تازہ ترین
دفعہ370بی جے پی کا تاریخی فیصلے سے کشمیر میں علحیدگی پسندی اور دہشت گردی ختم
سابق وزرائے اعلیٰ کو جیل بیجنے پر کشمیری لوگوں نے خوشیاں منائی
پی ڈی پی، این سی لیڈران جیل باہر آنے کے موڈ میں ہیں:سنیل کمار شرما
کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار
سرینگر: بی جے پی نے ایک بڑے اور تاریخی فیصلہ کے تحت” دفعہ 370″ کو منسوخ کرکے کشمیر میں علحیدگی پسندی اور دہشت گردی کا خاطمہ کیا کیونکہ اسی دفعہ کی وجہ سے کشمیر معاملہ کو ایک متنازعہ صورت دینے کی کوشش کی گئی تھی اور کشمیر کے لوگوں کو اسی لفظ کے ذریعے کئی دہاؤں سے دھوکہ دیاگیا، جبکہ کشمیری سیاسی لیڈران جو دفعہ 370 کو ایک بڑے ہتھیار کے بطور استعمال کرکے کشمیریوں کو گمراہ کرتے آئے ہیں،جوآج سلاخو ں کے پیچھے ہیں جبکہ کورہ لیڈان کو بند رکھنے پر کشمیر کے لوگ بہت خوش ہیں۔
محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے اعلی لیڈران جیل میں بلکل آرام سے ہیں اور وہ باہر آنے کے موڈ میں نہیں ہے۔نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں صرف پتھر بازی دہشت گردی اور افرا تفری کو فروغ دینے تک محدود ہیں،جبکہ کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار ہے جبکہ عمر عبد اللہ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیکر پاکسان کی وکالت کرتا ہے تو پھر ان لوگوں کو پاکستان جانا چاہئے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق ان باتوں کا اظہار بی جے پی کے سابق وزیر اور کشمیر امور کے انچارج سنیل کمار شرما نے کے این ایس میڈیا گروپ کے سربراہ کے ساتھ ایک انٹریو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ بیروکریسی کی ناہلی تینوں خطوں کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی روکاوٹ بنی ہے، اور بیروکریٹوں کی غیر تسلی اور غیر اطمنان بخش کارکردگی کی وجہ سے جموں کشمیر کے لوگ مشکلات کے بھنور میں ہے جس کے لئے اب پورے سسٹم کی اورہالنگ ناگزیر بن گئی ہے۔سنیل شرما نے کہا علحیدگی پسندی اور انتہا پسندی کی وجہ سے ہی کشمیر میں لمبے عرصے سے حالات انتہائی ناساز گاررہے ہیں، جس دوران بے گناہ لوگوں کا خون بہا اور کشمیری پنڈتوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ترک سکونت اختیار کرنی پڑی اور یہ سب کچھ پاکستان کے اشارے پر ہوا،جبکہ بدقسمتی سے اس پورے منصوبے میں کشمیر میں کچھ لوگوں نے اپنی کرسی بچانے کیلئے امن کے دشمنوں کا ساتھ دیا۔
انہوں نے مین سڑریم جماعتوں کے ساتھ ساتھ سماجی انجمنوں اور دوسرے کئی لوگوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے اس خطے میں صورت حال کو بگڑانے کیلئے آگ اور تیل کا کام کرکے کشمیر کو تباہی کے دہنانے پر آ کھڑا کرکے لوگوں کو مشکلات میں دھکیل دیا۔جس دوران مزکورہ لوگوں نے صورت حال کو امن بنانے اور پٹری پر لانے کیلئے کھبی کوئی کوشش نہیں کی، تاہم انہوں نے دعوا کیا کہ ہندستانی عوام,بی جے پی جماعت اور وزیر عظم نریندر مودی جموں کشمیر کے لوگوں کے پیچھے ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑا ہوئے ہیں۔
سابق بی جے پی کشمیر امور کے انچارج نے بتایا جس کے بعد اب کشمیر کے لوگوں کو یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مودی جی جموں کشمیر کے لوگوں کو علحیدگی پسندی اور دہشت گردی کے نظام سے آزاد کریں گے اور اس پورے معاملے پر انکی جماعت کمر بستہ ہے۔ایک سوال میں کہ کہ بی جے پی اور وزیر عظم نریندر مودی کشمیر کے لوگوں کو کسی قسم کی راحت دینے میں کامیاب ہوئے ہیں کے جواب میں سنیل شرما نے کہا کہ سال 2014 میں نریندر مودی نے کشمیر کی ایک سیاسی پارٹی”پی ڈی پی ” کے ساتھ ہاتھ ملایا جس کے بعد ایک مخلوط سرکار بھی وجود میں آگئی تاہم بدقسمتی سے پی ڈی پی نے انکا ساتھ نہیں دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی پنچائتی انتخابات منعقد کرانے کے راستے میں سب سے بڑی روکارٹ بنے کے ساتھ ساتھ تعمیر و ترقی کے معاملے پرسابق حکومتوں کی نقش قدم پر چل پڑی،جس دوران مزکورہ پارٹی نے کشمیر اور جموں کے درمیان ایک خلا پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔انہوں نے بتایاتاہم بعد میں نریندر مودی جی اور بی جے پی نے لوگوں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر مخلوط سرکار سے اپنی حمایت واپس لی اور اس عمل کے بعد آپ دیکھ رہے ہیں کہ تینوں خطوں میں کس طرح تعمیر ترقی میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی نے ایک بڑے اور تاریخی فیصلہ کے تحت دفعہ 370 کو منسوخ کرکے کشمیر میں علحیدگی پسندی کا خاطمہ کیا کیونکہ اسی دفعہ کی وجہ سے کشمیر معاملہ کو ایک متنازع صورت دینے کی کوشش کی گئی اور کشمیر کے نوجوانوں کو اسی لفظ کے زریعہ سے کئی دہاؤں سے گمراہ کیا گیا۔
