تازہ ترین
سال 2019ء میں کھیلوں کے میدان میں کھڑے ہونے والے بڑے تنازعات
خبراردو:
سال 2019ء اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی کھیلوں کی دنیا میں متعدد مقابلوں کا انعقاد ہوا۔ ان مقابلوں میں کوئی جیتا تو کوئی ہارا، کوئی رویا اور کوئی ہنسا۔
لیکن کھیل کے میدان میں ہار جیت کے بعد جس معاملے کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، اسے تنازعات کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہ ایسی خطرناک بلا کا نام ہے، جو بڑے بڑے ناموں کو زیرو کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ نتائج کو بدلنے کے حوالے سے بھی خوب شہرت رکھتی ہے۔
اس سال بھی یہ تنازعات کھیلوں کے شائقین اور منتظمین کے لیے دردِ سر بنے رہے۔ سال کے ان اختتامی دنوں میں ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیے رواں سال ہونے والے چند اہم تنازعات کا جائزہ پیش کررہے ہیں۔
کرکٹ کے عالمی کپ کا متنازع ترین فائنل
اس سال انگلینڈ میں مئی کے اواخر سے جولائی کے وسط تک ایک روزہ کرکٹ کا عالمی کپ منعقد ہوا۔ اس عالمی کپ میں جہاں متعدد دلچسپ اور سنسنی خیز میچ دیکھنے کو ملے وہیں بہت سے اہم مقابلے بارش سے متاثر ہوئے۔
عالمی کپ میں پہلا تنازع اس وقت پیدا ہوا جب بہت سے ناقدین نے ٹورنامنٹ کے تمام میچوں کے لیے اضافی دن نہ رکھنے پر اعتراض اٹھایا۔ اس کے ساتھ ساتھ خراب امپائرنگ نے بھی بہت زیادہ دکھ پہنچایا۔
اس عالمی کپ کا فائنل لارڈز کے تاریخی میدان پر انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا۔ یہ فائنل اس اعتبار سے بھی دلچسپ تھا کہ جو ٹیم بھی جیتے گی وہ پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کرے گی۔
اس میچ میں نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 241 رنز جوڑے۔ بظاہر آسان نظر آنے والے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کو ابتدائی طور پر مشکلات کا سامنا رہا۔ ایک موقع پر انگلینڈ کے 4 کھلاڑی صرف 86 رنز پر آؤٹ ہوگئے تھے، جس کے بعد بین اسٹوکس اور جوس بٹلز نے 110 رنز کی شراکت قائم کرکے اپنی ٹیم کی امید بڑھائی۔ آخری اوور میں انگلینڈ کو جیت کے لیے 15 رنز درکار تھے۔
نیوزی لینڈ کے کپتان نے یہ آخری اوور کرنے کی ذمہ داری ٹرینٹ بولٹ کو سونپی۔ اس اوور کی پہلی 2 گیندوں پر کوئی رن نہیں بنا۔ تیسری گیند کو بین اسٹوکس نے 6 رنز کے لیے باؤنڈری سے باہر پھینک کر میچ میں سنسنی پیدا کردی۔ چوتھی گیند پر بین اسٹوکس نے ایک زوردار شاٹ کھیلا اور 2 رنز حاصل کیے۔
بس یہی وہ لمحہ ہے، جس نے دنیا بھر کی نظریں اپنی جانب متوجہ کرلیں اور ایک بھرپور تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ ہوا کچھ یوں کہ جس وقت انہوں نے دوسرا رن مکمل کرنے کے لیے اپنی کریز میں ڈائیو لگائی ٹھیک اس وقت فیلڈر کی جانب سے پھینکی گئی گیند آکر ان کے بلے سے ٹکرائی اور پلک جھپکنے میں باؤنڈری سے باہر چلی گئی۔ یوں جس گیند پر صرف 2 رنز بننے تھے اس پر انگلینڈ کو 6 رنز مل گئے، اور اب بقیہ 2 گیندوں پر انگلینڈ کو جیت کے لیے 3 رنز درکار تھے لیکن وہ صرف 2 رنز ہی بناسکے اور میچ ٹائی ہوگیا۔
ٹورنامنٹ کے قانون کے مطابق فائنل کو فیصلہ کن بنانے کے لیے سپر اوور کھیلا گیا، مگر حیران کن طور پر سپر اوور بھی ٹائی ہوگیا۔ عام کرکٹ شائقین کو تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اب ہوگا کیا؟ لیکن اس صورتحال سے نکلنے کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا قانون موجود تھا، اور اسی عجیب و غریب قانون کی بنیاد پر انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا۔
