تازہ ترین
سرحدوں پر تناﺅ کب کم ہو گا ؟
خبر اردو ڈیسک:
پاکستان اور بھارتی افواج کے مابین لائین آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر مسلسل جاری سیزفائر خلاف ورزیوں کے بیچ بدھ کی رات کو پاک فوج کی فائرنگ سے اوڑی میں ایک خاتون جبکہ رام پور سیکٹر میں پاکستانی فائرنگ سے ایک جونیئر کمشنڈ آفیسر ہلاک ہو گئے ہیں ۔
فوجی ترجمان کے مطابق پاکستانی فوج کی جانب سے رام پور سیکٹر میں سیز فائر کی خلاف ورزی میں ایک جونیئر افسر ہلاک ہوا ہے ۔
۵ اگست کو جموں کشمیر کے متعلق لئے گئے فیصلے کے بعد سرحدوں پر تناﺅ میں مزید اضافہ دیکھا گیا اور سیز فائر خلاف ورزی سے دونوں اطراف سے عام شہری نشانہ بنے ، جبکہ اس دوران کئی لوگوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑیں اور کہیں تو نقل مکانی کےلئے بھی مجبور ہوئے ۔
رواں سال اگست سے اکتوبر تک کےان تین ماہ میں ایل او سی پر ۹۵۰ بار پاکستان کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ۔ جبکہ اسی دوران جموں میں بین الاقوامی سرحد پر ۸۰ مرتبہ جنگ بندی کیخلاف ورزی کی گئی _´۔
رواں سال ستمبر میں وزارت خارجہ کی جانب سے اعدادوشمار پیش کر تے ہوئے جانکاری دی گئی تھی امسال پاکستان نے ۲۰۵۰ مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جس دوران فورسز سمیت ۱۲ افراد نے اپنی جانیں گنوائی ۔
جنگ بندی معاہدے کے متعلق اعدادوشمار:
دونوں اطراف سے فوج اور عام شہریوں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کے بعد ۲۰۰۳ میں دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی معاہدہ طے پایا گیا تھا ۔ اس معاہدے کے کچھ سال تک دونوں اطراف میں رہنے میں عام شہریوں کو راحت ملی اور وہ امن و سکون سے رہنے لگے کیوں کہ دونوں کی فوجوں نے اس معاہدے کا احترام دیکھا یا ۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر پھر سے گولہ باری کی نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا ۔
بھارت اور پاکستان کے مابین ۱۹۸ کلو میٹر بین الاقوامی سرحد ملتی ہے ۔ وہیں بھارت والے جموں کشمیر اور پاک زیر انتظام کشمیر کے درمیان ۷۴۰ کلو میٹر کی لمبی سرحد ہے ۔
اعدادو شمار پر نظر ڈالیں تو ۲۰۱۸ میں پاکستان نے گزشتہ۱۵ سال مقابلے میں سب سے زیادہ سیز فائر خلا ورزی کی تھی ۔ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان نے ۲۹۰۰ مرتبہ خلاف ورزی کی تھی ، جس دوران فورسز سمیت ۰۶ لوگ مارے گئے تھے ۔
اسی طرح سے ۲۰۱۷ میں پاکستان نے ایل او سی اور آئی بی پر۷۷۰ مرتبہ خلاف ورزی کی تھی جبکہ۲۰۱۶ میں ۴۵۰ مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کیگئی ۔
۲۰۱۵ میں ۴۰۵ مرتبہ ، ۲۰۱۴ میں ۵۸۳ مرتبہ ، ۲۰۱۳ میں ۴۰۵ مرتبہ ،۲۰۱۲ میں ۱۱۴ مرتبہ ، ۲۰۱۱ میں ۶۲ مرتبہ اور ۲۰۱۰ میں ۷۰ مرتبہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی دیکھی گئی ۔
جبکہ اس دورا ن کئی مکانوں کو نقصان ہونے کےلئے ہلاکتیں بھی ریکارڈ کی گئی ہیں ۔
۲ سال میں ۳۸ فیصد بینکر بنائے گئے :
پاکستان پر بڑھتی گولہ باری اور اس سے ہوئے رہے جان و مال کو دیکھتے ہوئے سرحد پر رہنے والے لوگوں کی کافی عرصے سے مانگ تھی کہ انہیں زیر زمین بینکر بنا کر دئے جائیں ۔ اس ضمن میں ۲۰۱۷ میں مرکزی سرکار نے جموں کشمیر کو ان بینکروں کی تعمیر کےلئے
۴۱۶ کروڑ روپئے کی منظوری دی ۔ دو سال سے چل رہے کام کے بعد پتہ چلا ہے کہ ابھی تک صرف ۳۸ فیصد بینکر ہی مکمل ہو ئے ہیں ۔جموں کشمیر حکومت نے روا ں سال جنوری میں کہا تھا کہ جون تک ۹۰ فیصد بینکر تعمیر کئے جائیں گے
زیر زمین بینکروں میں سے ۷۳۰۰ پونچھ اور راجوری وہیں ۷۱۶۰ بینکر کھٹوا اور سانبہ اضلاع میں تعمیر کئے جا رہے ہیں ۔
جبکہ کل ۱۴۵۰۰ بینکروں میں سے ابھی تک صرف ۵۵۰۰ کے قریب بینکر ہی بن پائے ہیں ۔جن میں سے ۱۲۳۴ سانبہ ضلع، ۹۱۸ جموں میں اور ۱۱۹۳ بینکر کھٹوا میں بنائے گئے ہیں ۔اس طرح سے پونچھ میں ۶۸۸ اور راجوری میں ۱۷۴۴ بینکر ہی ابھی تک بن پائے ہیں۔