بی جے پی لیڈر کا کہنا تھا وہ سیاسی لیڈران جو دفعہ 370 کو ایک بڑے ہتھیار کے بطور استمعال کرکے کشمیریوں کو گمراہ کرتے آئے، آج وہ سلاخوں کے پیچھے جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔جس پر کشم،یری عوام بہت خوش نظر آ رہے ہیں۔.ایک سوال کے جواب میں بی جے پی کے سینئر لیڈر نے بتایا کہ مفتی محمد سید قدآدر سیاسی شخصیات میں شامل ہوتے تھے اور انکی سیاسی بصیرت اور قد کو دیکھ کر ہی بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا تاہم بدقسمتی سے مفتی صاحب اس دنیا سے کوچ کرگئے اور اسکے بعد انکی بیٹی نے کمانڈ سنبھالی جبکہ ریاست کے معاملات کو سمجھنے میں ہمیں مکمل طور 3 برس لگے۔
جب سنیل شرما سے یہ پوچھا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کو دو یونین ٹریٹریز میں تبدیل کرنے کا معاملہ بی جے پی کے منشور میں نہیں تھا،تو پھر ایسا فیصلہ کیوں لیا گیا تو انہوں نے کہا اتنے بڑے سوال کا جواب دینا ان کیحد اختیار سے باہر ہے۔اس دوران سنیل شرما نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اگرچہ یونین ٹرٹریز کا قیام عمل میں لانا ہمارے منشور میں نہیں تھا،لیکن جموں کشمیر کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر مرکزی سرکار نے یہ فیصلہ لیا اور اس پوری عمل میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور ایلیٹ کلاس کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھاجس کے بعد ہی یہ فیصلہ لیا گیا۔
جبکہ اس پوری عمل کو انجام دینے سے پہلے زمینی سطح پر ہوم ورک کی گئی تھی۔ کشمیر میں حالات کو مکمل طور پر پٹری پر لانے کیلئے بی جے پی کے رول کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سنیل شرما نے کہا کہ مجموعی طور کشمیر کے لوگ امن اور تعمیر و ترقی کے خواں ہیں اور صرف 5سے10 فیصدی غرض مند لوگ جن کو پاکستان کے ساتھ روابط ہیں کشمیر کی 90 فیصدی آبادی کو یرغمال بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں تاہم سنیل شرما نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کو مودی جی پر یہ بھروسہ ہے، کہ وہ اس خطے میں امن کی فضا قائم کریں گے اور مستقبل قریب میں آپ دیکھو گے کہ کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا.نا اہل بروکریسی کو ریاست کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی روکاوٹ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ غیر تسلی اور غیر اطمنان بخش کارکردگی کی وجہ سے جموں کشمیر کے لوگ مشکلات کے بھنور پھنسے ہوئے ہیں جس کے لئے پورے سسٹم کی اورہالنگ ناگزیر بن گئی ہے مسٹر سنیل شرما نے کہا ایک طرف سابقہ حکومتوں نے تعمیر و ترقی کے نام پر کشمیر کے وسائل کو لوٹا وہی دوسری جانب بدقسمتی سے بیروکریسی کشمیر میں خود کو ایک متبادل سیاسی شراکت دار سمجھنے لگی ہیں اور اگر بیروکریٹوں نے میرٹ پر اوردیانت داری سے کام کیا ہوتا تو آج لوگ شدید مشکلات سے دوچار نہیں ہوتے،کشمیر کاڈر کی بیروکریسی کی کارکردگی اور اعتباریت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ نومبر 2005 میں مودی جی نے جموں اور کشمیر کیلئے 80 ہزار کروڑ روپئے کے پیکیج کا اعلان کیا لیکن بیروکریٹوں کی نااہلی کی وجہ سے اس رقم کو مقررہ وقت میں خرچ نہیں کیاگیاجس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبوں کا گراف نیچے آ گیا۔
ریاستی اسمبلی میں سابق وزیر اعلی کے اس بیان کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس ایشو کو اکنامک پیکیج سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے کے رد عمل میں سنیل شرما نے کہا کہ یہی وہ سیاست دان ہیں جنہوں نے کشمیر میں آگ لگا دی اور کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر عبد اللہ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیکر پاکسان کی وکالت کرتا ہے تو پھر ان لوگوں کو پاکستان جانا چاہئے،تاہم بی جے پی لیڈر نے کہا مودی جی اور بی جے پی نے سابق وزرائے اعلی کو جیل بیج کر لوگوں کی خواہش پوری کی ہے کیونکہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انکے جیل جانے سے کشمیری لوگوں میں خوشی لہر دوڑ پڑی ہے۔اور انکیحق میں ایک بھی شخص احتجاج پر نہیں نکلا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ اگر کسی نے دفعہ 370 کے ہاتھ لگایا تو اسکا پورا جسم جل جائے گا لیکن پھر کیا ہوا اور اب وہ لوگوں کو کیا بولے گے.
انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے اعلی لیڈران جیل میں بلکل آرام سے ہیں اور وہ باہر آنے کے موڈ میں نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سیاسی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں صرف پتھر بازی.دہشت گردی اور افراتفری کو فروغ دینا ہے.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلمنٹ میں بتایا کہ جب جموں کشمیر میں حالات ٹھیک ہوجائے گے تو ریاست کا درجہ واپس مل جائے گا(ای ٹی وی)
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا7 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان5 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر3 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا8 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا7 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان5 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
