ہندوستان
حکومت نے 30 کروڑ بیمہ ہولڈرز کی رقم کا غلط استعمال کر کے اڈانی کو فائدہ پہنچایا: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت نے سرکاری شعبے کی بیمہ کمپنی، لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا(ایل آئی سی) میں پالیسی ہولڈرز کے پیسے کے غلط استعمال کے لیے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی ہے اور غیر قانونی طریقے سے صنعت کار اڈانی کو فائدہ پہنچانے کا کام کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ میڈیا میں حال ہی میں کچھ تشویش ناک انکشافات سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے ایل آئی سی اور اس کے 30 کروڑ پالیسی ہولڈرز کی بچت کا منظم انداز میں غلط استعمال کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک اندرونی دستاویز کے مطابق، سرکاری حکام نے گزشتہ مئی میں ایک تجویز تیار کی اور اسے آگے بڑھایا، جس کے تحت ایل آئی سی کی تقریباً 34,000 کروڑ روپےرقم اڈانی گروپ کی مختلف کمپنیوں میں لگائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد ’’اڈانی گروپ پر اعتماد کا اظہار کرنا‘‘ اور ’’دیگر سرمایہ کاروں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا‘‘ تھا۔
کانگریس نے سوال اٹھایا کہ آخر وزارتِ خزانہ اور نیتی آیوگ کے حکام پر کس کا دباؤ تھا جس کے تحت انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کا کام ایک ایسی نجی کمپنی کو بچانا ہے جو سنگین مجرمانہ الزامات کی وجہ سے مالی بحران کا شکار ہے؟ انہیں فہرست بند کمپنی ایل آئی سی کو سرمایہ کاری کرنے کی ہدایت دینے کا حق کس نے دیا؟ کیا یہ ’موبائل فون بینکنگ‘ جیسا ہی معاملہ نہیں ہے؟
مسٹر رمیش نے صنعت کار اڈانی کے بارے میں تفصیل سے بتایا کہ جب 21 ستمبر 2024 کو گوتم اڈانی اور ان کے سات ساتھیوں پر امریکہ میں فردِ جرم عائد کی گئی، تو صرف چار گھنٹے کی ٹریڈنگ میں ہی ایل آئی سی کو 920 ارب ڈالر یعنی 7,850 کروڑ روپے کا بڑا نقصان ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی سرمائے کو من پسند کارپوریٹ گھرانوں پر لٹانے کی کتنی بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اڈانی پر ہندوستان میں مہنگے سولر انرجی ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے 2,000 کروڑ روپے کی رشوت اسکیم بنانے کا الزام ہے۔ مودی حکومت تقریباً ایک سال سے وزیراعظم نریندر مودی کے اس قریبی دوست کے خلاف امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے طلبی نوٹس کو آگے بڑھانے سے انکار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’مودانی میگا گھپلہ انتہائی وسیع ہے اور اس میں ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس جیسے اداروں کا غلط استعمال شامل ہے، تاکہ دیگر نجی کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ اپنی جائیدادیں اڈانی گروپ کو بیچ دیں۔ ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں جیسے اہم انفراسٹرکچر وسائل کی جانبدارانہ نجکاری کی گئی تاکہ اس کا فائدہ صرف اڈانی گروپ کو ہو۔
سفارتی ذرائع کا غلط استعمال کر کے مختلف ممالک، خاص طور پرہندوستان کے ہمسایہ ممالک میں، اڈانی گروپ کو ٹھیکے دلائے گئے۔ اڈانی کے قریبی ساتھی ناصر علی شعبان اہلی اور چانگ چونگ لِنگ نے شیل کمپنیوں کے منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے کوئلے کی درآمد میں اوور انوائسنگ کی، جس کی وجہ سے گجرات میں اڈانی پاور اسٹیشنوں سے بجلی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر میں غیر معمولی طور پر زیادہ قیمتوں پر انتخابات سے قبل بجلی سپلائی معاہدے کیے گئے اور ریاست بہار میں ایک پاور پلانٹ کے لیے زمین محض ایک روپے فی ایکڑ کے حساب سے الاٹ کی گئی۔‘‘
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج کا کہنا ہے کہ اس پورے میگا گھپلے کی تحقیقات صرف پارلیمنٹ کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) ہی کر سکتی ہے۔ ابتدائی قدم کے طور پر، پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کو اس کی مکمل جانچ کرنی چاہیے کہ ایل آئی سی کو اڈانی گروپ میں سرمایہ کاری پر کس طرح مجبور کیا گیا۔ یہ معاملہ پوری طرح اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
یو این آئی- م ک۔ایف اے
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
