تازہ ترین
دہلی ایمز میں تعینات کشمیری ڈاکٹر کا قابل فخر وقابل سلام کار نامہ
دہلی میں واقع آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمز) میں تعینات کشمیر ی ڈاکٹر،زاہد نے قابل فخر وستائش کار نامہ انجام دیا۔انہوں نے اپنی جان جو کھم میں ڈالکر کورونا پازیٹیو مریض کی جان بچائی۔ اس وقت ڈاکٹر زاہد کوارنٹائن میں ہیں اور ایمز میں ان کے ساتھی ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ پورا ملک اُنکی سلامتی کیلئے دعائیں کررہا ہے۔سوشل میڈیا پر بھی کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے ’فرنٹ لائن ہیرو‘ کشمیری ڈاکٹر زاہدکی خوب ستائش کرکے سلام پیش کیا جارہا ہے۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق ہندوستان میں کورونا پازیٹو معاملوں کی تعداد تقریباً 60 ہزار ہو گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں 3320نئے معاملے سامنے آئے اور95 اموات ہوئیں۔
اس بیچ کورونا جنگ کے خلاف فرنٹ لائن جنگجو اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالکر مریضوں کی جان بچانے کیلئے کوئی موقع نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق دہلی میں واقع آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمز) کے جلسہ گاہ میں جب ڈاکٹر زاہد نے قدم رکھا تو ساتھی ڈاکٹروں نے تالی بجا کر ان کا استقبال کیا۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے اور رمضان کے اس مہینے میں پابندی سے روزہ رکھ رہے،ڈاکٹر زاہد نے کارنامہ ہی کچھ ایسا انجام دیا تھا کہ صرف ڈاکٹر طبقہ ہی نہیں بلکہ پورا ہندوستان ان کے حوصلے کی تعریف کر رہا ہے۔
انہوں نے کورونا کے ایک مریض کو بچانے کیلئے اپنی جان جوکھم میں ڈال دی، اور اب سبھی دعائیں کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر زاہد کورونا کی زد میں نہ آئے ہوں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دراصل ایمبولنس میں سوار ایمز پہنچے وینٹی لیٹر پر پڑے ایک کورونا پازیٹو مریض کے ساتھ کچھ مسائل تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وینٹی لیٹر صحیح سے لگا ہوا نہیں ہے۔
انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں ریزیڈنٹ ڈاکٹر کے طور پر کام کرنے والے ڈاکٹر زاہد پی پی ای (پرسنل پروٹیکشن ایکوئپمنٹ) یعنی طبی حفاظتی لباس پہنے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ ایمبولنس میں مریض کی صورت حال کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہے تھے۔ ایسے مشکل وقت میں انہوں نے فیس شیلڈ اور چشمہ ہٹا کر مریض کو وینٹی لیٹر کا ٹیوب لگایا، اس وقت مریض کی حالت مستحکم ہے لیکن ڈاکٹر زاہد کو کوارنٹائن میں رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر زاہد نے اس پورے واقعہ کے بعد بتایا کہ ’جمعرات کی رات تقریباً اڑھائی بجے 40 سالہ کورونا مریض کو سنگین حالت میں لایا گیا تھا، میں نے پی پی ای کٹ پہنی ہوئی تھی اور فیس شیلڈ اور چشمہ کے اندر فاگنگ زیادہ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ٹھیک سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مریض کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا اور میں نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں فیصلہ لیا۔‘
ان کی اس بہادری والے عمل کی تعریف ایمزکے فیکلٹی اور ساتھی ڈاکٹر دل کھول کر رہے ہیں۔ کورونا کے خلاف جنگ میں وہ ایک سچے ’واریر‘ یعنی جنگجو بتائے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر زاہد کا کہنا ہے کہ ’انفیکشن کا ڈر ہمیشہ رہتا ہے، ڈاکٹر کے طور پر ہم مریضوں کی جان بچانے کا حلف لیتے ہیں اور کبھی اس ذمہ داری سے بھاگا نہیں جا سکتا‘۔محمد زاہد کے ایک معاون ہرجیت سنگھ بھٹی نے اس پورے واقعہ کے تعلق سے اپنے ٹوئٹر پر جانکاری شیئر کی ہے۔
انہوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’ڈاکٹر زاہد ایمز دہلی میں ڈی ایم کریٹیکل کیئر ڈاکٹر ہیں۔انہوں نے اس وقت غیر معمولی بہادری اور خودسپردگی کا مظاہرہ کیا جب ایک کووڈ۔19 پازیٹو مریض کو آئی سی یو میں منتقل کرنے کیلئے بلایا گیا۔ ڈاکٹر زاہد روزہ رکھتے ہیں اور رات وہ سحری بھی نہیں کھا پائے جب انھیں مریض کے بارے میں پتہ چلا‘۔ اپنے اگلے ٹوئٹ میں ہرجیت لکھتے ہیں کہ ’بدقسمتی سے جب زاہد ایموبلنس کے پاس پہنچے تو اس نے مریض کو سانس لینے میں تکلیف محسوس کی اور اچانک کسی حادثہ ہونے کے اندیشہ میں انہوں نے فوراً اپنا چشمہ ہٹانے کا فیصلہ لیا کیونکہ پی پی ای کی وجہ سے ایمبولنس کے اندر کچھ بھی صاف نظر نہیں آ رہا تھا‘۔ہرجیت نے ایک کے بعد ایک اس سلسلے میں 4 ٹوئٹ کیے۔
اپنے اگلے ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا ہے کہ ڈاکٹرزاہد نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ایک کورونا مریض کو موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا۔ ہرجیت نے یہ بھی لکھا ہے کہ ڈاکٹر زاہد نے فوری طور پر فیصلہ لیا اور دوبارہ اس سلسلے میں سوچا بھی نہیں کہ اس عمل سے ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔
بہر حال، اس وقت ڈاکٹر زاہد کوارنٹائن میں ہیں اور پورا ملک ان کی سلامتی کیلئے دعائیں کر رہا ہے۔ لوگ دست بہ دعا ہیں کہ اس بہادر ڈاکٹر پر کورونا کا حملہ نہ ہوا ہوتاکہ ایک بار پھر وہ کورونا کے خلاف لڑائی میں سرگرمی کے ساتھ اتر پائیں۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر10 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا14 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا14 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان12 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا10 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا14 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
