تازہ ترین
دفعہ370بی جے پی کا تاریخی فیصلے سے کشمیر میں علحیدگی پسندی اور دہشت گردی ختم
سابق وزرائے اعلیٰ کو جیل بیجنے پر کشمیری لوگوں نے خوشیاں منائی
پی ڈی پی، این سی لیڈران جیل باہر آنے کے موڈ میں ہیں:سنیل کمار شرما
کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار
سرینگر: بی جے پی نے ایک بڑے اور تاریخی فیصلہ کے تحت” دفعہ 370″ کو منسوخ کرکے کشمیر میں علحیدگی پسندی اور دہشت گردی کا خاطمہ کیا کیونکہ اسی دفعہ کی وجہ سے کشمیر معاملہ کو ایک متنازعہ صورت دینے کی کوشش کی گئی تھی اور کشمیر کے لوگوں کو اسی لفظ کے ذریعے کئی دہاؤں سے دھوکہ دیاگیا، جبکہ کشمیری سیاسی لیڈران جو دفعہ 370 کو ایک بڑے ہتھیار کے بطور استعمال کرکے کشمیریوں کو گمراہ کرتے آئے ہیں،جوآج سلاخو ں کے پیچھے ہیں جبکہ کورہ لیڈان کو بند رکھنے پر کشمیر کے لوگ بہت خوش ہیں۔
محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے اعلی لیڈران جیل میں بلکل آرام سے ہیں اور وہ باہر آنے کے موڈ میں نہیں ہے۔نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں صرف پتھر بازی دہشت گردی اور افرا تفری کو فروغ دینے تک محدود ہیں،جبکہ کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار ہے جبکہ عمر عبد اللہ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیکر پاکسان کی وکالت کرتا ہے تو پھر ان لوگوں کو پاکستان جانا چاہئے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق ان باتوں کا اظہار بی جے پی کے سابق وزیر اور کشمیر امور کے انچارج سنیل کمار شرما نے کے این ایس میڈیا گروپ کے سربراہ کے ساتھ ایک انٹریو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ بیروکریسی کی ناہلی تینوں خطوں کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی روکاوٹ بنی ہے، اور بیروکریٹوں کی غیر تسلی اور غیر اطمنان بخش کارکردگی کی وجہ سے جموں کشمیر کے لوگ مشکلات کے بھنور میں ہے جس کے لئے اب پورے سسٹم کی اورہالنگ ناگزیر بن گئی ہے۔سنیل شرما نے کہا علحیدگی پسندی اور انتہا پسندی کی وجہ سے ہی کشمیر میں لمبے عرصے سے حالات انتہائی ناساز گاررہے ہیں، جس دوران بے گناہ لوگوں کا خون بہا اور کشمیری پنڈتوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ترک سکونت اختیار کرنی پڑی اور یہ سب کچھ پاکستان کے اشارے پر ہوا،جبکہ بدقسمتی سے اس پورے منصوبے میں کشمیر میں کچھ لوگوں نے اپنی کرسی بچانے کیلئے امن کے دشمنوں کا ساتھ دیا۔
انہوں نے مین سڑریم جماعتوں کے ساتھ ساتھ سماجی انجمنوں اور دوسرے کئی لوگوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے اس خطے میں صورت حال کو بگڑانے کیلئے آگ اور تیل کا کام کرکے کشمیر کو تباہی کے دہنانے پر آ کھڑا کرکے لوگوں کو مشکلات میں دھکیل دیا۔جس دوران مزکورہ لوگوں نے صورت حال کو امن بنانے اور پٹری پر لانے کیلئے کھبی کوئی کوشش نہیں کی، تاہم انہوں نے دعوا کیا کہ ہندستانی عوام,بی جے پی جماعت اور وزیر عظم نریندر مودی جموں کشمیر کے لوگوں کے پیچھے ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑا ہوئے ہیں۔
سابق بی جے پی کشمیر امور کے انچارج نے بتایا جس کے بعد اب کشمیر کے لوگوں کو یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مودی جی جموں کشمیر کے لوگوں کو علحیدگی پسندی اور دہشت گردی کے نظام سے آزاد کریں گے اور اس پورے معاملے پر انکی جماعت کمر بستہ ہے۔ایک سوال میں کہ کہ بی جے پی اور وزیر عظم نریندر مودی کشمیر کے لوگوں کو کسی قسم کی راحت دینے میں کامیاب ہوئے ہیں کے جواب میں سنیل شرما نے کہا کہ سال 2014 میں نریندر مودی نے کشمیر کی ایک سیاسی پارٹی”پی ڈی پی ” کے ساتھ ہاتھ ملایا جس کے بعد ایک مخلوط سرکار بھی وجود میں آگئی تاہم بدقسمتی سے پی ڈی پی نے انکا ساتھ نہیں دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی پنچائتی انتخابات منعقد کرانے کے راستے میں سب سے بڑی روکارٹ بنے کے ساتھ ساتھ تعمیر و ترقی کے معاملے پرسابق حکومتوں کی نقش قدم پر چل پڑی،جس دوران مزکورہ پارٹی نے کشمیر اور جموں کے درمیان ایک خلا پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔انہوں نے بتایاتاہم بعد میں نریندر مودی جی اور بی جے پی نے لوگوں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر مخلوط سرکار سے اپنی حمایت واپس لی اور اس عمل کے بعد آپ دیکھ رہے ہیں کہ تینوں خطوں میں کس طرح تعمیر ترقی میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی نے ایک بڑے اور تاریخی فیصلہ کے تحت دفعہ 370 کو منسوخ کرکے کشمیر میں علحیدگی پسندی کا خاطمہ کیا کیونکہ اسی دفعہ کی وجہ سے کشمیر معاملہ کو ایک متنازع صورت دینے کی کوشش کی گئی اور کشمیر کے نوجوانوں کو اسی لفظ کے زریعہ سے کئی دہاؤں سے گمراہ کیا گیا۔