قانون کچھ یہ تھا کہ جس ٹیم نے بھی ٹائی ہونے کی صورت میں میچ میں زیادہ باؤنڈریز اسکور کی ہوں گی، وہی ٹیم فاتح تصور ہوگی۔
پھر میچ ختم ہونے کے محض چند گھنٹے بعد ہی آئی سی سی کے ایلیٹ پینل سے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے امپائر سائمن ٹوفل نے اس وقت صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا جب انہوں نے کرکٹ کے قوانین کی تشریح کرتے ہوئے یہ بات ثابت کردی کہ 50ویں اوور کی چوتھی گیند پر انگلیند کو اصل میں 5 رنز ملنے چاہیے تھے اور 6 رنز دے کر امپائر نے علطی کی۔
فائنل میچ کے اختتامی لمحات میں ہونے والے ان 2 واقعات نے انگلینڈ کی جیت کو متنازع بنادیا۔ یہ واقعات کرکٹ کا انتظام چلانے والے ادارے آئی سی سی کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ وہ اہم مقابلوں میں ایسے امپائر نامزد کریں جو قوانین کو صحیح طریقے سے سمجھتے ہوں۔
عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی جانب سے روس پر پابندی
سال کا یہ آخری مہینہ روس کے لیے کوئی اچھا پیغام لے کر نہیں آیا۔ سوئٹزرلینڈ میں 9 دسمبر کو عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) کے ایک اہم اجلاس میں روس پر 4 سال کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ یقینی طور پر روس کے لیے بڑا دھچکا ہے کیونکہ انہی 4 سالوں کے دوران یعنی اگلے سال ٹوکیو اولمپکس اور 2022ء میں قطر میں فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد ہونا ہے، اور اس پابندی کی وجہ سے روس ان میں شرکت نہیں کرسکے گا۔
اس فیصلے کا مطلب یہ بھی ہے کہ روس اگلے 4 سال تک کسی بھی بین الاقوامی مقابلے کی میزبانی بھی نہیں کرسکے گا۔
اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ روس کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ممنوعہ ادویات کی روک تھام کے لیے عالمی ادارے سے تعاون نہیں کر رہی۔
روس کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی پر عالمی ادارے کے احکامات نہ ماننے کا الزام عائد کرنے کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ روسی ادارے نے جنوری 2019ء میں عالمی ایجنسی کو جو ڈیٹا فراہم کیا تھا اس میں جان بوجھ کر تبدیلی کی گئی تھی۔
ماضی میں عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے ممنوعہ ادویات لینے کے الزام میں متعدد کھلاڑیوں پر تو پابندی عائد کی ہے، لیکن کسی ملک پر اس طرح کی پابندی کبھی نہیں لگائی گئی، اور اس اعتبار سے پابندی کا شکار ہونے والا روس پہلا ملک بن گیا ہے۔
وی اے آر ٹیکنالوجی سے متعلق تنازع
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عالمی کپ اور تنازعات ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر عالمی کپ میں ریفری کی غلطی سے ہونے والا تنازع اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ٹورنامنٹ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوچکا ہوتا ہے اور ایک غلطی کسی بھی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کرسکتی ہے۔
رواں سال فرانس میں خواتین کا عالمی فٹبال ورلڈ کپ کھیلا گیا۔ اس عالمی مقابلے میں انگلینڈ اور امریکا کے درمیان کھیلا جانے والا پہلا سیمی فائنل تنازعات کا شکار رہا۔
اس میچ میں امریکا نے 10ویں منٹ میں گول کرکے برتری حاصل کی، جسے 19ویں منٹ میں انگلینڈ نے برابر کردیا۔ کھیل کے 41ویں منٹ میں امریکا نے ایک اور گول کرکے اپنی برتری کو دوبارہ حاصل کرلیا۔
امریکا کی برتری کو ختم کرنے کے لیے انگلینڈ نے سر توڑ کوشش کی اور اسے اس محنت کا نتیجہ ٹھیک 26 منٹ بعد 67ویں منٹ میں اس وقت ملا جب انگلیند کی کھلاڑی ایلن وائٹ نے گیند کو جال میں پھینک دیا۔
