہر ہندوستانی کے دل میں ترنگے سے تعلق، احترام اور جذباتی تعلق کے احساس کو پھر سے جگانا تھا۔ جذبہ، وہی عقیدہ، اور وہی عزم آج، ترنگا یاترا لوگوں کے شعور، حب الوطنی کی روایت اور ایک ثقافتی قدر کے طور پر تیار ہوئی ہے جو ہر شہری کو مادر وطن سے جوڑتی ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ مہم میں ان کی زبردست شرکت کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جوش پورے ملک کے لیے مشعل راہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا ہمارے ملک کی روح ہے اور ‘وندے ماترم’ اس روح کی لازوال آواز ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہمارے آباؤ اجداد کے تصور کردہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنے تعاون پر غور کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شہداء نے اپنے خون سے قوم کی حفاظت کی وہیں آج کی نسل کو کردار، دیانت، محنت، اتحاد اور خدمت کے ذریعے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ کا سنگم صرف دو مہمات کا امتزاج نہیں بلکہ ایک نئے دور کا اعلان ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جموں و کشمیر کے اعتماد سے بھرے اور مستقبل کی طرف مضبوطی سے آگے بڑھنے کی علامت ہے، جہاں ہر شہری کے پاس ‘وجئی وشوا ترنگا پیارا’ رہنے کا عزم ہے، جہاں ہر گھر حب الوطنی کا مرکز ہے، اور جہاں ہر دل قومی اتحاد کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کی تشکیل میں اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترنگا نہ صرف ہر گھر میں بلکہ ہمارے خیالات، ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں بھی بلند ہو۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، “آئیے یہ عزم کریں کہ ‘وندے ماترم’ کے مقدس جذبے کو ہمارے ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر ذمہ داری میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی قوم کی تعمیر کے ذریعے اپنے لازوال ہیروز کی قربانیوں کا قرض چکانے کا عزم کرنا چاہیے، جو خوشحال، محفوظ، انصاف پسند اور مساوی مواقع کے دروازے کھولے، جہاں ہمیں جموں کے ہر شہری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ترنگے کے رنگ زندگی کی قدروں میں جھلکتے ہیں جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہو اور ہندوستانی ثقافت، تہذیب اور روحانی اقدار پر غیر متزلزل فخر محسوس کرے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا2 days agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