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
زمبابوے میں فیری الٹنے سے کم از کم 15 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ
ہرارے، زمبابوے کی سول پروٹیکشن یونٹ کے مطابق جھیل کاریبا میں گنجائش سے زیادہ مسافروں سے بھری ایک فیری الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ 27 لاپتہ ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق کشتی منگل کو تیز لہروں کی زد میں آکر الٹ گئی۔ حادثے کے بعد کم از کم 77 افراد کو بچا لیا گیا۔
سول پروٹیکشن یونٹ نے بتایا کہ یہ کشتی شمالی شہر کاریبا کو جھیل میں واقع متعدد جزائر اور ماہی گیری کے کیمپوں سے ملانے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ حادثے کے وقت فیری اپنی مقررہ گنجائش 90 افراد سے زیادہ مسافروں کو لے جا رہی تھی۔
حکام نے کہا کہ کشتی میں موجود مسافروں اور عملے کی حتمی تعداد ابھی معلوم نہیں ہوسکی، تاہم رجسٹرڈ ٹکٹوں کی بنیاد پر کم از کم 114 بالغ مسافروں اور عملے کے پانچ ارکان کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق کشتی میں ٹکٹ خریدنے کی عمر سے کم تعداد میں بچے بھی سوار ہوسکتے تھے جن کا ابھی تک حساب نہیں لگایا جاسکا۔
زمبابوے کی قومی پولیس نے بتایا کہ امدادی اور تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نے ایسی ویڈیو نشر کی جس میں تیز رفتار کشتیاں جھیل میں الٹی ہوئی کشتی کی جانب جاتی دکھائی دیں جبکہ ایک ہیلی کاپٹر اوپر پرواز کر رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق تلاش اور امداد کے لیے زیر آب کارروائی کرنے والی ٹیم بھی وسیع جھیل میں تعینات کی گئی ہے۔
حادثے کے عینی شاہد میکسٹن کانہیما نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ کشتی خراب موسم کے دوران روانہ ہوئی تھی اور ممکنہ طور پر ایک بڑی لہر کشتی سے ٹکرائی، جس کے باعث اس کے انجن بند ہوگئے۔انہوں نے کہا، ’’جب ہم پانی میں تھے تو ایک ہنگامی اشارہ نظر آیا، جس کے بعد قریب موجود کشتیوں نے مدد کے لیے رخ کیا۔‘‘
کانہیما کے مطابق ماتوسادونا نیشنل پارک نے امدادی کارروائی میں مدد کے لیے ایک ہیلی کاپٹر فراہم کیا، جبکہ بڑی کشتیاں اور مقامی علاقے اور فوج کے غوطہ خور بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا، ’’لوگ مشکل میں تھے… پانی میں لاشیں موجود تھیں اور یہ ایک انتہائی افسوسناک منظر تھا۔ جن لوگوں کو بچایا جاسکتا تھا، انہیں بچا لیا گیا۔‘‘
ان کے مطابق خراب موسم کے باعث امدادی کارروائی میں کچھ تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی جگہ تک پہنچنے میں وقت لگا اور بدقسمتی سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔
جھیل کاریبا زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد پر دارالحکومت ہرارے سے 300 کلومیٹر سے زیادہ شمال مشرق میں واقع ہے۔ حجم کے اعتبار سے یہ دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل ہے۔
یہ جھیل 1950 کی دہائی کے اواخر اور 1960 کی دہائی کے اوائل میں دریائے زمبیزی کا راستہ روکنے کے لیے ڈیم تعمیر کرکے بنائی گئی تھی۔ پانی بھرنے کے بعد وجود میں آنے والی یہ وسیع جھیل اب 200 کلومیٹر سے زیادہ طویل اور بعض مقامات پر 40 کلومیٹر تک چوڑی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثیوں کے باب المندب میں بحری جہاز پر حملے میں 6 افراد ہلاک، یمنی حکومت کا دعویٰ
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی باغیوں نے باب المندب آبنائے میں ایک مال بردار جہاز پر دو مرحلوں میں حملہ کرکے کم از کم 6 افراد کو ہلاک اور 10 کو زخمی کردیا۔
مصر کی ملکیت والے بحری جہاز تہامہ پر منگل کو ہونے والا یہ حملہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد حوثیوں سے منسوب بحری جہازوں پر ایسا پہلا حملہ ہے جس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