اب بظاہر مقابلہ برابر ہوگیا تھا لیکن امریکا کے کھلاڑیوں نے وی اے آر (ویڈیو اسسٹنس ریفری) کے استعمال کی اپیل کی اور وی اے آر سے ثابت ہوا کہ انگلینڈ کی کھلاڑی کے پاؤں کا صرف انگوٹھا ہی آف سائیڈ پوزیشن میں تھا اور یوں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فیصلہ واپس لینا پڑگیا۔ لیکن یہ فیصلہ کسی بھی طور پر انگلینڈ کی کھلاڑیوں، آفیشلز اور کمنٹیٹرز کو ایک آنکھ نہ بھایا اور ان کے حمایتیوں نے بھی کھیل کے دوران اور میچ کے بعد اس فیصلے پر اپنی ناپسندیدگی کا کھل کر اظہار کیا۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ فٹبال کو تنازعات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہی وی اے آر ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا گیا تھا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بڑھتی ٹیکنالوجی جس کسی کے بھی خلاف فیصلہ دے، وہ ناخوش ہی رہتا ہے، بلکہ اس کو ایک تنازع کی شکل دینا شروع کردیتا ہے۔
اب اس میچ میں مزے کی بات تو اس وقت ہوئی جب 80ویں منٹ میں اسی وی اے آر ٹیکنالوجی کے استعمال سے انگلینڈ کو پنالٹی کک ملی۔ اب تو لگ رہا تھا کہ انگلینڈ کی ساری شکایتیں دُور ہونے والی ہیں، مگر حیران کن طور پر انگلینڈ کی ٹیم میچ برابر کرنے کے اس سنہری موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکی اور یوں امریکا نے یہ میچ جیت کر فائنل میں جگہ بنا لی۔
ویسے مجھے یقین ہے کہ اگر انگلینڈ کی ٹیم اس پنالٹی کک سے فائدہ اٹھا لیتی تو وی اے آر سے متعلق اس کی شکایت بہت حد تک کم ہوجاتی۔
لباس کی وجہ سے کھڑا ہونے والا تنازع
رواں سال آسٹریلوی ٹینس کھلاڑی نک کِرگیوس کو یو ایس اوپن کے دوران اس وقت ایک تنازع کا سامنا کرنا پڑا جب اس ٹورنامنٹ کے دوسرے راؤنڈ کے دوران ان کی جرسی کے کالر پر لکھے ہوئے الفاظ کی وجہ سے میچ ریفری نے انہیں کالر نیچے کرنے کا حکم دیا۔
نک کِرگیوس نے ریفری کے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور سپروائزر کو ٹینس کے قوانین کی کتاب لانے کو کہا۔ نک کِرگیوس کو امپائر کے ساتھ اس بحث و مباحثے کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کو ٹورنامنٹ کے اگلے راؤنڈ کے میچوں کے لیے اپنے کالر پر لکھے الفاظ چھپانے کی ممانعت سے آزادی مل گئی۔
جرسی کے کالر پر لکھے ہوئے الفاظ کی وجہ سے میچ ریفری نے نک کِرگیوس کو کالر نیچے کرنے کا حکم دیا—اے ایف پی|ٹوئٹر
نک کِرگیوس کو جو کوئی بھی جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ وہ گرم مزاج کے کھلاڑی ہیں۔
ان کا وہ واقعہ بہت مشہور ہے جب انہوں نے ٹینس کی عالمی تنظیم ATP کو اس وقت نہایت کرپٹ قرار دیا جب ایک صحافی نے میچ ریفری سے بدتمیزی کرنے پر 1 لاکھ 67 ہزار امریکی ڈالرز کے جرمانے سے متعلق ان سے سوال پوچھا تھا۔
تاریخ میں شاید ہی ایسا کوئی سال گزرا ہو جس میں مختلف کھیلوں کے میدان تنازعات سے آزاد رہے ہوں۔
یہ درست ہے کہ کھلاڑی اپنے مداحوں کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں لیکن یہ کھلاڑی بھی جذبات رکھتے ہیں۔ جیت کے لیے سالہا سال تیاری کرتے ہیں لیکن بعض اوقات جب یہ اپنی محنت کو ضائع ہوتے دیکھتے ہیں تو جذبات میں آکر کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتے ہیں جو ان کے لیے اور ان کے ملک کے لیے بدنامی کا باعث بنتی ہے۔
ویسے تو کھیل کے میدان میں اور بھی کئی ایسے تنازعات ہوئے ہوں گے جن کا یہاں ذکر کرنا رہ گیا، مگر چونکہ یہ عالمی سطح کا معاملہ تھا، اس لیے سوچا کہ قارئین کے ساتھ اس کو شئیر کیا جائے۔بشکریہ ڈان
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
