تازہ ترین
راہل نے کہا کہ شاہ “ذہنی دباؤ” میں تھے اور ان کے پاس “ووٹ چوری” کے الزام کا کوئی جواب نہیں تھا
نئی دہلی، لوک سبھا میں “ووٹ چوری” کے الزامات سے پر اپنی تقریر کے بعد، جس پر بی جے پی لیڈر امیت شاہ کی طرف سے سخت ردعمل آیا، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو کہا کہ شاہ “بہت زیادہ ذہنی دباؤ میں تھے اور انہوں نے انتخابات کے دوران ووٹ چوری کے الزامات کے بارے میں میرے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔”
جمعرات کو پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر راہل گاندھی نے کہاکہ “(امیت شاہ) نے ناقابل قبول زبان استعمال کی، ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آپ نے دیکھا ہوگا… وہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ میں تھے، یہ کل پارلیمنٹ میں نظر آیا، پورے ملک نے اسے دیکھا”۔
اور ان سے جو کچھ میں نے کہا اس کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں کہا، انہوں نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا، میں نے انہیں براہ راست چیلنج کیا، ایک پریس کانفرنس میں ان سے کھل کر سامنے آنے کو کہا، آئیے پارلیمنٹ میں اس پر بات کریں، لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملا… آپ سب جانتے ہیں کہ سچ کیا ہے۔‘‘
ایک دن پہلے لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے، جو اپوزیشن کے لیڈر بھی ہیں، موجودہ حکومت پر ووٹ چوری کا الزام لگایا، جو ان کے خیال میں “سب سے بڑی غداری” ہے۔ انہوں نے حکومت پر ای وی ایم اور ایس آئی آر کے بارے میں شفاف نہ ہونے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کو غیر ضروری استثنیٰ دیا گیا ہے۔
ایس آئی آر پر حکومت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے اپوزیشن پر “جھوٹ” پھیلانے اور یک طرفہ جھوٹ سے ملک کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔
وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ دراندازوں کے ذریعے منتخب ہوں تو ملک کیسے محفوظ کہلا سکتا ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ ’’جمہوریت کا فیصلہ درانداز نہیں کر سکتے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر تمام غیر ملکی شہریوں کو انتخابی فہرستوں سے نکال دے گا۔
شاہ نے یہ بھی متنبہ کیا کہ ایس آئی آر آرٹیکل 326 کے تحت الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور پارلیمنٹ اس پر بحث نہیں کر سکتی۔
جدوجہد آزادی میں جوش بھرنے والے منتر کا کردار ادا کرنے والے بنکم چندر چٹوپادھیائے کے تخلیق کردہ گیت ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر راجیہ سبھا میں تین روزہ بحث ایوان کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر جے پی نڈا کی اس اپیل کے ساتھ مکمل ہوئی کہ اس گیت کو قومی ترانے ’جن گَن من‘ کے برابر مقام ملنا چاہیے۔
بحث کے اختتام پر مسٹر نڈا نے کہا کہ وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اسے قومی ترانے کے مساوی مقام دیا جائے گا اور اسی کے برابر احترام ملے گا۔ انہوں نے اپنے تقریباً ایک گھنٹے طویل خطاب میں کہا، ’’ہم ’جن گن من‘ کا پورا احترام کرتے ہیں اور اس کے احترام کے لیے جان دینے کو تیار ہیں لیکن پنڈت جواہر لعل نہرو کی وجہ سے وندے ماترم کو وہ احترام اور مقام نہیں ملا جو اسے ملنا چاہئے۔‘‘ بحث میں 80 سے زیادہ ارکان نے حصہ لیا۔
بی جے پی صدر اور مرکزی وزیر مسٹر نڈا نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے دباؤ میں آکر کانگریس نے اکتوبر 1937 میں اپنی ورکنگ کمیٹی میں وندے ماترم کے مختصر ورژن کو اپنانے اور گانے کی تجویز منظور کی اور آئین ساز اسمبلی میں قومی ترانے کا فیصلہ صرف نو منٹ میں بغیر بحث کے کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ماں بھارتی اور بھارت ماتا جیسے الفاظ جن سنگھ، آر ایس ایس یا بی جے پی کے نہیں بلکہ ہمارے ثقافتی ورثے سے آئے ہیں لیکن کانگریس نے ان الفاظ پر سمجھوتہ کیا ہے۔ مسٹر نڈا کے بیان کے دوران کانگریس کے ملکارجن کھرگے اور جے رام رمیش نے کئی بار مداخلت کی کوشش کی اور اپوزیشن ارکان شور مچاتے رہے۔بی جے پی لیڈر نے کمل ناتھ حکومت کی جانب سے مدھیہ پردیش اسمبلی میں اجلاس کے پہلے دن وندے ماترم کی روایتی گانے کو ختم کیے جانے اور کرناٹک میں وزیر اعلیٰ کے ایک ویڈیو کا حوالہ دیا جس میں وہ اپنی پارٹی کارکنوں سے وندے ماترم گانے کی لازمی شرط نہ ہونے کا ذکر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کانگریس کی یہ عادتیں سو سال پرانی ہیں اور اسی لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس کو مسلم لیگی ماؤوادی کانگریس پارٹی کہا ہے۔‘‘
اسی ترتیب میں انہوں نے انگریزوں کے 1913 کے امتیازی سلوک پر مبنی وقف ایکٹ کو قبول کرنے، سندھ ریاست کی مسلم لیگ کے دباؤ پر بمبئی پریذیڈنسی کی تقسیم، محمد علی جناح کی مسلم لیگ کے دباؤ میں وندے ماترم کو مختصر کرنے، 1947 میں جناح کی سوچ کے مطابق تقسیم ہند کو قبول کر کے منقسم آزادی دینے اور آزادی کے فوراً بعد کشمیر پر قبائلی حملے کے بعد کشمیر کو تقسیم کرنے اور اس کے ساتھ دفعہ 370 جوڑنے کا ذکر کیا۔
مسٹر نڈا نے یہ بھی کہا کہ 1971 میں قومی ترانے، قومی پرچم اور قومی علامتوں کی توہین پر سزا کا جو قانون بنایا گیا، اس میں قومی گیت کی توہین پر کوئی شق شامل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ساتھ ’’ہماری لڑائی زمین کی تقسیم کی نہیں بلکہ نظریات کی لڑائی ہے۔ میں پھر واضح کرتا ہوں کہ ہم ’جن گَن من‘ کے احترام کے لیے جان دینے کو تیار ہیں۔ لیکن کوئی بھی ملک سمجھوتوں سے نہیں بلکہ سچائی اور تاریخ سے سبق لے کر چلتا ہے۔ قومی جذبات اور حب الوطنی سے چلتا ہے۔‘‘
مسٹر نڈا نے کانگریس ارکان کے اس دعوے کا بھی جواب دیا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں وندے ماترم کے مختصر ورژن کو اپنانے کے فیصلے میں سبھاش چندر بوس کی رائے لی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس ہر بات کا کریڈٹ نہرو جی کو دینا چاہتی ہے تو غلطیوں کے لیے نیتاجی سبھاش چندر بوس اور گرو دیو ربیندرناتھ ٹیگور کو ڈھال نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نہرو جی نے 1937 میں وندے ماترم کو قومی ترانہ بنانے کے خیال کو بے تکا قرار دیا تھا۔ وہ اسے ایک جدید قوم کے جذبے کے لحاظ سے قدامت پسند سوچ سمجھتے تھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر23 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا23 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