بی جے پی لیڈر کا کہنا تھا وہ سیاسی لیڈران جو دفعہ 370 کو ایک بڑے ہتھیار کے بطور استمعال کرکے کشمیریوں کو گمراہ کرتے آئے، آج وہ سلاخوں کے پیچھے جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔جس پر کشم،یری عوام بہت خوش نظر آ رہے ہیں۔.ایک سوال کے جواب میں بی جے پی کے سینئر لیڈر نے بتایا کہ مفتی محمد سید قدآدر سیاسی شخصیات میں شامل ہوتے تھے اور انکی سیاسی بصیرت اور قد کو دیکھ کر ہی بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا تاہم بدقسمتی سے مفتی صاحب اس دنیا سے کوچ کرگئے اور اسکے بعد انکی بیٹی نے کمانڈ سنبھالی جبکہ ریاست کے معاملات کو سمجھنے میں ہمیں مکمل طور 3 برس لگے۔
جب سنیل شرما سے یہ پوچھا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کو دو یونین ٹریٹریز میں تبدیل کرنے کا معاملہ بی جے پی کے منشور میں نہیں تھا،تو پھر ایسا فیصلہ کیوں لیا گیا تو انہوں نے کہا اتنے بڑے سوال کا جواب دینا ان کیحد اختیار سے باہر ہے۔اس دوران سنیل شرما نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اگرچہ یونین ٹرٹریز کا قیام عمل میں لانا ہمارے منشور میں نہیں تھا،لیکن جموں کشمیر کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر مرکزی سرکار نے یہ فیصلہ لیا اور اس پوری عمل میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور ایلیٹ کلاس کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھاجس کے بعد ہی یہ فیصلہ لیا گیا۔
جبکہ اس پوری عمل کو انجام دینے سے پہلے زمینی سطح پر ہوم ورک کی گئی تھی۔ کشمیر میں حالات کو مکمل طور پر پٹری پر لانے کیلئے بی جے پی کے رول کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سنیل شرما نے کہا کہ مجموعی طور کشمیر کے لوگ امن اور تعمیر و ترقی کے خواں ہیں اور صرف 5سے10 فیصدی غرض مند لوگ جن کو پاکستان کے ساتھ روابط ہیں کشمیر کی 90 فیصدی آبادی کو یرغمال بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں تاہم سنیل شرما نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کو مودی جی پر یہ بھروسہ ہے، کہ وہ اس خطے میں امن کی فضا قائم کریں گے اور مستقبل قریب میں آپ دیکھو گے کہ کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا.نا اہل بروکریسی کو ریاست کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی روکاوٹ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ غیر تسلی اور غیر اطمنان بخش کارکردگی کی وجہ سے جموں کشمیر کے لوگ مشکلات کے بھنور پھنسے ہوئے ہیں جس کے لئے پورے سسٹم کی اورہالنگ ناگزیر بن گئی ہے مسٹر سنیل شرما نے کہا ایک طرف سابقہ حکومتوں نے تعمیر و ترقی کے نام پر کشمیر کے وسائل کو لوٹا وہی دوسری جانب بدقسمتی سے بیروکریسی کشمیر میں خود کو ایک متبادل سیاسی شراکت دار سمجھنے لگی ہیں اور اگر بیروکریٹوں نے میرٹ پر اوردیانت داری سے کام کیا ہوتا تو آج لوگ شدید مشکلات سے دوچار نہیں ہوتے،کشمیر کاڈر کی بیروکریسی کی کارکردگی اور اعتباریت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ نومبر 2005 میں مودی جی نے جموں اور کشمیر کیلئے 80 ہزار کروڑ روپئے کے پیکیج کا اعلان کیا لیکن بیروکریٹوں کی نااہلی کی وجہ سے اس رقم کو مقررہ وقت میں خرچ نہیں کیاگیاجس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبوں کا گراف نیچے آ گیا۔
ریاستی اسمبلی میں سابق وزیر اعلی کے اس بیان کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس ایشو کو اکنامک پیکیج سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے کے رد عمل میں سنیل شرما نے کہا کہ یہی وہ سیاست دان ہیں جنہوں نے کشمیر میں آگ لگا دی اور کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر عبد اللہ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیکر پاکسان کی وکالت کرتا ہے تو پھر ان لوگوں کو پاکستان جانا چاہئے،تاہم بی جے پی لیڈر نے کہا مودی جی اور بی جے پی نے سابق وزرائے اعلی کو جیل بیج کر لوگوں کی خواہش پوری کی ہے کیونکہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انکے جیل جانے سے کشمیری لوگوں میں خوشی لہر دوڑ پڑی ہے۔اور انکیحق میں ایک بھی شخص احتجاج پر نہیں نکلا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ اگر کسی نے دفعہ 370 کے ہاتھ لگایا تو اسکا پورا جسم جل جائے گا لیکن پھر کیا ہوا اور اب وہ لوگوں کو کیا بولے گے.
انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے اعلی لیڈران جیل میں بلکل آرام سے ہیں اور وہ باہر آنے کے موڈ میں نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سیاسی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں صرف پتھر بازی.دہشت گردی اور افراتفری کو فروغ دینا ہے.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلمنٹ میں بتایا کہ جب جموں کشمیر میں حالات ٹھیک ہوجائے گے تو ریاست کا درجہ واپس مل جائے گا(ای ٹی وی)
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
