تازہ ترین
راج بھون کے ذریعے ریاست کا نقشہ بدلنے کی کوششیں ناقابل قبول : عمر عبداللہ
خبراردو:
آنے والے الیکشن میں نیشنل کانفرنس کو بھرپور طریقے سے شرکت کرنی ہے کیونکہ یہ الیکشن نہ صرف تعمیر و ترقی کیلئے ہوگا، نہ صرف نوجوانوں کے روزگار کیلئے ہوگا، نہ صرف کالے قوانین کو ہٹانے ہوگا بلکہ یہ الیکشن دفعہ35اے اور دفعہ370کے دفاع کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے رٹھسونہ بیروہ میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں آنے والے انتخابات میں زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ یہ الیکشن جتنا تعمیر و ترقی اور روزگار کا ہوگا اُتنا ہی 35اے کے دفاع اور ریاست میں دوبارہ امن اور بھائی چارے کی علم کو بلند کرنے کیلئے ہوگا۔ یہ الیکشن آر ایس ایس کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ہوگا۔ ان لوگوں نے ریاست میں زہر ڈالا ہے، چاہے وہ جموں ہو، کشمیر یا لداخ ہو۔‘‘عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’بدقسمتی سے آر ایس ایس اور ان کے آلہ کار آج بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں، یہ لوگ آج بھی کوشش کرتے ہیں کہ اس ریاست کا بٹوارہ ہو، حکومت ان کی ہے نہیں لیکن یہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح راج بھون کے ذریعے ریاست کا نقشہ بدل ڈالیں، اسی لئے ہم گورنر صاحب کو بار بار یہ یاد دلاتے ہیں کہ آپ عوام کے چُنے ہوئے نمائندہ نہیں، آپ دلی کے نمائندے ہو، یہاں جو بڑے بڑے فیصلے لینے ہونگے وہ لوگوں کے چُنے ہوئے نمائندے لیں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ 35اے کو بچانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے اضلاع بنانا، خطوں کو خصوصی مراعات دینے جیسے بڑے بڑے فیصلے آج راج بھون کے اختیار نہیں، یہ دائرہ اختیار لوگوں کے چُنے ہوئے نمائندوں کو ہوتا ہے وہ وہی لوگوں کی اُمنگوں اور احساسات کے مطابق فیصلے لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوگ بھی اب عوامی حکومت چاہتے ہیں اور اس کیلئے الیکشن جلدی ہونے چاہئیں، انتظار میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی ریاست کو فائدہ ہے۔ جموں وکشمیر کے عوام آنے والے انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی بھر پور شرکت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے پنچایتی اور بلدیاتی الیکشن نہیں لڑا اُس کی حالت آپ کے سامنے ہے، ترال کا سرپنچ جموں میں ہے، کولگام اور شوپیان کے کارپورٹر دلی میں بیٹھے ہیں۔
گورنر صاحب فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کو اُٹھانا ہے اور کس کو بٹھانا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی عدم شرکت سے غلط لوگ سامنے آگئے، سرینگر میونسپل کونسل کا حال دیکھئے، آئے روز کچھ نہ کچھ نیا دیکھنے اور سُننے کو ملتا ہے، یہاں تک کہ ایک دوسرے کو زخمی بھی کیا جارہا ہے۔ جس دن شہر برفباری کے بعد پانی میں ڈوبا ہوا تھا یہ لوگ آپ کی لڑائی میں لگے ہوئے تھے۔ہم نہیں چاہتے ہیں کہ آنے والے الیکشن میں یہ حال ہو۔‘‘ مرکز میں براجمان بھاجپا کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں اڑچن قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’ہم اس کوشش میں ہے کہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کی مضبوط حکومت بنے اور چاہتے ہیں کہ مرکز میں بھی حکومت تبدیل ہو کیونکہ بھاجپا نے بات چیت کے تمام دروازے بند رکھے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بات چیت کی وکالت کی ہے چاہئے وہ پاکستان کیساتھ ہو یا اندرونی سطح پر۔
ہمارا موقف رہا ہے کہ بندوق کے ذریعے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘‘جموں وکشمیر میں مضبوط حکومت کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ 2008میں ہمیں کانگریس کی حمایت کی ضرورت پڑی پھر پی ڈی پی نے 2014میں بھاجپا کا ساتھ حاصل کیا اور ریاست کی حالت آج آپ کے سامنے ہے۔ ہم لنگڑی حکومت نہیں چاہتے، ہمیں اپنی حکومت چاہئے، ہم چاہتے ہیں کہ ریاست کی ایک آواز ہو اور اس آواز میں وزن ہو۔بیروہ میں تعمیر و ترقی کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ میں نے اپوزیشن میں رہ کر یہاں بحیثیت ایم ایل اے کام کیا اور میں چاہتا ہوں کہ اب حکومت میں رہ کر بھی بیروہ کی نمائندگی کروں اور اس انداز سے کروں کہ اگلے الیکشن کے وقت میرے ساتھیوں کے پاس کرنے کیلئے کوئی شکایت نہ ہو۔بہت حد تک کام کرنے کے باوجود یہاں پانی کی قلت آج بھی ہے، ہسپتال ہے لیکن ڈاکٹروں کی کمی ہے، سکول ہے لیکن عمارت نہیں بن پارہی ہے، کہیں سکول کا درجہ بڑھانا باقی رہ گیا ہے، بہت ساری سڑکوں کی تعمیر اور تارکول بچھانا ہے، بجلی کی قلت کا یہاں کے لوگوں زبردست سامنا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ حکومت میں رہ کر یہاں کے لوگوں کے یہ مشکلات دور کرسکوں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے بیروہ میں بجلی کے نظام کی بہتری کیلئے 50کروڑ کی لاگت کا پروجیکٹ منظور کروایا لیکن افسوس کی بات ہے کہ سیاسی انتقام گیری کی بنیاد پر اس پروجیکٹوں پر عدالت سے حکم امتناع لایا گیا اور سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے اس امتناع کو ختم کرنے کیلئے ذرا سی بھی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ کنونشن سے پارٹی لیڈران پروفیسر عبدالمجید متو، محمد ابراہیم میر، تنویر صادق اور یوتھ صدر بڈگام محمد اشرف نے بھی خطاب کیا۔ کنونشن میں پی ڈی پی اور کانگریس سے وابستہ متعدد عہدیداروں اور کارکنوں نے نیشنل کانفرنس میں باضابطہ طور پر شرکت کی۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا20 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان18 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا16 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا16 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر16 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا20 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
