ہندوستان
حکومت تعلیمی اداروں میں ریزرویشن ختم کرنے کی کر رہی ہے سازش: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور او بی سی کے بچوں کے حقوق بھی چوری کر رہی ہے اور حکمت عملی کے تحت سرکاری اداروں کو بند کر کے تعلیمی نظام کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دے کر ریزرویشن ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔
کانگریس کے درج فہرست ذات کے محکمہ کے سربراہ راجندر پال گوتم، قبائلی کانگریس کے سربراہ ڈاکٹر وکرانت بھوریا اور کانگریس کے او بی سی محکمہ کے سربراہ ڈاکٹر انل جے ہند نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کانگریس ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی بچوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور عدالت سے ان کے مفاد میں جو فیصلہ آیا ہے اسے نافذ نہیں کیا جا رہا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ ملک میں آبادی بڑھ رہی ہے اور اس کے مطابق سرکاری تعلیمی اداروں میں اضافہ ہونا چاہئے لیکن ان میں اضافہ نہیں کیا جارہا۔ اس کے برعکس پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے لیکن وہاں ریزرویشن نافذ نہیں ہے، اس لیے پیسے کی کمی کی وجہ سے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے بچے وہاں نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ جب کانگریس حکومت نے قانون بنایا اور ان طبقات کے بچوں کو ریزرویشن کی سہولت ملی تو کئی لوگ عدالت گئے اور 2008 کے فیصلے میں ریزرویشن کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ پھر 2011 میں ایک اور فیصلے میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کے فیصلے کو بھی درست قرار دیا گیا۔ یہی نہیں سپریم کورٹ نے بھی 2014 میں اس قانون کو جائز بتایا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے مختلف اداروں کے ساتھ بات چیت کی جس میں انکشاف ہوا کہ نجی تعلیمی اداروں میں درج فہرست ذات کے صرف 0.89 فیصد، درج فہرست قبائل کے 0.53 فیصد اور او بی سی کے 11.16 فیصد طلباء ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ان کلاسوں کے بچوں کے لیے جلد از جلد ریزرویشن نافذ کیا جائے اور کمزور طبقات کے طلبہ کے لیے مفت کوچنگ کا انتظام کیا جائے۔
مسٹر بھوریا نے کہا کہ بابا صاحب نے سماجی مساوات کے لیے ووٹ کے حق اور ریزرویشن کی بات کی تھی لیکن بی جے پی ان دونوں حقوق کو چرا رہی ہے۔ ایک سازش کے تحت سرکاری تعلیمی اداروں کو بتدریج بند کرکے نظام تعلیم کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے بہوجن سماج کی 90 فیصد آبادی کو نجی تعلیمی اداروں میں صرف 12 فیصد جگہیں مل رہی ہیں، وہیں پارلیمانی کمیٹی نے کہا ہے کہ پرائیویٹ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایس سی کو 15 فیصد، ایس ٹی کو 7.5 فیصد اور او بی سی کو 27 فیصد نمائندگی ملنی چاہئے۔
ڈاکٹر جے ہند نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی کانگریس حکومت کی طرف سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے بنائے گئے قانون پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو نافذ کیا جانا چاہیے لیکن مودی حکومت 11 سال سے اس پر کنڈلی مارکر بیٹھی ہوئی ہے۔ مسٹر مودی اپنے آپ کو او بی سی کہتے ہیں لیکن اس طبقے کو ان 11 سالوں میں اتنا نقصان کبھی نہیں اٹھانا پڑا۔ یہی نہیں نریندر مودی 2017 سے اب تک کریمی لیئر پر بھی نظر ثانی نہیں کر سکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ذات کی بنیاد پر مردم شماری کے عمل پر سرگرم نظر نہیں آتی اور نہ ہی اس کے لیے کوئی روڈ میپ بنا رہی ہے۔ حکومت اس کے بارے میں بات بھی نہیں کر رہی ہے اور اگر کوئی ذات پات کی مردم شماری کی بات کرتا ہے تو اس پر ’اربن نکسل‘ کا لیبل لگا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منڈل کمیشن کی 40 سفارشات تھیں جن میں سے صرف دو پر عمل کیا گیا، اس لیے بقیہ 38 مطالبات کو بھی نافذ کیا جانا چاہیے۔یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا11 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر7 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا11 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا11 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا10 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان9 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا7 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