یمن کی وزارتِ نقل و حمل کے مطابق حوثیوں نے تجارتی جہاز پر تین بیلسٹک میزائل داغے، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور اسے ’’شدید نقصان‘‘ پہنچا۔
وزارت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔
یمن کی کوسٹ گارڈ نے ایک الگ بیان میں کہا کہ امدادی اہلکار جب ہلاک اور زخمی افراد کو جہاز سے نکال رہے تھے تو حوثیوں نے ایک اور میزائل داغ دیا۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق، ’’حملہ امدادی کارروائی کے مقام پر ہوا، جس کے نتیجے میں امدادی کارروائی میں حصہ لینے والی فورسز کے اہلکار بھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘‘
دوسرے حملے میں کم از کم دو فوجی ہلاک ہوئے۔
حکام کے مطابق مجموعی طور پر 10 افراد زخمی ہوئے، جن میں جہاز کے سات عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔
یمن کی وزارت خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے خلاف محض مذمت تک محدود نہ رہے بلکہ ’’مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی‘‘ کرے۔
حوثیوں کی جانب سے اس حملے پر فوری طور پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا گیا۔تاہم حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے صبا نے رپورٹ کیا کہ گروپ نے باب المندب میں فوجی سازوسامان لے جانے والے ایک سعودی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں جہاز کا نام نہیں بتایا گیا اور سعودی عرب کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایک الگ واقعے میں امریکی فوج نے منگل کو کہا کہ اس نے خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک بحری جہاز پر فائرنگ کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے پاناما کے پرچم والے مال بردار جہاز ویلا نووا پر دو ہیل فائر میزائل داغے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ عملے کا کوئی رکن زخمی ہوا یا نہیں۔
یمن میں تازہ کشیدگی حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان کئی سال سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ 2022 کی جنگ بندی اس وقت ختم ہوئی جب 13 جولائی کو سعودی عرب نے صنعا ہوائی اڈے کے رن وے پر فضائی حملہ کیا، جس کے باعث ایک ایرانی پرواز کو اترنے سے روک دیا گیا۔ اس پرواز میں حوثیوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سوار تھا۔اس کے بعد حوثیوں نے جنوب مغربی سعودی عرب میں ابہا ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا اور بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا۔
حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں اور مملکت کی تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جس سے عالمی معیشت میں مزید خلل پیدا ہوا۔
جواباً سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثیوں کے زیر قبضہ حدیدہ اور بحیرۂ احمر کے سب سے بڑے جزیرے کمران کو نشانہ بنایا۔
حوثیوں نے یمن میں حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں پر بھی حملے کیے، جن میں بحیرۂ احمر کا ساحلی شہر المخا (موکا) اور وسطی شہر مارب شامل ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں فوجی اور شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے منگل کو کہا کہ حوثیوں نے ملک کے مغربی ساحل پر مختلف مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے مزید حملوں کے دوران 10 میزائل اور چار ڈرون داغے۔
دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے المخا اور وسطی صوبہ مارب میں سعودی فوجی اجتماع، ہتھیاروں کے ذخائر اور کمانڈ پوسٹوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی یمن کو ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں گھسیٹ سکتی ہے، جس کے یمنی عوام کے لیے ’’تباہ کن نتائج‘‘ ہوں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا18 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
